صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب وُجُوبِ الدَّمِ عَلَى الْمُتَمَتِّعِ وَأَنَّهُ إِذَا عَدِمَهُ لَزِمَهُ صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ: باب: تمتع کرنے والے پر قربانی واجب ہے، اور قربانی نہ کرنے کی صورت میں حج کے ایام میں تین دنوں کا روزہ رکھنا اور اپنے گھر واپس لوٹنے پر سات دنوں کا روزہ رکھنا لازمی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، وَأَهْدَى فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ، ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى فَسَاقَ الْهَدْيَ ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، قَالَ لِلنَّاسِ : " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى ، فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ، ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ ، وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ " ، وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ ، فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ ، ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ، ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ، ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ ، حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ ، وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْيَ مِنَ النَّاسِ .سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تک عمرہ سے تمتع فرمایا اور ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا آپ ذوالحلیفہ سے قربانی کے جانور اپنے ساتھ چلا کر لائے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آغاز فرمایا تو (پہلے) عمرہ کا تلبیہ پکارا پھر حج کا تلبیہ پکارا اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ حج تک عمرہ سے تمتع کیا۔ لوگوں میں کچھ ایسے تھے انہوں نے ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا اور قربانی کے جانور چلا کر ساتھ لائے تھے اور کچھ ایسے تھے جو قربانیاں لے کر نہیں چلے تھے۔ جب آپ مکہ تشریف لے آئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”تم میں سے جو قربانی لے چلا وہ ان چیزوں سے جنہیں اس نے (احرام باندھ کر) حرام کیا اس وقت تک حلال نہیں ہو گا جب تک کہ حج پورا نہ کرے۔ اور جو شخص قربانی نہیں لایا وہ بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کرے اور بال کتروا کر حلال ہو جائے (اور آٹھ ذوالحجہ کو) پھر حج کا (احرام باندھ کر) تلبیہ پکارے (اور رمی کے بعد) قربانی کرے۔ اور جسے قربانی میسر نہ ہو وہ تین دن حج کے دوران میں اور سات دن گھر لوٹ کر روزے رکھے۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف فرمایا۔ سب سے پہلے حجر اسود کا استلام کیا۔ پھر تین چکروں میں تیز چلے اور چار چکر معمول کی رفتار سے چل کر لگائے۔ جب آپ نے بیت اللہ کا طواف مکمل کر لیا تو مقام ابراہیم علیہ السلام کے پاس دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ پھر سلام پھیرا اور رخ بدلا۔ صفا پر تشریف لائے اور صفا مروہ کے (درمیان) سات چکر لگائے۔ پھر جب تک آپ نے اپنا حج مکمل نہ کیا آپ نے ایسی کسی چیز کو (اپنے لیے) حلال نہ کیا جسے آپ نے حرام کیا تھا قربانی کے دن آپ نے اپنے قربانی کے اونٹ نحر کیے اور (طواف) افاضہ فرمایا۔ پھر آپ نے ہر وہ چیز (اپنے لیے) حلال کر لی جو (احرام کی وجہ سے) حرام ٹھہرائی تھی۔ اور لوگوں میں سے جنہوں نے ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا تھا اور لوگوں کے ساتھ قربانی کے جانور ہانک کر لے آئے تھے۔ انہوں نے بھی ویسا ہی کیا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے روانگی کے وقت حج مفرد کا احرام باندھا تھا پھر اس کے ساتھ عمرہ کو ملا لیا۔
اور تلبیہ کہتے وقت حج سے پہلے عمرہ کا نام لیا۔
(لَبَّيْكَ عَنْ عُمْرَةِ وَحَجٍّ)
اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم قارن بن گئے اور قرآنی اصطلاح اور لغت کی روسے حج قران کو تمتع سے تعبیر کیا جاتا ہے اور حج تمتع اگر اصطلاحی معنی میں ہو تو اس سے مراد ہوگا کہ حج سے پہلے حج کے مہینوں میں عمرہ کر کے حلال ہو جائے اور پھر آٹھ ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ سے ہی حج کا احرام باندھ لے۔
2۔
جس وقت انسان حج تمتع کرتا ہے تو اس پر قربانی کرنا لازم ہے لیکن اگر اسے قربانی کی استطاعت نہیں ہے تو پھر وہ قربانی کی جگہ دس روزے رکھے گا تین روزے دس ذوالحجہ سے پہلے مذاہب کی تفصیل درج ذیل ہے۔
شوافع اور مالک کا نظریہ یہ ہے کہ یہ تین روزے عمرہ سے فراغت کے بعد رکھے جائیں گے۔
اور بہتر یہ ہے کہ یہ تین روزے حج کا احرام باندھ کر رکھے جائیں یعنی چھ سات اور آٹھ ذوالحجہ کا روزہ رکھا جائے اگر حج کا احرام باندھنے سے پہلے رکھ لے۔
یعنی حج کا احرام آٹھ ذوالحجہ سے پہلے نہ باندھے اور اس سے پہلے روزے رکھ لے تو پھر بھی درست ہے اگر عمرہ کے افعال سے فراغت سے پہلے روزے رکھے گا تو یہ روزے کفایت نہیں کریں گے، اگر یہ روزے دس ذوالحجہ سے پہلے نہ رکھ سکے تو یہ روزے ایام تشریق (11۔
12۔
13۔
ذوالحجہ)
کو رکھے جا سکتے ہیں حنابلہ کا موقف بھی یہی ہے لیکن ان کے نزدیک عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد عید کے دن سے پہلے رکھنا جائز ہے اور افضل یہ ہے کہ حج کا احرام باندھ کر آخری روزہ عرفہ نو ذوالحجہ کا ہو۔
اگر ایام تشریق کے بعد روزے رکھے گا تو گناہ گار ہو گا لیکن دم نہیں پڑے گا۔
حنابلہ کے نزدیک اس صورت میں دس روزے مسلسل رکھنے ہوں گے اور تاخیر کی بنا پر ایک قربانی واجب ہوگی۔
حنفیہ کے نزدیک بھی عمرہ کا احرام باندھ لینے کے بعد سے عید کے دن سے پہلے رکھنا جائز ہے اگر کسی نے یہ روزے نہ رکھے اور عید کا دن آ گیا تو اس کے لیے قربانی نا گزیر ہے۔
اگر قربانی نہ کر سکے تو وہ قربانی کے بغیر اپنا احرام کھول دے گا اور صاحب الفقہ آئمہ المذہب الاربعہ کے قول کے مطابق اس پر دو قربانیاں (ہدایہ اولین ص 260)
لازم آئیں گی۔
اور بقول امام نووی رحمۃ اللہ علیہ جب توفیق ہو گی قربانی کرے گا اس میں سے باقی سات روزوں کے بارے میں آئمہ کا موقف یہ ہے (احناف کے نزدیک جب حج سے فارغ ہو کر منی سے مکہ لوٹ آئے تو سات روزے رکھ لے گا شوافع اور حنابلہ کے نزدیک یہ سات روزے وطن واپس آ کر رکھے جائیں گے مالکیہ کے نزدیک دونوں طرح جائز ہے اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول یہی ہے۔