صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب مَا يُنْدَبُ لِلْمُحْرِمِ وَغَيْرِهِ قَتْلُهُ مِنَ الدَّوَابِّ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: باب: حل اور حرم میں محرم اور غیر محرم کے لیے جن جانوروں کا مارنا جائز ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مِقْسَمٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَرْبَعٌ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ : الْحِدَأَةُ وَالْغُرَابُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " ، قَالَ : فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ : أَفَرَأَيْتَ الْحَيَّةَ ؟ ، قَالَ : " تُقْتَلُ بِصُغْرٍ لَهَا " .قاسم بن محمد کہتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”چار جانور ہیں سبھی ایذا دینے والے ہیں۔ وہ حدود حرم سے باہر اور حرم میں (جہاں پائے جائیں) قتل کر دیے جائیں، چیل، کوا، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔“ (عبید اللہ بن مقسم نے) کہا: میں نے قاسم سے کہا آپ کا سانپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اسے اس کے چھوٹے پن (گھٹیا رویے) کی بنا پر قتل کیا جائے گا (جو اس میں ہے)۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ : الْحَيَّةُ وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحُدَيَّا " .سعید بن مسیب نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ موذی (جانور) ہیں۔ حل و حرم میں (جہاں بھی مل جائیں) مار دیے جائیں سانپ، کوا، جس کے سر پر سفید نشان ہوتا ہے، چوہا، کاٹنے والا کتا اور چیل۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ : الْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْحُدَيَّا وَالْغُرَابُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " ،حماد بن یزید نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد (عروہ) کے واسطے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ (جاندار) موذی ہیں۔ حرم میں بھی قتل کر دیے جائیں۔ بچھو، چوہا، چیل، دھبوں والا کوا اور کاٹنے والا کتا۔“ (چار یا پانچ کہنے کا مقصد تحدید نہیں تھا۔ آگے جتنے نام لیے گئے ان کا بیان تھا)۔
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت نقل کرتے ہیں۔
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ : الْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحُدَيَّا وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " ،یزید بن زریع نے حدیث بیان کی، (کہا) ہمیں معمر نے زہری سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ (جانور) موذی ہیں حرم میں بھی مار ڈالے جائیں۔ چوہا، بچھو، کوا، چیل اور کاٹنے والا کتا۔“
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَتْ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ خَمْسِ فَوَاسِقَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ " ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ .ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی (کہا) ہمیں معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حل و حرم میں پانچ موذی (جانوروں) کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ پھر (عبدالرزاق) نے یزید بن زریع کے مانند حدیث بیان کی۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهَا فَوَاسِقُ تُقْتَلُ فِي الْحَرَمِ : الْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ " .یونس نے ابن شہاب سے انہوں نے عروہ بن زبیر سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، (انہوں نے) کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ہیں سب کہ سب موذی ہیں انہیں حرم میں بھی مار دیا جائے۔ کوا، چیل، کاٹنے والا کتا، بچھو، اور چوہا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اگر ان میں سے ہر جانور کو اس کے مضر اثرات کی روشنی میں دیکھا جائے تو حدیث نبوی کا بیان صاف طور پر ذہن نشین ہوجائے گا۔
، چوہا انسانی صحت کے لیے مضر، پھر غذاؤں کے ذخیروں کا دشمن، اور کاٹنے والا کتا صحت کے لیے انتہائی خطرناک۔
یہی وجہ جو ان کا قتل ہر جگہ جائز ہوا۔
(1)
یہ پانچوں جانور انتہائی خطرناک اور نقصان دہ ہیں۔
یہ اذیت رسانی اور فساد انگیزی میں دوسرے جانوروں سے الگ رستہ اختیار کیے ہوئے ہیں، اس لیے انہیں فاسق کہا گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے انہیں حل و حرم میں مار دینے کا حکم دے کر مالی، جسمانی، اقتصادی اور غذائی مسائل کی طرف ہمیں متوجہ کیا ہے۔
(2)
کوا اور چیل ڈاکا زنی میں مشہور ہیں۔
کوا اونٹ کی پشت پر چونچیں مارتا ہے۔
اگر اونٹ کمزور ہو تو اس کی آنکھ نکال دیتا ہے۔
