صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ أَنَّ الْقَارِنَ لاَ يَتَحَلَّلُ إِلاَّ فِي وَقْتِ تَحَلُّلِ الْحَاجِّ الْمُفْرِدِ: باب: قارن اس وقت احرام کھولے جس وقت کہ مفرد بالحج احرام کھولتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا ، وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ ؟ ، قَالَ : " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي ، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي ، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ " ،یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے پڑھا، انہوں نے نافع سے روایت کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگوں کا معاملہ کیا ہے؟ انہوں نے (عمرہ کے بعد) احرام کھول دیا ہے۔ اور آپ نے اپنے عمرہ (آتے ہی طواف و سعی جو عمرہ کے منسک کے برابر ہے) کے بعد احرام نہیں کھولا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر (کے بالوں) کو گوند (یا خطمی بوٹی سے) چپکایا اور اپنی قربانیوں کو ہار ڈال دیے۔ اس لیے میں جب تک قربانی نہ کر لوں۔ احرام نہیں کھول سکتا۔“
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَتْ : قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ : مَا لَكَ لَمْ تَحِلَّ ؟ بِنَحْوِهِ .یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعلیٰ عنہا نے بیان کیا، میں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کیوں نہیں کھولا؟ آ گے مذکورہ بالا روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَتْ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ ؟ ، قَالَ : " إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي ، وَلَبَّدْتُ رَأْسِي ، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ " ،عبید اللہ نے کہا: مجھے نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے (مناسک ادا ہو جانے کے باوجود) ابھی تک عمرہ کا احرام نہیں کھولا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنی قربانی کے اونٹوں کو ہار پہنائے اور اپنے سر (کے بالوں) کو گوند (جیلی) سے چپکایا میں جب تک حج سے فارغ نہ ہو جاؤں۔ احرام سے فارغ نہیں ہو سکتا۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ : " فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ " .عبید اللہ نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے (اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے) عرض کی: اے اللہ کے رسول! (آگے) مالک کی حدیث کے مانند ہے (البتہ الفاظ یوں ہیں): ”میں جب تک قربانی نہ کر لوں۔ احرام سے فارغ نہیں ہو سکتا۔“
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، قَالَتْ حَفْصَةُ : فَقُلْتُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَحِلَّ ؟ ، قَالَ : " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي ، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي ، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي " .حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے سال اپنی بیویوں کو احرام کھولنے کا حکم دیا، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، تو میں نے سوال کیا، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حلال ہونے سے کون سی چیز مانع ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر کے بال چپکا لیے ہیں اور اپنی ہدی کے گلے میں ہار ڈال دیا ہے، اس لیے میں جب تک اپنی ہدی نحر نہ کر لوں، حلال نہیں ہو سکتا۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
آپ ﷺ کا احرام حج قران کا تھا۔
اسی لیے آپ نے احرام نہیں کھولا مگر صحابہ ؓ کو آپ نے حج تمتع ہی کے احرام کی تاکید فرمائی تھی۔
1۔
تلبید کے معنی گوند کے ساتھ بالوں کو جمانا ہیں تاکہ گردوغبار داخل نہ ہو اور سواری کی حرکت کی وجہ سے بال نہ بکھریں۔
2۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تادیرمحرم رہنے کا ارادہ کرچکے تھے، اگر عمرہ کرکے حلال ہوجاتے تو اس قدر اہتمام کرنے کی کیا ضرورت نہ تھی، نیز آپ اپنے ساتھ قربانی کےجانور لائے تھے، اس لیے آپ احرام نہیں کھول سکتے تھے، جب تک انھیں دس تاریخ کو ذبح نہ کرلیتے۔
بہرھال اس حدیث میں حجۃ الوداع کا ذکر ہے اس لیے امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو یہاں بیان کیا ہے۔
(1)
ان دو حدیثوں سے معلوم ہوا کہ محرم آدمی کو گوند وغیرہ سے اپنے بالوں کو جمانا جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے بال گوند وغیرہ سے جما لیے تھے تاکہ گردوغبار سے پراگندہ نہ ہوں اور ان میں جوئیں وغیرہ نہ پڑیں۔
(2)
بہرحال بالوں کو جمانا مشروع ہے اور جو لوگ اس عمل کو جائز یا بہتر خیال نہیں کرتے ان کا موقف محل نظر ہے۔
اگر ایسا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے عمل میں نہ لاتے۔
واللہ أعلم
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ حج قران کی نیت سے احرام باندھے ہوئے تھے لیکن مکہ مکرمہ پہنچ کر آپ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر میں قربانی ساتھ نہ لایا ہوتا تو اس احرام کو عمرے سے بدل لیتا اور حج تمتع کرتا۔
امام بخاری ؒ کے قائم کردہ عنوان کے مطابق حج قران اور حج تمتع کا ثبوت واضح ہے۔
(2)
تلبید کے معنی یہ ہیں کہ محرم آدمی اپنے سر پر لوشن وغیرہ لگا لے تاکہ بال بکھرنے نہ پائیں اور ان میں جوئیں نہ پڑیں۔
اور اس کا ضرورت مند وہ شخص ہوتا ہے جس کی احرام کی مدت لمبی ہو اور وہ اعمال مناسک ادا کرنے کے لیے زیادہ عرصہ ٹھہرنا چاہتا ہو۔
(3)
تقلید کے معنی یہ ہیں کہ قربانی کے جانور کے گلے میں کوئی جوتا وغیرہ لٹکا دیا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔
تقلید سے یہ باور کرانا مقصود ہوتا ہے کہ احرام اس وقت تک رہے گا جب قربانی کا جانور اپنے مقام پر پہنچ جائے۔
بہرحال جو شخص حج قران کرنا چاہتا ہے اس کے ساتھ قربانی کا جانور ہونا ضروری ہے۔
(1)
امام بخاری ؒ کے عنوان میں بال جمانے اور حلق کرنے، دونوں کا ذکر ہے جبکہ حدیث میں صرف بال جمانے کا ذکر ہے۔
دراصل حدیث کا عنوان کے تمام اجزاء کے مطابق ہونا ضروری نہیں۔
چونکہ سر منڈوانا ایک واضح امر تھا، اس لیے مذکورہ حدیث میں اس کا ذکر نہیں ہوا، البتہ آئندہ حدیث ابن عمر میں حلق کا صراحت کے ساتھ ذکر ہے۔
دیکھیے: (حدیث: 1726) (2)
دراصل امام بخاری ؒ نے اس عنوان سے ایک اختلافی مسئلے کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جس نے احرام باندھتے وقت اپنے بالوں کو جما لیا ہو اس کے لیے حلق ضروری ہے یا اس کے لیے قصر بھی جائز ہے؟ ابن بطال نے جمہور کا موقف یہ بیان کیا ہے کہ ایسے شخص پر حلق ضروری ہے لیکن اہل رائے کا کہنا ہے کہ ایسے شخص پر حلق ضروری نہیں بلکہ حلق یا قصر اس کی صوابدید پر موقوف ہے۔
جمہور کے موقف کے لیے کوئی واضح دلیل نہیں ہے، البتہ حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ جس نے اپنے سر کی مینڈھیاں بنائی ہوں تو اسے چاہیے کہ وہ احرام کھولتے وقت قربانی کر دے اور اپنے بالوں کو منڈوا دے۔
بہرحال رسول اللہ ﷺ نے بالوں کو جمانے کے بعد انہیں منڈوایا ہے، اس لیے سنت یہی ہے کہ بالوں کو منڈوا دیا جائے، البتہ قصر کی گنجائش ہے۔
(فتح الباري: 708/3)
واللہ أعلم
ذوالحجہ کو قربانی کر نے کے بعد احرام کھولے گا۔
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا لیکن آپ نے اپنے عمرے کا احرام نہیں کھولا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں نے اپنے سر میں تلبید کی تھی اور ہدی کو قلادہ پہنایا تھا تو میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہدی نحر نہ کر لوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1806]
