صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ: باب: حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کا جواز۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ الضُّبَعِيَّ ، قَالَ : تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَمَرَنِي بِهَا ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْبَيْتِ فَنِمْتُ ، فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي ، فَقَالَ : " عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ " ، قَالَ : فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي رَأَيْتُ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .ابوحمزہ ضبعی نے کہا: میں نے حج تمتع (کا ارادہ) کیا تو (متعدد) لوگوں نے مجھے اس سے روکا، میں (اسی شش و پنج میں) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس معاملے میں استفسار کیا تو انہوں نے مجھے اس (حج تمتع) کا حکم دیا۔ کہا پھر میں اپنے گھر لوٹا اور آ کر سو گیا، نیند کے دوران خواب میں میرے پاس ایک شخص آیا۔ اور کہا (تمہارا) عمرہ قبول اور (تمہارا) حج مبرو (ہر عیب سے پاک) ہے۔ انہوں نے کہا میں (دوبارہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو دیکھا تھا۔ کہہ سنایا۔ وہ (خوشی سے) کہہ اٹھے (عربی۔۔۔۔۔۔۔۔۔) یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے (تمہارا خواب اسی کی بشارت ہے)۔
تشریح، فوائد و مسائل
جب حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ کی رائے جو خلفائے راشدین میں سے ہیں حدیث کے خلاف مقبول نہ ہو تو اور مجتہد یا مولوی کس شمار میں ہیں۔
ان کا فتوی حدیث کے برخلاف لچر اور پوچ ہے۔
(وحیدی)
اس لیے حضرت شاہ ولی اللہ مرحوم نے فرمایا ہے کہ جو لوگ صحیح مرفوع احادیث کے مقابلہ پر قول امام کو ترجیح دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے یہی کافی ہے پس اللہ کے ہاں جس دن حساب کے لیے کھڑے ہوں گے ان کا کیا جواب ہو سکے گا۔
صد افسوس کہ یہود و نصاریٰ میں تقلید شخصی کی بیماری تھی جس نے مسلمانوں کو بھی پکڑ لیا اور وہ بھی ﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ﴾ (التوبة: 31)
کے مصداق بن گئے یعنی ان لوگوں نے اپنے مولویوں درویشوں کو خدا کے سوا اپنا رب ٹھہرا لیا، یعنی خدا کی طرح ان کی فرمانبرداری کو اپنے لیے لازم قرار دے لیا۔
اسی کا نام تقلید جامد ہے جو سب بیماریوں کی جڑ ہے۔
(1)
امام بخاری ؒنے آیت کریمہ کو عنوان بنایا ہے۔
اس آیت میں کئی ایک مسائل ہیں لیکن امام بخاری نے ہدی اور تمتع کا حکم بیان کیا ہے۔
ایک سفر میں دو عبادتوں حج اور عمرے کو ادا کرنا تمتع ہے، اس لیے ہدی سے مراد تمتع کی ہدی اور قران کی ہدی دونوں ہیں۔
آیت کریمہ میں اگرچہ ہدی تمتع کا ذکر ہے لیکن ہدی قران بھی اس سے مراد لی جا سکتی ہے۔
حج تمتع میں عمرے کے بعد احرام کھول دیا جاتا ہے اور بیوی سے ہم بستری کرنا بھی جائز ہوتا ہے۔
اور حج قران میں عمرے کو حج کے ساتھ جمع کرنا ہے۔
(2)
واضح رہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک ہدی سے مراد بکری ہے۔
اس میں اشتراک نہیں ہو سکتا، البتہ اونٹ اور گائے میں حصہ رکھا جا سکتا ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ اگرچہ اس کے قائل نہیں تھے لیکن انہوں نے رجوع کر لیا تھا، چنانچہ شعبی ؒ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے دریافت کیا: آیا اونٹ اور گائے میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ ان میں سات جانیں ہوتی ہیں؟ میں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ اور گائے کو سات آدمیوں کی طرف سے کافی قرار دیا ہے۔
