صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب جَوَازِ مُدَاوَاةِ الْمُحْرِمِ عَيْنَيْهِ: باب: محرم کے لیے آنکھوں کا علاج کرانا جائز ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَلَلٍ ، اشْتَكَى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَيْنَيْهِ ، فَلَمَّا كُنَّا بِالرَّوْحَاءِ اشْتَدَّ وَجَعُهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ يَسْأَلُهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنِ اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ ، فَإِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي الرَّجُلِ إِذَا اشْتَكَى عَيْنَيْهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ضَمَّدَهُمَا بِالصَّبِرِ " .نُبَیْہ بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ابان بن عثمان کے ساتھ نکلے، جب مَلَل نامی جگہ پر پہنچے تو عمر بن عبیداللہ کی آنکھیں دکھنے لگیں اور جب مقام روحاء پر پہنچے تو تکلیف شدت اختیار کر گئی تو انہوں نے مسئلہ پوچھنے کے لیے ابان بن عثمان کے پاس آدمی بھیجا، انہوں نے پیغام بھیجا کہ ان پر ایلوے کا لیپ کر لو، کیونکہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس آدمی کے بارے میں، جس کی احرام کی حالت میں آنکھیں دکھتی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ایلوے کا لیپ کرایا۔
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ رَمِدَتْ عَيْنُهُ ، فَأَرَادَ أَنْ يَكْحُلَهَا ، فَنَهَاهُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُضَمِّدَهَا بِالصَّبِرِ " ، وَحَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ .ہمیں عبدالصمد بن عبدالوارث نے خبر دی کہا: مجھ سے میرے والد نے حدیث بیان کی کہا: ہم سے ایوب بن موسیٰ نے حدیث بیان کی کہا: مجھ سے نبیہ بن وہب نے حدیث بیان کی کہ (ایک بار احرام کی حالت میں) عمر بن عبید اللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں انہوں نے ان میں سرمہ لگانے کا ارادہ فرمایا تو ابان بن عثمان نے انہیں روکا اور کہا کہ اس پر ایلوے کا لیپ کر لیں۔ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی کہ آپ نے ایسا ہی کیا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے بارے میں فرمایا: ” جب اس کے سر میں درد ہو یا آنکھیں دکھیں تو ایلوا کا لیپ کر لے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2712]
اگرایسی چیز کے لیپ کرنے کی ضرورت ہو، جس میں خوشبو ہو تو پھر لیپ کرنا جائز ہو گا اور فدیہ لازم آئے گا۔
اس طرح زیب وزینت کے لیے آنکھوں میں سرمہ ڈالنا۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور اسحاق کے نزدیک ناجائز ہے۔
اگرمعمولی خوشبو ہو تو صدقہ ہے اگر خوشبو زیادہ ہو تو اس پر دم ہے اگربیماری کی وجہ سے خوشبودار سرمہ استعمال کرے تو اسے روزوں، صدقہ اورقربانی میں سے کوئی ایک کفارہ دینا ضروری ہے، یہی صورت خوشبودار دوا پینے اور خوشبو مرہم استعمال کرنے کی ہے۔
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں، وہ احرام سے تھے، انہوں نے ابان بن عثمان سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا: ان میں ایلوے کا لیپ کر لو، کیونکہ میں نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کو اس کا ذکر کرتے سنا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے آپ نے فرمایا: ” ان پر ایلوے کا لیپ کر لو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 952]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حالت احرام میں ایلوے کا لیپ کرے۔ سرمہ لگانے سے پرہیز، کیونکہ سرمہ رنگ والی زینت ہے اور احرام میں ہرقسم کی زینت منع ہے۔ ایلوے کے لیپ سے تکلیف دور ہو جائے گی اور زینت سے بھی بچت ہو جائے گی۔ دوائی ڈالنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور سرمہ ڈالنا بھی درست ہے، ہاں یہ خیال ضروری ہے کہ اس دوائی یا سرمے میں خوشبو نہیں ہونی چاہیے۔