صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْمُحْرِمَ بِعُمْرَةٍ لَّا يَتَحَلَّلُ بِالطَّوَافِ قَبْلَ السَّعْيِ وَأَنَّ الْمُحْرِمَ بِحَجٍّ لَّا يَتَحَلَّلُ بِطَوَافِ الْقُدُومِ وَكَذٰلِكَ الْقَارِنُ باب: عمرہ کا احرام باندھنے والا سعی کرنے سے پہلے طواف کے ساتھ حلال نہیں ہو سکتا اور نہ ہی حج کا احرام باندھنے والا طواف قدوم سے پہلے حلال ہو سکتا ہے یعنی احرام نہیں کھول سکتا، اور اسی طرح قارن۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ : سَلْ لِي عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنْ رَجُلٍ يُهِلُّ بِالْحَجِّ فَإِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَيَحِلُّ أَمْ لَا ؟ ، فَإِنْ قَالَ لَكَ : لَا يَحِلُّ ، فَقُلْ لَهُ : إِنَّ رَجُلًا يَقُولُ ذَلِكَ ، قَالَ : فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " لَا يَحِلُّ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ إِلَّا بِالْحَجِّ " ، قُلْتُ : فَإِنَّ رَجُلًا كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ ، قَالَ : بِئْسَ مَا قَالَ ، فَتَصَدَّانِي الرَّجُلُ فَسَأَلَنِي فَحَدَّثْتُهُ ، فَقَالَ : فَقُلْ لَهُ : فَإِنَّ رَجُلًا كَانَ يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ ، وَمَا شَأْنُ أَسْمَاءَ وَالزُّبَيْرِ قَدْ فَعَلَا ذَلِكَ ، قَالَ فَجِئْتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ ، فَقُلْتُ : لَا أَدْرِي ، قَالَ : فَمَا بَالُهُ لَا يَأْتِينِي بِنَفْسِهِ يَسْأَلُنِي أَظُنُّهُ عِرَاقِيًّا ، قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، قَالَ : فَإِنَّهُ قَدْ كَذَبَ : " قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ " ، ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ، ثُمَّ عُمَرُ مِثْلُ ذَلِكَ ، ثُمَّ حَجَّ عُثْمَانُ ، فَرَأَيْتُهُ أَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ، ثُمَّ مُعَاوِيَةُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ ، ثُمَّ آخِرُ مَنْ رَأَيْتُ فَعَلَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ ، ثُمَّ لَمْ يَنْقُضْهَا بِعُمْرَةٍ ، وَهَذَا ابْنُ عُمَرَ عِنْدَهُمْ أَفَلَا يَسْأَلُونَهُ ، وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ مَضَى مَا كَانُوا يَبْدَءُونَ بِشَيْءٍ حِينَ يَضَعُونَ أَقْدَامَهُمْ ، أَوَّلَ مِنَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ لَا يَحِلُّونَ ، وَقَدْ رَأَيْتُ أُمِّي وَخَالَتِي حِينَ تَقْدَمَانِ ، لَا تَبْدَآنِ بِشَيْءٍ أَوَّلَ مِنَ الْبَيْتِ تَطُوفَانِ بِهِ ، ثُمَّ لَا تَحِلَّانِ ، وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَقْبَلَتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ قَطُّ ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا ، وَقَدْ كَذَبَ فِيمَا ذَكَرَ مِنْ ذَلِكَ .محمد بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ ایک عراقی آدمی نے مجھے یہ کہا، میری خاطر، عروہ بن زبیر سے دریافت کیجئے، ایک آدمی حج کا احرام باندھتا ہے، تو جب وہ بیت اللہ کا طواف کر لیتا ہے، تو کیا وہ حلال ہو جائے گا یا نہیں؟ اگر وہ تمہیں یہ جواب دیں کہ وہ حلال نہیں ہو گا، تو ان سے کہنا، ایک آدمی اس کا قائل ہے، تو میں نے عروہ سے اس کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے کہا، جو حج کا احرام باندھتا ہے، وہ حج سے فراغت کے بعد حلال ہو گا، میں نے کہا، ایک آدمی کا یہی قول ہے، تو انہوں نے کہا، ان سے کہنا، ایک آدمی بتاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کیا ہے، اور کیا وجہ ہے حضرت اسماء اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بھی ایسا کیا ہے، میں ان (عروہ) کے پاس آیا، اور ان سے اس کا تذکرہ کیا، انہوں نے کہا، یہ سائل کون ہے؟ میں نے کہا، میں نہیں جانتا، انہوں نے کہا، کیا وجہ ہے وہ خود آ کر مجھ سے سوال کیوں نہیں کرتا؟ میرا گمان ہے وہ عراقی ہے، میں نے کہا، مجھے معلوم نہیں، انہوں نے کہا، اس نے غلط کہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا، تو مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پہنچ کر سب سے پہلا کام یہ کیا، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کیا، اور سب سے پہلا کام یہی کیا کہ بیت اللہ کا طواف کیا، پھر وہ حج کے سوا نہیں بنا، پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسے ہی کیا، پھر عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کیا، میں نے انہیں دیکھا، انہوں نے سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا، اور وہ حج کے سوا نہیں بنا، پھر میں نے اپنے باپ زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ حج کیا، انہوں نے بھی سب سے پہلا کام یہی کیا کہ بیت اللہ کا طواف کیا، پھر وہ حج کے سوا نہیں بنا، پھر میں نے مہاجرین اور انصار کو ایسے کرتے دیکھا، لیکن ان کا حج ہی رہا (یعنی کسی کا حج طواف قدوم سے فسخ ہو کر عمرہ نہیں بنا) پھر آخری شخص جس کو میں نے یہ کام کرتے دیکھا، وہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، انہوں نے حج کو فسخ کر کے عمرہ نہیں بنایا، یہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود ہیں، ان سے کیوں نہیں پوچھتے؟ جو صحابہ کرام فوت ہو چکے ہیں، جب وہ مکہ میں قدم رکھتے، بیت اللہ کے طواف سے پہلے کوئی کام نہیں کرتے تھے، پھر وہ حلال نہیں ہوتے تھے، میں نے اپنی والدہ اور خالہ (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کو دیکھا ہے، وہ جب آتی ہیں، طواف سے پہلے کوئی کام نہیں کرتی ہیں، اس کے باوجود حلال نہیں ہوتی ہیں، اور مجھے میری والدہ نے بتایا ہے کہ وہ اس کی بہن، زبیر اور فلاں فلاں نے فقط عمرہ کیا، جب انہوں نے رکن اسود کا بوسہ لیا، تو حلال ہو گئے، عراقی نے جو بیان کیا ہے وہ غلط ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے ثابت ہوا طواف بیت اللہ سے پہلے وضو کرنا ضروری ہےامام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اور محدثین کے نزدیک طواف کے لیے با وضو ہونا شرط ہے اس کے بغیر طواف نہیں ہو گا۔
احناف کے نزدیک طہارت شرط نہیں ہے بلکہ واجب ہے اگر بلا طہارت طواف کرے گا تو طواف ہو جائے لیکن ترک واجب کی بنا پر ایک بکری کی قربانی دینی ہو گی۔
2۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا موقف یہ ہے کہ جو انسان حج افراد کا احرام باندھتا ہے اگر وہ قربانی ساتھ نہیں لاتا اور آ کر بیت اللہ کا طواف کر لیتا ہے تو اس کا یہ طواف اور سعی عمرہ میں بدل جائیں گے اور حج فسخ ہو جائے گا۔
کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں یہی حکم دیا تھا کہ جن کے پاس ہدی نہیں ہے وہ سب حلال ہو جائیں اور اس حدیث کا آخری حصہ: (فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا)
(وہ رکن اسود کو بوسہ دینے سے فارغ ہو گئے (حلال ہوگئے)
یعنی جب انھوں نے طواف قدوم کر لیا اور اس کے بعد سعی کر لی تو حلال ہو گئے یہی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نظریہ ہے اور جو لوگ حلال نہیں ہوئے وہ وہی تھے جن کے پاس قربانیاں تھیں لیکن اکثر آئمہ اور بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا موقف یہ ہے فسخ کا حکم حجۃ الوداع سے خاص ہے اب طواف کا آغاز کرنے کے بعد حج کو فسخ نہیں کیا جا سکتا حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقصد یہ نہیں ہے کہ بیت اللہ کے طواف کے بعد اور سعی سے پہلے وہ حلال ہو جائے گا، بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ جس کے پاس قربانی نہیں ہے اور بیت اللہ کا طواف کر لیتا ہے تواب اس کو سعی کر کے حلال ہونا پڑے گا اگر وہ جس کے پاس قربانی نہیں ہے اور وہ بیت اللہ کا طواف کر لیتا ہے تو اب اس کو سعی کر کے حلال ہونا پڑے گا اگر وہ حلال نہیں ہونا چاہتا تو بیت اللہ کا طواف قدوم نہ کرے حج کے لیے طواف افاضہ ہی کرے اور حدیث کے آخر میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حلال ہونے والوں میں شمار کیا گیا ہے یہ اس اعتبار سے تو درست ہے کہ انھوں نے حج تمتع کی نیت کرلی تھی، جس میں عمرہ کر کے انسان حلال ہو جاتا ہے لیکن بعد میں جب انہیں حیض آنے لگا تو وہ اپنی اس نیت پر عمل نہیں کر سکیں تھیں کیونکہ وہ بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکتی تھی اس لیے ان کی طرف حلال ہونے کی نسبت محض نیت اور ارادہ کے اعتبار سے ہے عملاً ایسا نہیں ہوا، حضرت عروہ نے سب حضرات کے طواف کا تذکرہ کیا ہے سعی کو نظر انداز کر دیا ہے کیونکہ یہ تو معلوم ہی ہے سب نے طواف کے بعد سعی کی تھی ان کا مقصد صرف یہ بیان کرنا ہے کہ طواف وسعی سے حلال ہونا ضروری نہیں ٹھہرتا یہ سب حضرات قارن تھے اور ان کے پاس قربانیاں تھیں اس لیے ان کا احرام نہ کھولنا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف دلیل نہیں بن سکتا اور نہ ہی اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سعی ضروری نہیں ہے کیونکہ سعی عمرہ اور حج کا رکن ہے اس کے بغیر نہ عمرہ ہو سکتا ہے اور نہ حج امام مالک رحمۃ اللہ علیہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور باقی محدثین رحمۃ اللہ علیہم کا یہی موقف ہے لیکن امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اور حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھی واجب ہے لیکن رکن نہیں ہے، امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا موقف بھی یہی ہے اگر رہ جائے تو ایک جانور کی قربانی سے تلافی ہو سکتی ہے، بعض صحابہ و تابعین کا نظریہ یہ ہے کہ یہ سنت ہے نہ رکن ہے اور نہ واجب سوال یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی کی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوحسنہ ہونے کا تقاضا کیا ہے فقہی موشگافیوں کی بجائے ایک مسلمان کے پیش نظر ہر عمل میں یہ رہنا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام کیسے کیا جب کہ یہ فرمان بھی موجود ہے (صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي) (میری طرح نماز پڑھو)
(خُذُوا عَنِّي مَناسِكَكُمْ)
(حج میں میرے طرز عمل کو اپناؤ)
تو اس لیے ہر کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کے مطابق کیا جائے گا۔