حدیث نمبر: 1224
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً " .

حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں حج تمتع، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے ساتھ خاص تھا۔

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَيَّاشٍ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَتْ لَنَا رُخْصَةً " يَعْنِي : الْمُتْعَةَ فِي الْحَجِّ .

عیاش عامری نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد (یزید بن شریک) سے، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: یہ رخصت صرف ہمارے ہی لیے تھی، یعنی حج میں تمتع کی۔

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " لَا تَصْلُحُ الْمُتْعَتَانِ ، إِلَّا لَنَا خَاصَّةً " يَعْنِي : مُتْعَةَ النِّسَاءِ وَمُتْعَةَ الْحَجِّ .

زبید نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دو متعے ہمارے علاوہ کسی کے لیے صحیح نہیں (ہوئے) یعنی عورتوں سے (نکاح) متعہ کرنا اور حج میں تمتع (حج کا احرام باندھ کر آنا، پھر اس سے عمرہ کر کے حج سے پہلے احرام کھول دینا، درمیان کے دنوں میں بیویوں اور خوشبو وغیرہ سے متمتع ہونا اور آخر میں روانگی کے وقت حج کا احرام باندھنا۔)

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، قَالَ : أَتَيْتُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ ، وَإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ ، فَقُلْتُ " إِنِّي أَهُمُّ أَنْ أَجْمَعَ الْعُمْرَةَ وَالْحَجَّ الْعَامَ " ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ : " لَكِنْ أَبُوكَ لَمْ يَكُنْ لِيَهُمَّ بِذَلِكَ " ، قَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ مَرَّ بِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالرَّبَذَةِ ، فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا كَانَتْ لَنَا خَاصَّةً دُونَكُمْ " .

ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں جریر نے بیان سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی شعثاء سے روایت کی، کہا: میں ابراہیم نخعی اور ابراہیم تیمی کے پاس آیا اور ان سے کہا: میں چاہتا ہوں کہ اس سال حج اور عمرہ دونوں کو اکٹھا ادا کروں۔ ابراہیم نخعی نے (میری بات سن کر) کہا: تمہارے والد (ابوشعثاء) تو کبھی ایسا ارادہ بھی نہ کرتے۔ قتیبہ نے کہا: ہمیں جریر نے بیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد (یزید بن شریک) سے روایت کی کہ ایک مرتبہ ان کا گزر ربذہ کے مقام پر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، انہوں نے اس سے (حج میں تمتع) کا ذکر کیا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: یہ تم لوگوں کو چھوڑ کر خاص ہمارے لیے تھا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1224
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1224 | سنن ابن ماجه: 2985 | مسند الحميدي: 132 | مسند الحميدي: 135

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1224 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، دو متعے ہمارے لیے ہی جائز تھے، یعنی، حج تمتع اور عورتوں سے متعہ۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2967]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک حج کو فسخ کر کے عمرہ کرنا اور پھر حج کرنا، یعنی متع فسخ الحج حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح اس سال کے ساتھ خاص تھا اب جائز نہیں ہے، اسی طرح عورتوں سے متع کی اجازت عہد نبوی میں تھی آخر کار اس کی اجازت منسوخ ہو گئی تھی، آج کل جو انسان قربانی ساتھ لے کر نہ جائے اسے میقات سے صرف عمرہ احرام باندھنا چاہیے اور حج تمتع کی نیت کرنی چاہیے تاکہ اس اختلاف سے نکل سکے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1224 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2985 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جو لوگ کہتے ہیں کہ حج کا فسخ یعنی اس کو عمرہ میں تبدیل کر دینے کا حکم صحابہ کے لیے خاص تھا ان کی دلیل۔`
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حج تمتع اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2985]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
یہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی رائے ہے جو درست نہیں کیونکہ حدیث: 2980 میں رسول اللہﷺ کا ارشاد بیان ہوچکا ہےکہ یہ حکم ہمیشہ کے لیے ہے۔
ممکن ہے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمان رسول اللہ ﷺ سے نہ سنا ہو، نہ کسی صحابی سے سنا ہو۔
یا اگر کسی صحابی سے سنا ہے تو ممکن ہے کہ کسی وجہ سے اس پر اطمینان نہ ہوا ہو۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2985 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 132 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
132- سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حج کو فسخ (حج تمتع) کرنے کا حکم ہمارے لیے مخصوص تھا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:132]
فائدہ:
اس حدیث میں جو حج کو عمرہ میں تبدیل کیا گیا تھا، اس کا ذکر ہے، اس کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چونکہ حج کے مہینوں میں عمرے کو مکروہ خیال کیا جا تا تھا، اس غلط نظریے کی تردید کی غرض سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا تھا۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں (عون المعبود: 209/10)
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 132 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 135 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
135- سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حج کو فسخ (حج تمتع) کرنے کا حکم ہمارے لیے مخصوص تھا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:135]
فائدہ:
اس حدیث پر فوائد، ح: 132 میں گزر چکے ہیں۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 135 سے ماخوذ ہے۔