صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب مَا يَلْزَمُ مَنْ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ ثُمَّ قَدِمَ مَكَّةَ مِنَ الطَّوَافِ وَالسَّعْيِ بعده: باب: حاجی کے لئے طواف قدوم اور اس کے بعد سعی کرنے کا استحباب۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَيَصْلُحُ لِي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الْمَوْقِفَ ؟ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : لَا تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى تَأْتِيَ الْمَوْقِفَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " فَقَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْمَوْقِفَ ، فَبِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَأْخُذَ ، أَوْ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا " .وبرہ سے روایت ہے کہ میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، کہ ایک شخص نے آ کر پوچھا، کیا عرفات میں وقوف سے پہلے میرے لیے بیت اللہ کا طواف کرنا درست ہے، انہوں نے جواب دیا، ہاں۔ تو اس آدمی نے کہا، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، عرفات پہنچنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف نہ کر، تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا، اور عرفات جانے سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا، تو کیا تیرے لیے، اگر تیرا، دعویٰ ایمان سچا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو اختیار کرنا صحیح ہے یا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول۔
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ ؟ ، فَقَالَ : وَمَا يَمْنَعُكَ ؟ ، قَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ فُلَانٍ يَكْرَهُهُ ، وَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْهُ ، رَأَيْنَاهُ قَدْ فَتَنَتْهُ الدُّنْيَا ، فَقَالَ : وَأَيُّنَا أَوْ أَيُّكُمْ لَمْ تَفْتِنْهُ الدُّنْيَا ، ثُمَّ قَالَ : " رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ ، وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَسُنَّةُ اللَّهِ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعَ مِنْ سُنَّةِ فُلَانٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا " .وبرہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا، میں نے حج کا احرام باندھا ہے، تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کروں؟ انہوں نے فرمایا: تیرے لیے کیا رکاوٹ ہے؟ اس نے کہا، میں نے فلاں کے بیٹے کو دیکھا ہے، وہ اسے ناپسند کرتا ہے، اور آپ ہمیں اس سے زیادہ محبوب ہیں۔ کیونکہ انہیں ہم نے دنیا کی آزمائش میں پڑتے دیکھا ہے، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، ہم میں سے یا تم میں سے کون دنیا کے فتنہ میں مبتلا نہیں ہے؟ پھر فرمایا، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا، اور بیت اللہ کا طواف کر کے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، اگر تم دعویٰ ایمان میں سچے ہو تو تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کا طریقہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ، فلاں کے طریقہ سے اتباع کے زیادہ لائق ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس عنوان سے امام بخاری ؒ کےکئی ایک مقاصد ہیں: ایک تو مقام ابراہیم کی تعین ہے، کیونکہ اس کے متعلق اختلاف ہے۔
بعض کے نزدیک بیت اللہ، مسجدحرام، حرم پاک یا مقامات حج سب مقام ابراہیم ہیں۔
امام بخاری ؒ نے اس کی تعین کردی کہ اس سے مراد وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیم ؑ نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی۔
دوسرا یہ کہ ارشاد باری تعالیٰ ميں امر وجوب كے ليے نہیں بلکہ استحباب کے لیے ہے کہ مقام ابراہیم کے پاس طواف کی دو رکعت پڈھنا بہتر ہے، واجب نہیں، تیسرا یہ کہ مصلی کا تعین کرنا ہے کہ اس سے مراد جائے نماز ہے، یعنی اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھناہے، وہ اس طرح کہ استقبال کعبہ بھی برقراررہے۔
چوتھا یہ کہ حکم صرف طواف کی دورکعت کے لیے ہے تمام نمازوں کے لیے نہیں، چنانچہ ان تمام مقاصد کے لیے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت پیش کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد مقام ابراہیم ؑ کے پیچھے کھڑے ہوکر دورکعت اداکیں جوتحیہ طواف ہیں۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مقام ابراہیم کے پاس حکم نماز کے باوجود استقبال کعبہ کی فرض کی تاکید میں فرق نہیں آیا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مقام ابراہیم کے پیچھے کھڑے ہوکرنماز پڑھنے کے باوجود استقبال کعبہ کو ترک نہیں فرمایا۔
چونکہ اس روایت میں سائل کے سوال کا جواب دو ٹوک الفاظ میں نہیں تھا بلکہ حضرت ابن عمر ؓ نے اشارہ کردیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا عمل مبارک یہ ہے۔