انہوں نے فرمایا: واقعی ایسا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔
انہوں نے فرمایا: مجھے اس کا علم نہیں۔
(مسند أحمد: 409/5 وإسنادہ ضعیف) (3)
آدم کی روایت کو امام بخاری نے، وہب بن جریر کے طریق کو امام بیہقی ؒ نے اور غندر کی روایت کو امام احمد نے اپنی متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 676/3)
خواب کوئی شرعی حجت نہیں ہے۔
مگر نیک لوگوں کے خواب جب شرعی امور کی تائید میں ہوں تو ان کے صحیح ہونے کا ظن غالب ہوتا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے حج تمتع کو رسول اللہ ﷺ کی سنت بتلایا اور سنت کے موافق جو کوئی کام کرے وہ ضرور اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہوگا۔
سنت کے موافق تھوڑی سی عبادت بھی خلاف سنت بڑی عبادت سے زیادہ ثواب رکھتی ہے۔
علمائے دین سے منقول ہے کہ ادنیٰ سنت کی پیروی جیسے فجر کی سنتوں کے بعد لیٹ جانا درجہ میں بڑے ثواب کی چیز ہے۔
یہ ساری نعمت آنحضرت ﷺ کی کفش برداری کی وجہ سے ملتی ہے۔
پروردگار کو کسی کی عبادت کی حاجت نہیں۔
اس کو یہی پسند ہے کہ اس کے حبیب ﷺ کی چال ڈھال اختیار کی جائے۔
حافظ ؒ فرماتے ہیں: وَيُؤْخَذُ مِنْهُ إِكْرَامُ مَنْ أَخْبَرَ الْمَرْءَ بِمَا يَسُرُّهُ وَفَرَحُ الْعَالِمِ بِمُوَافَقَتِهِ الْحَقَّ وَالِاسْتِئْنَاسُ بِالرُّؤْيَا لِمُوَافَقَةِ الدَّلِيلِ الشَّرْعِيِّ وَعَرْضُ الرُّؤْيَا عَلَى الْعَالِمِ وَالتَّكْبِيرُ عِنْدَ الْمُسِرَّةِ وَالْعَمَلُ بِالْأَدِلَّةِ الظَّاهِرَةِ وَالتَّنْبِيهُ عَلَى اخْتِلَافِ أَهْلِ الْعِلْمِ لِيُعْمَلَ بِالرَّاجِحِ مِنْهُ الْمُوَافِقِ لِلدَّلِيلِ۔
(فتح)
یعنی اس سے یہ نکلا کہ اگر کوئی بھائی کسی کے پاس کوئی خوش کرنے والی خبر لائے تو وہ اس کا اکرام کرے اور یہ بھی کہ کسی عالم کی کوئی بات حق کے موافق پڑ جائے تو وہ خوشی کا اظہار کرسکتا ہے اور یہ بھی کہ دلیل شرعی کے موافق کوئی خواب نظر آجائے تو اس سے دلی مسرت حاصل کرنا جائز ہے اور یہ بھی کہ خواب کسی عالم کے سامنے پیش کرنا چاہیے اور یہ بھی کہ خوشی کے وقت نعرہ تکبیر بلند کرناد رست ہے اور یہ بھی کہ ظاہر دلائل پر عمل کرنا جائز ہے اور یہ بھی کہ اختلاف کے وقت اہل علم کو تنبیہ کی جاسکتی ہے کہ وہ اس پر عمل کریں جو دلیل سے راجح ثابت ہو۔
(1)
حدیث میں مذکور واقعہ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کے دور حکومت میں پیش آیا۔
(2)
حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ حج تمتع سے لوگوں کو منع کرتے تھے۔
ان کا موقف تھا کہ حج تمتع کسی مجبوری کے پیش نظر کیا جا سکتا ہے، عام حالات میں کرنا صحیح نہیں، لیکن ان کا یہ موقف جمہور اہل علم کے خلاف ہے۔
جب ابو جمرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے اللہ أکبر کہا اور فرمایا: ایسا کرنا تو رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔
پھر ابو جمرہ بیت اللہ گئے اور طواف کیا، انہیں وہیں نیند آ گئی تو خواب میں حج تمتع کے قبول ہونے کی بشارت دی گئی۔
ایک روایت میں ہے کہ خواب میں آنے والے نے کہا: آپ کا حج تمتع قبول ہوا۔
(فتح الباري: 542/3)
اس میں کسی قسم کی قباحت برائی اورگناہ نہیں ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو چکا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 932]
1؎:
مگر حرمت والے مہینوں کا حج کے لیے احرام باندھنے سے کوئی تعلق نہیں ہے، امام رحمہ اللہ نے ان کا ذکر صرف وضاحت کے لیے کیا ہے تاکہ دونوں خلط ملط نہ جائیں۔
نوٹ:
