حدیث نمبر: 1223
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ : كَانَ عُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ ، وَكَانَ عَلِيٌّ يَأْمُرُ بِهَا ، فَقَالَ عُثْمَانُ لِعَلِيٍّ كَلِمَةً " ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ : " لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَقَالَ : " أَجَلْ وَلَكِنَّا كُنَّا خَائِفِينَ " ،

محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، کہا: عبداللہ بن شقیق نے بیان کیا: عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے منع فرمایا کرتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کا حکم دیتے تھے۔ (ایک مرتبہ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں کوئی بات کہی۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا تھا۔ (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے) کہا: جی بالکل (کیا تھا) لیکن اس وقت ہم خوف زدہ تھے۔

وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

خالد، یعنی ابن حارث نے ہمیں حدیث بیان کی، ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی (مذکورہ بالا حدیث) کے مانند حدیث بیان کی۔

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : اجْتَمَعَ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ رضي الله عنهما بعسفان ، فكان عثمان ينهى عَنِ الْمُتْعَةِ أَوِ الْعُمْرَةِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : " مَا تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنْهَى عَنْهُ " ، فَقَالَ عُثْمَانُ : " دَعْنَا مِنْكَ " ، فَقَالَ : " إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدَعَكَ " ، فَلَمَّا أَنْ رَأَى عَلِيٌّ ذَلِكَ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا .

عمرو بن مرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی، کہا: (ایک مرتبہ) مقام عسفان پر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے یا (حج کے مہینوں میں) عمرہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: آپ اس معاملے میں کیا کرنا چاہتے ہیں جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور آپ رضی اللہ عنہ اس سے منع فرماتے ہیں؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ اپنی رائے کی بجائے ہمیں ہماری رائے پر چھوڑ دیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: (آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف حکم دے رہے ہیں) میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ (اصرار) دیکھا تو حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارنا شروع کر دیا (تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق تمتع بھی رائج رہے۔)

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1223
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
عبداللہ بن شقیق رحمۃاللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج تمتع سے روکتے تھے، اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کا حکم دیتے تھے، تو حضرت عثمان رضی اللہ عتالیٰ عنہ نے اس سلسلہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گفتگو کی، پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، تمہیں خوب معلوم ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا تھا، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، ہاں، لیکن ہم اس وقت خوف زدہ تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2962]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح حج افراد کو افضل سمجھتے تھے اور خوف زدہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی بنا پر کیا حکم عدولی سے تو بعد میں بھی خائف رہنا چاہیے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم عدولی سے خائف تھے اس لیے ہم نے حج افراد کو فسخ کر کے حج تمتع بنا لیا تھا دشمن کا خوف مراد نہیں لیا جا سکتا کیونکہ مکہ فتح ہو چکا تھا اوروہاں کسی قسم کا ڈر نہیں رہا تھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1223 سے ماخوذ ہے۔