صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب مَا يُنْدَبُ لِلْمُحْرِمِ وَغَيْرِهِ قَتْلُهُ مِنَ الدَّوَابِّ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: باب: حل اور حرم میں محرم اور غیر محرم کے لیے جن جانوروں کا مارنا جائز ہے۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحَرَمِ وَالْإِحْرَامِ : الْفَأْرَةُ ، وَالْعَقْرَبُ ، وَالْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " ، وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ : فِي الْحُرُمِ وَالْإِحْرَامِ .زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے انہوں نے زہری سے انہوں نے سالم سے انہوں نے اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ (موذی جانور) ہیں جو انہیں حرم میں اور احرام کی حالت میں مار دے اس پر کوئی گناہ نہیں۔ چوہا، بچھو، کوا، چیل اور کاٹنے والا کتا۔“ ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں کہا: حرمت والے مقامات میں اور احرام کی حالت میں۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ : الْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " .مالک نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ (موذی جانور ایسے) ہیں کہ احرام باندھنے والے پر انہیں قتل کر دینے میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ کوا، چیل، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔“
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِنَافِعٍ : مَاذَا سَمِعْتَ ابْنَ عُمَرَ يُحِلُّ لِلْحَرَامِ قَتْلَهُ مِنَ الدَّوَابِّ ؟ ، فَقَالَ لِي نَافِعٌ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي قَتْلِهِنَّ : الْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " ،ابن جریج نے کہا: میں نے نافع سے پوچھا: آپ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کیا سنا وہ احرام والے شخص کے لیے کن جانوروں کو مارنا حلال قرار دیتے تھے؟ نافع نے مجھ سے کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”پانچ (موذی) جانور ہیں انہیں مارنے میں ان کے مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں۔ کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔“
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ جَمِيعًا ، عَنْ نَافِعٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ ، وَابْنِ جُرَيْجٍ ، وَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ ، عَنْ نَافعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا ابْنُ جُرَيْجٍ وَحْدَهُ ، وَقَدْ تَابَعَ ابْنَ جُرَيْجٍ عَلَى ذَلِكَ ابْنُ إِسْحَاق ،لیث بن سعد اور جریر یعنی ابن حازم نے نافع سے اسی طرح عبید اللہ، ایوب اور یحییٰ بن سعید ان تینوں نے بھی نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مالک اور ابن جریج کی طرح ہی حدیث بیان کی ان میں سے کسی ایک نے بھی نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کے الفاظ نہیں کہے۔ سوائے اکیلے ابن جریج کے (البتہ) ابن اسحاق نے ان الفاظ میں ابن جریج کی متابعت کی ہے۔
وحَدَّثَنِيهِ فَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " خَمْسٌ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِ مَا قُتِلَ مِنْهُنَّ فِي الْحَرَمِ " ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .محمد بن اسحاق نے نافع اور عبید اللہ بن عبداللہ سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: میں ان میں سے جو بھی حرم میں قتل کر دیا جائے اس کے قتل پر کوئی گناہ نہیں۔ پھر مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ، قَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ حَرَامٌ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيهِنَّ : الْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْغُرَابُ ، وَالْحُدَيَّا " ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى بْنِ يَحْيَى .یحییٰ بن یحییٰ، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے اسماعیل بن جعفر سے حدیث بیان کی کہا: عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ (موذی جانور) ہیں جو انہیں احرام کی حالت میں مار دے اس پر کوئی گناہ نہیں۔ چوہا، بچھو، کوا، چیل اور کاٹنے والا کتا۔“ الفاظ یحییٰ بن یحییٰ کے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
یہ احادیث دراصل بنیادی عنوان کے اثبات کے لیے ہیں جن میں حیوانات کاذکر ہے۔
ان احادیث میں چونکہ ایک اضافی فائدہ بھی تھا، اس لیے الگ عنوان قائم کرکے اس پر متنبہ کیا ہے۔
2۔
امام بخاری ؒ کا بنیادی مقصد تو زمین میں پائے جانے والے حیوانات کا ذکر کرنا ہے اور وہ ان احادیث سے روز روشن کی طرح ثابت ہورہا ہے کہ ان احادیث میں پانچ جانوروں کاذکر ہے، البتہ یہ جانور انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں، اس لیے اس اضافی فائدے کے پیش نظر اضافی عنوان قائم کیا۔
اس وضاحت کے بعد حافظ ابن حجر ؒنے تنبیہ کے عنوان سے جو بیان کیاہے۔
(فتح الباري: 429/6)
اس میں ذرا بھر بھی وزن نہیں ہے کہ اس باب کو حذف کردینا مناسب ہے کیونکہ یہ بے محل ہے۔
3۔
ان پانچ جانوروں کو فاسق اس لیے کہاگیا ہے کہ فسق کے معنی خروج کے ہیں۔
یہ جانور اذیت پہنچاتے اور تکلیف دینے کے باعث اچھے جانوروں کی راہ سے نکل چکے ہیں، چنانچہ کوا اونٹ کی پشت پر چونچیں مارکر اسے زخمی کردیتا ہے، چیل گوشت چھین لیتی ہے، بچھو ڈس لیتا ہے، چوہا کپڑے اور کتابیں کتردیتا ہے اور کاٹنے والا کتا لوگوں کو کاٹتا ہے۔
