صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب جَوَازِ اشْتِرَاطِ الْمُحْرِمِ التَّحَلُّلَ بِعُذْرِ الْمَرَضِ وَنَحْوِهِ: باب: محرم کا شرط لگانا کہ بیماری یا کسی اور عذر کی بناء پر میں احرام کھول دوں گا۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، وَأَبُو عَاصِمٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، وَعِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ ، فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ ، قَالَ : " أَهِلِّي بِالْحَجِّ ، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي " ، قَالَ : فَأَدْرَكَتْ .امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا، میں بیمار رہنے والی عورت ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج کا احرام باندھ لے اور شرط لگا لے، میں وہیں احرام کھول دوں گی جہاں (اے اللہ) تو مجھے روک لے گا۔‘‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، اس کو حج کرنے کا موقعہ مل گیا تھا۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ ضُبَاعَةَ أَرَادَتِ الْحَجَّ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَشْتَرِطَ ، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .عمرو بن ہرم نے سعید بن جبیر اور عکرمہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ضباعہ رضی اللہ عنہا نے حج کرنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ شرط لگا لیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ایسا ہی کیا۔
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، قَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي مَعْروفٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِضُبَاعَةَ : " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي " ، وَفِي رِوَايَةِ إِسْحَاق : أَمَرَ ضُبَاعَةَ .ہمیں اسحاق بن ابراہیم ابوایوب غیلانی اور احمد بن خراش نے حدیث بیان کی۔۔۔اسحاق نے کہا: ہم کو خبر دی اور دوسروں نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی۔۔۔ابوعامر نے جو عبدالملک بن عمرو ہیں انہوں نے کہا ہمیں رباح نے جو ابن ابی معروف ہیں عطاء سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضباعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”حج (کی نیت) کرو اور (احرام باندھتے ہوئے) شرط کرلو کہ (اے اللہ!) تو نے جہاں مجھے روک دیا وہیں میرا احرام ختم ہو جائے گا۔“ اور اسحاق کی روایت کے الفاظ ہیں (آپ نے ضباعہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا)۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، تو کیا میں شرط لگا سکتی ہوں؟ (کہ اگر کوئی عذر شرعی لاحق ہوا تو احرام کھول دوں گی) آپ نے فرمایا: ” ہاں، تو انہوں نے پوچھا: میں کیسے کہوں؟ آپ نے فرمایا: «لبيك اللهم لبيك لبيك محلي من الأرض حيث تحبسني» ” حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں حاضر ہوں، میرے احرام کھولنے کی جگہ وہ ہے جہاں تو مجھے روک دے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 941]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں حج میں شرط لگانا چاہتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں، (لگا سکتی ہو) “، انہوں نے کہا: تو میں کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو! «لبيك اللهم لبيك، ومحلي من الأرض حيث حبستني» ” حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں، اور میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1776]
➋ اگر انسان کوکوئی ایسامرض لاحق ہو جوسفر اور اعمال حج کے لیے رکاوٹ بن سکتا ہو تو مندرجہ ذیل بالا اندازہ میں شرط کرکے احرام باندھ سکتا ہے اور جہاں رکاوٹ ہو جائے حلال ہو سکتاہے اور دوبارہ اس حج یاعمرے کی قضا لازم نہ ہوگی۔ تاہم صاحب استطاعت کے لیے قضا ضروری ہوگی۔واللہ اعلم۔
➌ سیدہ ضباعہ بنت زبیر نے یہ شرط لگائی تھی مگر رکاوٹ پیش نہ آئی تھی اور انہون نے حج پورا کر لیا تھا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں، اور میں حج کا ارادہ بھی رکھتی ہوں، تو میں تلبیہ کیسے پکاروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم تلبیہ پکارو اور (اللہ سے) شرط کر لو کہ جہاں تو مجھے روکے گا، میں وہیں حلال ہو جاؤں گی “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2938]
فوائد ومسائل: (1)
بیمار آدمی حج یا عمرے کی نیت سے سفر کرسکتا ہےاگرچہ بیماری میں اضافے کا خوف ہو۔
(2)
اگر مرض کی وجہ سے یہ خطرہ ہو کہ سفر میں رکاوٹ پیش آجائے گی تو احرام باندھتے وقت مشروط احرام باندھا جائے یعنی یہ کہا جائے کہ اے اللہ! اگر رکاوٹ پیش آگئی تو میں وہیں احرام کھول دوں گا۔
(3)
مشروط احرام باندھ کر کیا ہوا حج یا عمرہ اگر پورا ہوجائے تو یہ عام حج اور عمرے کی طرح ہے اس کے ثواب میں کمی نہیں آئے گی۔
(4)
مشروط احرام کے بعد اگر حج یا عمرہ مکمل کیے بغیر احرام کھول کر ارادہ ختم کرنا پڑجائے تو کوئی کفارہ لازم نہیں آئےگا نہ دم لازم ہوگا نہ صدقہ وغیرہ۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ رضی اللہ عنہ نے حج کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ شرط کر لیں ۱؎ تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ایسا ہی کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2766]
(2) حدیث حج کے متعلق ہے لیکن عمرے کا حکم بھی یہی ہے۔
(3) اس حدیث میں عذر بیماری کا ہے۔ لیکن دوسرے اعذار کا حکم بھی یہی ہے۔
(4) اگر قربانی کا جانور ساتھ ہو تو وہیں ذبح کر دیا جائے گا، خواہ حل ہو یا حرم۔
ہلال بن خباب کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو مشروط حج کر رہا ہو تو انہوں نے کہا: یہ شرط بھی اس طرح ہے جیسے لوگوں کے درمیان اور شرطیں ہوتی ہیں ۲؎ تو میں نے ان سے ان کی یعنی عکرمہ کی حدیث بیان کی، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حج کرنا چاہتی ہوں، تو کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2767]