صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب فِي الْمُتْعَةِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ: باب: حج اور عمرہ میں تمتع کے بارے میں۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِالْمُتْعَةِ ، وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا . (حديث موقوف) قَالَ : قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : " عَلَى يَدَيَّ دَارَ الْحَدِيثُ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ كَانَ يُحِلُّ لِرَسُولِهِ مَا شَاءَ بِمَا شَاءَ ، وَإِنَّ الْقُرْآنَ قَدْ نَزَلَ مَنَازِلَهُ فَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ ، وَأَبِتُّوا نِكَاحَ هَذِهِ النِّسَاءِ ، فَلَنْ أُوتَى بِرَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ ، إِلَّا رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ " ،شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، وہ ابونضرہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما حج تمتع کا حکم دیا کرتے تھے اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ اس سے منع فرماتے تھے۔ (ابونضرہ نے) کہا: میں نے اس چیز کا ذکر جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے کیا، انہوں نے فرمایا: ”میرے ہی ذریعے سے (حج کی) یہ حدیث پھیلی ہے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (جا کر) حج تمتع کیا تھا۔“ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ (خلیفہ بن کر) کھڑے ہوئے (بحیثیت خلیفہ خطبہ دیا) تو انہوں نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو چیز جس ذریعے سے چاہتا حلال کر دیتا تھا اور بلاشبہ قرآن نے جہاں جہاں (جس جس معاملے میں) اترنا تھا، اتر چکا، لہذا تم اللہ کے لیے حج کو اور عمرے کو مکمل کرو، جس طرح (الگ الگ نام لے کر) اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ اور ان عورتوں سے حتمی طور پر نکاح کیا کرو (جز وقتی نہیں)، اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص لایا گیا جس نے کسی عورت سے کسی خاص مدت تک کے لیے نکاح کیا ہو گا تو میں اسے پتھروں سے رجم کروں گا۔
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : " فَافْصِلُوا حَجَّكُمْ مِنْ عُمْرَتِكُمْ ، فَإِنَّهُ أَتَمُّ لِحَجِّكُمْ ، وَأَتَمُّ لِعُمْرَتِكُمْ " .ہمیں ہمام نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں قتادہ نے اسی (مذکورہ بالا) سند سے حدیث بیان کی، اور (اپنی) حدیث میں کہا: اپنے حج کو اپنے عمرے سے الگ (ادا کیا) کرو۔ بلاشبہ یہ تمہارے حج کو اور تمہارے عمرے کو زیادہ مکمل کرنے والا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
نَصْرَخُ صَرَاخاً: آواز بلند کر رہے تھے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا احرام باندھا اس میں کسی اور چیز کو شامل نہیں کیا، پھر ہم ذی الحجہ کی چار راتیں گزرنے کے بعد مکہ آئے تو ہم نے طواف کیا، سعی کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم دے دیا اور فرمایا: ” اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا “، پھر سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! یہ ہمارا متعہ (حج کا متعہ) اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (نہیں) بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے “ ۱؎۔ اوزاعی کہتے ہیں: میں نے عطا بن ابی رباح کو اسے بیان کرتے سنا تو میں اسے یاد نہیں کر سکا یہاں تک کہ میں ابن جریج سے ملا تو انہوں نے مجھے اسے یاد کرا دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1787]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ کہا (یعنی احرام باندھا)، اس میں عمرہ کو شریک نہیں کیا ۱؎، پھر ہم مکہ پہنچے تو ذی الحجہ کی چار راتیں گزر چکی تھیں، جب ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ میں تبدیل کر دیں، اور اپنی بیویوں کے لیے حلال ہو جائیں، ہم نے عرض کیا: اب عرفہ میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں، اور کیا ہم عرفات کو اس حال میں نکلیں کہ شرمگاہوں سے منی ٹپک رہی ہو؟ یہ سن کر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2980]
فوائد و مسائل:
(1)
اگر احرام باندھتے وقت صرف حج کی نیت کی گئی ہو تو بعد میں نیت تبدیل کرکے عمرے کی نیت کی جاسکتی ہے۔
(2)
جس کام کی شریعت نے اجازت دی ہے اسے نامناسب سمجھنا کوئی نیکی نہیں۔
(3)
جس کے ساتھ قربانی کا جانور ہو وہ حج تمتع نہیں کرسکتا۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے خالص حج کا احرام باندھا، اس کے ساتھ اور کسی چیز کی نیت نہ تھی۔ تو ہم ۴ ذی الحجہ کی صبح کو مکہ پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ” احرام کھول ڈالو اور اسے (حج کے بجائے) عمرہ بنا لو “، تو آپ کو ہمارے متعلق یہ اطلاع پہنچی کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2807]
(2) ”منی بہا رہے ہوں گے۔“ یہ بطور مبالغہ کہا کہ حج سے اس قدر قریب جماع کرنا مناسب نہیں۔ یہ تقبیح کے لیے الفاظ ذکر کر دیے ورنہ انھیں کوئی بیماری تو نہیں تھی کہ ایسے ہوتا۔ اور حج کو تو احرام باندھ کر جانا تھا۔
(3) ”تم سے بڑھ کر نیک‘‘ یعنی جس کام کا میں حکم دوں، جو کام میں کروں، اس سے پرہیز کرنا حماقت ہے۔ اگر وہ کام قبیح ہوتا تو میں حکم ہی نہ دیتا۔
(4) ”جس کا بعد میں پتا چلا“ کہ عمرہ کرنا لازم ہو جائے گا۔
(5) ”ہمیشہ کے لیے“ یعنی تمتع قیامت تک کے لیے جائز ہے۔