اب تم خود غور کرو کہ صفا اور مروہ کی سعی سے پہلے بیوی سے صحبت کرناجائز ہے یا نہیں؟اس لیے امام بخاریؒ نے روایت جابر بن عبداللہ ؓ کو پیش فرمایا جس میں صراحت ہے کہ صفا اور مروہ کی سعی سے پہلے کسی صورت میں بیوی سے مقاربت نہ کی جائے۔
(1)
ان روایات کا مدلول یہ ہے کہ عمرے کے لیے تین کاموں کا اہتمام ضروری ہے: ٭ بیت اللہ کا طواف جس میں پہلے تین چکر دوڑ کر باقی چار معمول کی رفتار سے پورے کیے جائیں۔
٭ طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے یا اس کے آس پاس دو رکعت پڑھی جائیں۔
٭ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی جائے۔
سبز بتیوں (Tube Lights)
کے درمیان ذرا تیز دوڑنا چاہیے۔
ان تینوں کاموں کو مکمل کر کے احرام کھولا جائے۔
(2)
واضح رہے کہ صفا اور مروہ تک ایک چکر، پھر مروہ سے صفا تک دوسرا چکر پورا ہو جائے گا، اس طرح سات چکر لگائے جائیں۔
اس کا آغاز صفا سے اور اختتام مروہ پر ہو گا۔
صفا کی طرف سے بیت اللہ نظر آتا ہے لیکن مروہ کی طرف سے بیت اللہ نظر نہیں آتا کیونکہ مروہ اور بیت اللہ کے درمیان مسجد حرام کی عمارت آ چکی ہے۔
(3)
اگر طواف اور سعی کرتے وقت جماعت کھڑی ہو جائے تو فورا نماز میں شامل ہو جانا چاہیے۔
نماز سے فراغت کے بعد طواف اور سعی کو مکمل کر لیا جائے۔
(1)
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مقام ابراہیم پر پہنچے تو یہ آیت پڑھی: ﴿وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ (البقرۃ125: 2)
’’اور تم مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ۔
‘‘ پھر آپ نے دو رکعت ادا کیں، پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ اور ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ﴿١﴾)
اور دوسری میں سورہ فاتحہ اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ ﴿١﴾)
کی قراءت کی، پھر حجراسود کی طرف لوٹے اور اس کا استلام کیا۔
اس کے بعد صفا کی طرف روانہ ہوئے۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2950(1218)
اس آیت کریمہ کی قراءت سے معلوم ہوتا ہے کہ طواف کے بعد دو رکعت مقام ابراہیم کے پیچھے ادا کرنا ضروری ہیں لیکن اہل علم کا اجماع ہے کہ طواف کرنے والا جہاں چاہے ادا کر سکتا ہے، چنانچہ امام بخاری ؒ نے قبل ازیں اسی حدیث سے اس امر کا اثبات کیا ہے۔
(حدیث: 395) (2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آیت مذکور کا حکم صرف طواف کی دو رکعت کے لیے ہے دیگر نمازوں کے لیے نہیں۔
مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھنے سے استقبال قبلہ اپنی جگہ پر برقرار رہے گا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے باوجود استقبال کعبہ کو ترک نہیں کیا۔
الغرض نماز طواف ادا کرتے وقت مقام ابراہیم کے پیچھے کھڑا ہونا بہتر ہے، ضروری نہیں۔
عمرو کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، اور ہم نے ان سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا جو عمرہ کی نیت کر کے آیا، اور اس نے بیت اللہ کا طواف کیا، لیکن صفا و مروہ کے درمیان سعی نہیں کی۔ کیا وہ اپنی بیوی کے پاس آ سکتا ہے انہوں نے جواب دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے کیے، اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، اور تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم می [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2933]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے کیے، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی، پھر آپ صفا کی طرف اس دروازے سے نکلے جس دروازے سے باہر نکلا جاتا ہے، تو صفا و مروہ کی سعی کی۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ سنت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2969]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے لگائے اور مقام (ابراہیم) کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، اور فرمایا: «لقد كان لكم في رسول اللہ أسوة حسنة» ” رسول اللہ کی ذات میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے “ (تو اللہ کا رسول جیسا کچھ کرے ویسے ہی تم بھی کرنا) (الأحزاب: ۲۱)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2963]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر بیت اللہ کا سات بار طواف کیا، پھر طواف کی دونوں رکعتیں پڑھیں۔ وکیع کہتے ہیں: یعنی مقام ابراہیم کے پاس، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی کی طرف نکلے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2959]
فوائد و مسائل:
(1)
طواف کعبہ سات چکروں سے پورا ہوتا ہے۔
(2)
طواف کے بعد دو رکعت نماز ادا کرنی چاہیے۔
(3)
طواف کی دو رکعتیں مقام ابراہیم کے قریب ادا کرنا سنت ہے۔
اگر وہاں جگہ نہ ہوتو مسجد حرام میں کسی اور مناسب جگہ پر بھی ادا کی جاسکتی ہے۔
(4)
بعض لوگ لاعلمی کی وجہ سے مقام ابراہیمی کی طرف منہ کرتے ہیں اگرچہ کعبہ کی طرف رخ نہ رہے یہ غلط ہے۔
نماز کے لیے کعبہ کی طرف منہ کرنا چاہیے۔
مقام ابراہیم سامنے ہو یا نہ ہو۔
(5)
صفا اور مروہ کے درمیان سعی طواف کعبہ کے بعد کی جاتی ہے۔