حدیث نمبر: 1226
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : " إِنِّي لَأُحَدِّثُكَ بِالْحَدِيثِ الْيَوْمَ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ ، وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْمَرَ طَائِفَةً مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ ، فَلَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ ذَلِكَ ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ ، ارْتَأَى كُلُّ امْرِئٍ بَعْدُ مَا شَاءَ أَنْ يَرْتَئِيَ " ،

ہمیں اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں جریری نے حدیث سنائی، انہوں نے ابوالعلاء سے، انہوں نے مطرف سے روایت کی، (مطرف نے) کہا: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: میں تمہیں آج ایک ایسی حدیث بیان کرنے لگا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ آج کے بعد تمہیں نفع دے گا۔ جان لو! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں میں سے کچھ کو ذوالحجہ میں عمرہ کروایا، پھر نہ تو کوئی ایسی آیت نازل ہوئی جس نے اسے (حج کے مہینوں میں عمرہ کو) منسوخ قرار دیا ہو، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل کی طرف تشریف لے گئے۔ بعد میں ہر شخص نے جو رائے قائم کرنا چاہی کر لی۔

وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ ، وقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي رِوَايَتِهِ " ارْتَأَى رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ " ، يَعْنِي عُمَرَ .

امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، ان کے استاد ابن حاتم کی روایت میں یہ ہے، ایک آدمی نے اپنی رائے سے جو چاہا رائے قائم کر لی، ان کا اشارہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف تھا، (کیونکہ وہ حج تمتع سے روکتے تھے)۔

وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : " أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ ، ثُمَّ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَاتَ وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ ، وَقَدْ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ حَتَّى اكْتَوَيْتُ ، فَتُرِكْتُ ثُمَّ تَرَكْتُ الْكَيَّ فَعَادَ " ،

ہمیں معاذ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں شعبہ نے حمید بن ہلال سے، انہوں نے مطرف سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں۔ وہ دن دور نہیں جب اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے فائدہ دے گا۔ بلاشبہ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو (حج کے مہینوں میں) اکٹھا کیا، پھر آپ نے وفات تک اس سے منع نہیں فرمایا، اور نہ اس کے بارے میں قرآن ہی میں کچھ نازل ہوا جو اسے حرام قرار دے اور یہ بھی (بتایا) کہ مجھے (فرشتوں کی طرف سے) سلام کیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ (بواسیر کی بناء پر) میں نے اپنے آپ کو دغوایا تو مجھے (سلام کہنا) چھوڑ دیا گیا، پھر میں نے دغوانا چھوڑ دیا تو (فرشتوں کا سلام) دوبارہ شروع ہو گیا۔

وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفًا ، قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ .

محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا) ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، انہوں نے حمید بن ہلال سے روایت کی، کہا میں نے مطرف سے سنا، انہوں نے کہا حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا۔ آگے معاذ کی حدیث کے مانند ہے۔

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : بَعَثَ إِلَيَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، فَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ مُحَدِّثَكَ بِأَحَادِيثَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهَا بَعْدِي ، فَإِنْ عِشْتُ فَاكْتُمْ عَنِّي ، وَإِنْ مُتُّ فَحَدِّثْ بِهَا إِنْ شِئْتَ ، إِنَّهُ قَدْ سُلِّمَ عَلَيَّ ، وَاعْلَمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابُ اللَّهِ ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَجُلٌ فِيهَا بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ " .

مطرف بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، اپنی اس بیماری میں جس میں ان کی وفات ہوئی ہے، مجھے بلا بھیجا، اور کہا، میں تمہیں چند احادیث سنانا چاہتا ہوں، امید ہے، اللہ تعالیٰ میرے بعد تمہیں ان سے فائدہ پہنچائے گا، اگر میں زندہ رہا تو میرے بارے میں یہ نہ بتانا، اور اگر میں فوت ہو گیا، تو چاہو، تو بیان کر دینا، واقعہ یہ ہے کہ مجھے (فرشتوں کی طرف سے) سلام کہا جاتا ہے، (زندگی میں یہی بات چھپانا مقصود ہے) جان لو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ اکٹھا کیا، پھر اس کے بارے میں کتاب اللہ میں کچھ نہیں اترا (جس سے اس کی ممانعت ثابت ہو) اور نہ ہی اس سے نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے۔ ایک آدمی نے اس کے متعلق اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔

وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِيهَا رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ " .

ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: جان لو! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو اکٹھا کیا تھا۔ اس کے بعد نہ تو اس معاملے میں اللہ کی کتاب (میں کوئی بات) نازل ہوئی۔ اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان دونوں سے منع فرمایا: پھر ایک شخص نے اس کے بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہا۔

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ الْقُرْآنُ ، قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ " ،

ہمام نے کہا: ہمیں قتادہ نے مطرف کے واسطے سے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان فرمائی: کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج میں) تمتع کیا تھا اور اس کے بعد اس کے متعلق قرآن نازل نہ ہوا (کہ یہ درست نہیں ہے اس کے متعلق) ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔

وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : " تَمَتَّعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ " .

محمد بن واسع نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے، انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث بیان کی، (حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج میں) تمتع (حج و عمرہ کو ایک ساتھ ادا) کیا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ (حج میں) تمتع کیا تھا۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی صورت میں حج و عمرہ اکٹھا ادا کیا، جو قربانیاں ساتھ نہ لائے تھے انہوں نے انہی دنوں میں الگ الگ احرام باندھ کر دونوں کو ادا کیا)

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، قَالَ : قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : " نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ يَعْنِي مُتْعَةَ الْحَجِّ ، وَأَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ لَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ آيَةَ مُتْعَةِ الْحَجِّ ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ ، قَالَ رَجُلٌ : بِرَأْيِهِ بَعْدُ مَا شَاءَ " ،

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں آیت المتعۃ یعنی حج تمتع کے بارے میں آیت اتری اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا، پھر ایسی کوئی آیت نہیں اتری جو حج تمتع کی آیت کو منسوخ کر دے، اور نہ ہی اس سے اپنی وفات تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ بعد میں ایک آدمی نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔

وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَصِيرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " وَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَلَمْ يَقُلْ : " وَأَمَرَنَا بِهَا " .

یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا کی جگہ یہ ہے ہم نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1226
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2978

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2978 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´حج تمتع کا بیان۔`
مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے آج کے بعد فائدہ پہنچائے، جان لو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے ایک جماعت نے ذی الحجہ کے دس دنوں میں عمرہ کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع نہیں کیا، اور نہ قرآن مجید میں اس کا نسخ اترا، اس کے بعد ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2978]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  شاید آئندہ زندگی میں فائدہ ہو۔
یہ اس لیے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حج تمتع پسند نہیں کرتے اس لیے ابھی مناسب نہیں کہ ان کی مخالفت کی جائے کیونکہ حج قران بھی جائز ہے البتہ بعد میں آپ حج تمتع کریں اور دوسروں کو بھی مسئلہ بتائیں کہ یہ جائز ہے۔

(2)
رسول اللہ ﷺ کے گھر کے افراد سے مراد ازواج مطہرات رضی اللہ عنہ ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب ہم لوگ (مکہ)
آئے ہم نے کعبہ کا طواف کیا (اور سعی کی)
تب نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ جو شخص قربانی لیکر نہیں آیا وہ احرام کھول دے۔
تو جو لوگ قربانی نہیں لائے تھے انھوں نے احرام کھول دیا۔ (صحيح البخاري، الحج، باب التمتع والقران والافراد بالحج۔
۔
۔
۔
۔
، حديث: 1561)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی حج تمتع کیا تھا۔ (صحيح البخاري، العمرة، باب متي يحل المعتمر، حديث: 794)

(3)
حج تمتع سے اجتناب کا فتوی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تھا۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا بھی یہی موقف تھا۔ (صحيح مسلم، الحج، باب في المتعة بالحج، حديث: 1217)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک روایت ہے کہ وہ منع کرتے تھے۔ (موطأ إمام مالك، الحج، باب القران في الحج: 1/ 203)
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے۔
حج قران یا تمتع کو ناجائز نہیں سمجھتے تھے۔
بلکہ وہ کہتے تھے کہ عمرے کے لیے الگ سفر ہونا چاہیے تاکہ ایسا نہ ہوکہ سب لوگ حج کے ساتھ عمرہ کرکے چلے جائیں اور سال کے باقی حصے میں کعبہ شریف کی رونق قائم نہ رہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2978 سے ماخوذ ہے۔