بعض دفعہ اس کے کاٹنے سے آدمی باؤلا ہوجاتا ہے۔
انھیں بحالت احرام، حرم میں بھی قتل کیا جاسکتا ہے۔
غیرمحرم کے لیے تو بطریق اولیٰ انھیں مارنا جائز ہے۔
اس پر تمام امت کا اتفاق ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کون کون سا جانور قتل کر سکتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانچ جانور ہیں جنہیں حل اور حرم دونوں جگہوں میں مارنے میں کوئی حرج نہیں: بچھو، چوہیا، چیل، کوا اور کاٹ کھانے والا کتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1846]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ محرم کن (جانوروں) کو قتل کر سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” وہ بچھو، چوہیا، چیل۔ کوا، اور کاٹ کھانے والے کتے کو قتل کر سکتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2837]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم احرام باندھے ہوئے ہوں تو کون سے جانور مار سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” پانچ جانور ہیں جن کے مارنے پر کوئی گناہ نہیں: چیل، کوا، چوہیا، بچھو اور کٹ کھنا (کاٹنے والا) کتا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2836]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں احرام کی حالت میں مارنے پر یا جنہیں احرام کی حالت میں مارنے میں کوئی گناہ نہیں: چیل، چوہیا، کاٹ کھانے والا کتا، بچھو اور کوا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2835]
(2) ”کوئی گناہ نہیں“ بلکہ گناہ کے علاوہ کوئی تاوان وغیرہ بھی نہیں، خواہ محرم ہی ہو اور حرم ہی میں ہو۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو پانچ جانور کو مارنے کی اجازت دی ہے: کوا، چیل، چوہیا، کٹ کھنا (کاٹنے والا) کتا، اور بچھو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2833]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں محرم کے مارنے میں کوئی حرج (گناہ) نہیں ہے۔ کوا، چیل، بچھو، چوہیا اور کٹ کھنا (کاٹنے والا) کتا “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2831]
(2) ”کاٹنے والا کتا“ بعض اہل علم نے تمام درندوں کو اس میں داخل کیا ہے، مثلاً: شیر، چیتا، بھیڑیا کیونکہ لغوی طور پر یہ سب کتے ہی ہیں اور بدرجہ اولیٰ کاٹنے والے ہیں۔ یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے ورنہ یہ عجیب بات ہوگی کہ کتا مارنا تو جائز ہو جو کم کاٹتا ہے اور جس سے بچاؤ بھی ممکن ہے مگر شیر، چیتا وغیرہ کو مارنا جائز نہ ہو جس سے جان کا خطرہ ہے اور عموماً بچاؤ بھی ممکن نہیں۔ شریعت کے احکام مصلحت کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور مصلحت کا لحاظ ضروری ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ احناف نے اس جگہ اہل ظاہر کی طرح جمود اختیار کیا ہے کہ ”صرف کتا ہی مارا جا سکتا ہے، شیر وغیرہ نہیں کیونکہ تعداد پانچ سے بڑھ جائے گی۔“ حالانکہ روایات کو جمع کریں تو مذکورہ جانور ہی پانچ سے بڑھ جائیں گے، مثلاً: اگلی روایت میں سانپ کا بھی ذکر ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پانچ قسم کے جانور ہیں جنہیں احرام کی حالت میں مارنے میں گناہ نہیں: بچھو، کوا، چیل، چوہیا اور کاٹ کھانے والا کتا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3088]
فوائد و مسائل:
(1)
احرام کی حالت میں موذی جانوروں کو قتل کرنا جائز ہے۔
(2)
ان جانوروں کو حرم کی حد میں بھی قتل کرنا جائز ہے۔
(3)
کوے سے مراد وہ کوا ہے جس کا کچھ حصہ (پیٹ وغیرہ)
سفید ہوتا ہے۔
(4)
کاٹنے والے کتے سے مراد وہ کتا ہےجو ہڑکایا ہوا اور باؤلا ہو۔
(5)
شیرچیتےوغیرہ درندوں کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ ان سے بھی مسافروں کو جان کا خطرہ ہوتا ہے۔
«. . . 224- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”خمس من الدواب ليس على المحرم فى قتلهن جناح: الغراب والحدأة والعقرب والفأرة والكلب العقور.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حالت احرام میں پانچ جانوروں کے قتل میں کوئی حرج نہیں ہے: کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 313]
تفقه:
➊ حالتِ احرام میں مذکورہ جانوروں کو قتل کرنا جائز ہے اور مُحرم (احرام پہننے والے) پر کوئی دَم (یا جرمانہ) نہیں ہے اور اسی پر قیاس کرکے حالتِ احرام میں ہر مُوذی جانور کو مارنا جائز ہے۔
➋ شریعت میں جن جانوروں کا قتل جائز ہے، ان کا کھانا حرام ہے لہٰذا کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کتا یہ سب حرام جانور ہیں۔
➌ نیز دیکھئے ح286
تنبیہ:
یہاں بطورِ فائدہ عرض ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فتوے سے معلوم ہوتا ہے کہ حالتِ احرام میں خارش کرنا جائز ہے۔ [ديكهئے الموطأ 1/358 ح811 وسنده صحيح]
اگر کسی شخص کا حالتِ احرام میں ناخن ٹوٹ کر لٹکنے لگے تو سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: اسے کاٹ دو۔[الموطأ 1/358 ح814 وسنده حسن]
➊ الکلب العقور سے کاٹنے والا کتا اور تمام درندے مراد ہیں۔
➋ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: گیا: کیا احرام باندھنے والا سانپ کو قتل کر سکتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: وہ دشمن ہے، اسے جہاں پاؤ قتل کردو۔[التمهيد 171/15، وسنده حسن]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حدیث میں مذکور تمام جانور حرام ہیں اور انھیں ہر حالت میں قتل کرنا جائز ہے