(سند میں یزید بن ابی زیادضعیف ہیں، لیکن متابعات وشواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ عمرہ ہے، ہم نے اس سے فائدہ اٹھایا لہٰذا جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ پوری طرح سے حلال ہو جائے، اور عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو گیا ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ (مرفوع حدیث) منکر ہے، یہ ابن عباس کا قول ہے نہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1790]
➋ چونکہ قبل از اسلام لوگ ایام حج میں عمرہ کرنا کبیرہ گناہ سمجھتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی ممانعت کرتے ہوئے شریعت اسلام کی بات تاکید کے ساتھ نافذ فرمائی۔
طاؤس کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ مروہ کے پاس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کترے تھے (میں یہ اس لیے بیان کر رہا ہوں تاکہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ معاویہ ہیں جو لوگوں کو تمتع سے روکتے ہیں حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع کیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2738]
(2) ”ابن عباس نے کہا: نہیں۔“ یعنی میں نہیں جانتا۔ لیکن صحیح مسلم کی روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ یہ ہیں: [لَاأَعْلَمُ ھِٰہِ اِلَّا حُجّقۃً عَلَیْکَ] (صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1246) میں تو اسے آپ کے موقف کے خلاف سمجھتا ہوں کیونکہ آپ تمتع سے روکتے ہیں۔ اور مروہ پر آپ کا رسول اللہﷺ کی حجامت بنانا دلیل ہے کہ رسول اللہﷺ عمرے کے بعد حلال ہوئے تھے، لہٰذا رسول اللہﷺ کا حج تمتع ہوا تو پھر تم کیوں روکتے ہو؟ باب والی روایت کے آخری الفاظ بھی اسی معنیٰ (صحیح مسلم والی روایت کے معنیٰ) کی تائید کرتے ہیں۔ گویا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حجامت بنانے والے واقعے کو حجۃ الوداع سے قبل عمرے پر محمول کیا ہے۔ مگر صریح روایات میں ان کے خلاف ہیں، اس لیے بعض محققین نے مروہ پر حجامت بنانے کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی غلط فہمی یا نسیان وخطا پر محمول کیا ہے۔ واللہ أعلم
(3) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا تمتع سے روکنا حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اقتدا کے طور پر تھا۔
(4) خلاف سنت کام کی تردید ضروری ہے چاہے کرنے والا کوئی بھی ہو کیونکہ حق سب سے بڑا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا ہے، تو جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ پورے طور پر حلال ہو جائے، کیونکہ عمرہ حج میں شامل ہو گیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2817]
(2) ”عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے۔“ اس کے مختلف مفہوم بیان کیے گئے ہیں: *حج کے دنوں میں عمرہ کیا جا سکتا ہے، کوئی پابندی نہیں۔ *حج اور عمرہ اکٹھے ہوگئے، لہٰذا حج کا احرام باندھ کر عمرہ کرنے کے بعد حلال ہو سکتا ہے۔ *عمرے کے افعال الگ ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر حج اور عمرہ اکٹھے (قران کی صورت میں) ادا ہو رہے ہیں تو صرف حج کے افعال کافی ہیں۔ صرف نیت میں عمرہ ہوگا۔ افعال حج ہی کے ہوں گے۔ یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی رائے ہے۔ *عمرہ حج میں داخل ہے، لہٰذا حج فرض ہونے کے بعد عمرہ ضروری نہیں رہا۔ حج ہی سے کفایت ہو جائے گی۔ ان چاروں معانی میں سے پہلے معنیٰ متفق علیہ ہیں۔ دوسرے معنیٰ صرف امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک، تیسرے معنیٰ امام شافعی کے نزدیک اور چوتھے معنیٰ صرف احناف کے نزدیک معتبر ہیں۔ واللہ أعلم