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا: بات ہے لوگ عمرہ کر کے حلال ہو گئے اور آپ اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے، آپ نے فرمایا: ” میں نے اپنے سر کی تلبید، اور اپنی ہدی کو قلادۃ پہنا دیا ہے، تو جب تک میں قربانی نہ کر لوں حلال نہیں ہوں گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2783]
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے لوگوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے اپنے عمرہ کا احرام نہیں کھولا؟ آپ نے فرمایا: ” میں نے اپنے سر کی تلبید ۱؎، اور اپنے ہدی کی تقلید ۲؎ کر رکھی ہے، تو میں احرام نہیں کھولوں گا جب تک کہ حج سے فارغ نہ ہو جاؤں۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2683]
(2) تلبید، واجب ہے نہ منع، محرم کی مرضی پر موقوف ہے۔
(3) سوال کے جواب میں آپ نے تلبید اور قربانی کا ذکر فرمایا۔ تلبید تو نشانی تھی احرام کے طویل ہونے کی اور قربانی کا جانور اگر ساتھ ہو تو محرم حلال نہیں ہو سکتا، خواہ عمرے کا احرام ہی ہو جب تک وہ جانور ذبح نہیں ہو جاتا۔ قلادہ انھی جانوروں کو ڈالا جاتا تھا جو ساتھ لے جائے جاتے تھے۔ موقع پر خریدے گئے جانوروں کو قلادے کی ضرورت نہیں تھی۔
(4) حج سے حلال ہونے سے مراد قربانی کا ذبح کرنا ہے۔ اس سے احرام ختم ہو جاتا ہے، اگرچہ حج کے بعض افعال بعد میں بھی ہوتے رہتے ہیں۔
(5) یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج قران کیا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے لوگوں نے اپنے عمرے سے احرام کھول دیا، اور آپ نے نہیں کھولا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں نے اپنے سر کی تلبید ۱؎ کی تھی، اور ہدی (کے جانور) کو قلادہ پہنایا تھا ۲؎ اس لیے جب تک میں قربانی نہ کر لوں حلال نہیں ہو سکتا ۳؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3046]
فوائد و مسائل:
(1)
تلبيد کا مطلب ہے کہ احرام باندھتے وقت گوند وغیرہ کے ذریعے سے بالوں کو جمالیا جائے تاکہ تیل نہ لگانے کی وجہ سے منتشر نہ ہوں اور طویل عرصے تک احرام میں رہنے کی وجہ سے جوئیں نہ پڑجائیں نیز بالوں میں گردوغبار داخل نہ ہو۔
(2)
رسول اللہ ﷺ قربانی کے جانور ساتھ لے کر آئے تھے۔
اس لیے عمرہ کے لیے احرام نہیں کھولا۔
(3)
جس کے ساتھ قربانی کے جانور نہ ہوں اسے عمرہ کرکے احرام کھول دینا چاہیے اور حج تمتع کرنا چاہیے۔
«. . . 222- وبه: عن حفصة زوج النبى صلى الله عليه وسلم أنها قالت لرسول الله صلى الله عليه وسلم: ما شأن الناس حلوا بعمرة ولم تحلل أنت من عمرتك؟ قال: ”إني لبدت رأسي وقلدت هديي، فلا أحل حتى أنحر.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی (سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے تو عمرہ کر کے احرام کھول دئیے ہیں اور آپ نے اپنے عمرے سے (ابھی تک) احرام نہیں کھولا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں نے اپنے بال چپکا لئے تھے اور قربانی کے جانورروں کو مقرر کر لیا تھا، لہٰذا میں قربانی کرنے تک احرام نہیں کھولوں گا . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 296]
تفقه:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے حج افراد کی لبیک کہتے ہوئے روانہ ہوئے تھے۔ بعد میں آپ نے اللہ کے حکم سے عمرہ کرکے اسے حجِ قِران بنا لیا۔ آپ حجِ تمتع کرنا چاہتے تھے مگر اس وجہ سے نہ کرسکے کہ آپ اپنے ساتھ مدینہ سے قربانی کے جانور لائے تھے۔
➋ حج کی تینوں قسمیں (قِران، افراد اور تمتع) قیامت تک جائز ہیں مگر بہتر یہی ہے کہ حج تمتع کیا جائے۔
➌ حجِ افراد میں احرام باندھنے والا حج سے فارغ ہونے تک احرام میں ہی رہتا ہے چاہے وہ ایک مہینہ پہلے مکہ پہنچ جائے۔
حج قران میں قربانی کے جانور کی وجہ سے عمرہ کرنے کے بعد بھی حاجی حج سے فارغ ہونے تک احرام میں رہتا ہے۔
حج تمتع میں عمرہ کرنے کے بعد احرام کھل جاتا ہے اور پھر 8 ذوالحجہ کو حاجی احرام باندھ کر منیٰ جاتا ہے اور حج سے فارغ ہونے تک حالت احرام میں رہتا ہے۔