اس کے علاوہ لوگوں کا کھانا چھین لیتا ہے۔
اسی طرح چیل بھی گوشت چھین لیتی ہے۔
بچھو ڈنگ مارنے میں مشہور ہے۔
اس کے ڈسنے سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔
چوہا انسانی صحت کے لیے ضرر رساں، غذائی ذخیروں کا دشمن، چراغ سے بتی نکال کر سارے گھر کو جلا کر بھسم کر دیتا ہے اور باؤلا کتا بھی انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
وہ لوگوں کو زخمی کرتا ہے۔
تمام علماء کا اتفاق ہے کہ انہیں احرام کی حالت میں قتل کرنا جائز ہے اور حرم کے اندر بھی انہیں مارا جا سکتا ہے۔
(3)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ واجب القتل مجرم اگر حرم میں پناہ گزیں ہو جائے تو اسے کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی حرج نہیں۔
(فتح الباري: 54/4)
(1)
فَوَاسِق: فاسق کی جمع ہے، فسق کا معنی ہے، نکلنا، خارج ہونا اور ان جانوروں کو فاسق کہنے کی وجہ یہ ہے، یہ باقی حیوانات کے حکم تحریم قتل میں ان سے خارج ہیں یا حلال ہونے کے حکم سے خارج ہیں یا یہ ایذاء پہنچانے اور فساد وبگاڑ پھیلانے میں اور عدم انتفاع میں دوسروں سے خارج ہیں۔
(2)
اَلكَلْبُ الْعُقُوْر: عقور کا معنی ہے چیرنے پھاڑنے والا، زخمی کرنے والا، اس لیے جمہور علماء کے نزدیک اس سے مراد تمام درندے ہیں، چیتا، بھیڑیا اور شیر وغیرہ سب اس میں داخل ہیں اور حنفیوں کے نزدیک اس سے مراد کاٹنے والا کتا ہے۔
(3)
اَلْغُرَابُ الْاَبْقَع: اَبْقَع: جس کا پیٹ اور پشت سفید ہو۔
فوائد ومسائل: 1۔
خمس کی قید حصر کے لیے نہیں ہے اس لیے بعض روایات میں چار ہیں بعض میں پانچ اور بعض میں چھ ہیں۔
یعنی عقرب، بچھو کا تذکرہ اور بعض میں اَلسَّبْعُ الْعَادِیْ حملہ کرنے والا درندہ آیا ہے۔
2۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ان جانوروں کے قتل کے حلال ہونے کی علت ان کی ایذارسانی اورفساد ہے اس لیے وہ جانور جو موذی ہے اس کا قتل جائز ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک علت عدم اکل ہے، اس کا کھانے کے قابل نہ ہونا اس لیے شوافع کے نزدیک حیوانات کی تین قسمیں ہیں۔
1۔
جن کا قتل مستحب ہى یہ وہ جانور ہیں جو موذی ہیں۔
2۔
جن کا قتل جائز ہے یہ وہ ہیں جن میں نفع اور ضرردونوں ہیں یا نفع ونقصان کچھ بھی نہیں ہے۔
لیکن ان کا کھانا جائز نہیں ہے۔
3۔
جن کا کھانا جائز ہے ان کا قتل جائز نہیں ہے اگرمحرم ان کا شکار کرے گا تو اس کو فدیہ دینا پڑے گا۔
حنابلہ کے نزدیک ہر وہ جانور جو انسان پر حملہ آور ہو یا اس کو ایذا دے محرم اس کو قتل کر سکتا ہے۔
علامہ ابن قدامہ کے نزدیک کوے کے ساتھ ابقع کی قید اتفاقی ہے اس لیے ہرکوا قتل کیا جائے گا۔
احناف کے نزدیک صرف ان پانچ جانوروں کا قتل جائز ہے باقی کے قتل پر فدیہ پڑے گا اور حنفیوں کے نزدیک زاغ، یعنی غراب زرع جو دانا کھاتا ہے کھانا جائز ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " پانچ موذی جانور ہیں جو حرم میں یا حالت احرام میں بھی مارے جا سکتے ہیں: چوہیا، بچھو، کوا، چیل، کاٹ کھانے والا کتا " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 837]
1؎:
کاٹ کھانے والے کتے سے مراد وہ تمام درندے ہیں جو لوگوں پر حملہ کر کے انہیں زخمی کر دیتے ہوں مثلاً شیر چیتا بھیڑیا وغیرہ۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " پانچ موذی جانور ہیں جو حرم اور حرم سے باہر مارے جا سکتے ہیں: کوا، چیل، کاٹ کھانے والا کتا، بچھو، اور چوہیا۔" [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2884]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں محرم مار سکتا ہے: سانپ، چوہیا، چیل، کوا اور کاٹ کھانے والا کتا۔" [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2832]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " سانپ فاسق ہے، بچھو فاسق ہے، چوہا فاسق ہے اور کوا فاسق ہے۔" قاسم سے پوچھا گیا: کیا کوا کھایا جاتا ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فاسق کہنے کے بعد اسے کون کھائے گا؟۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3249]
فوائد و مسائل:
فاسق گناہ گار۔
بدکار اور بدمعاش کوکہتے ہیں۔
ان جانوروں کو فاسق اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ انسان کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جانوروں میں سے پانچ سب کے سب شریر ہیں۔ حل اور حرم (سب جگہوں پر) مار دیئے جائیں اور وہ ہیں بچھو، چیل، کوا، چوہا اور کاٹ کھانے والا کتا۔ " (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 601]
«الدّوَابّ» "با" پر تشدید ہے۔ یہ «دابة» کی جمع ہے۔ ہر اس جانور کو کہتے ہیں جو زمین پر رینگتا ہے، یعنی چلتا ہے، پھر عموماً اس کا استعمال چار ٹانگوں والے جانور پر ہونے لگا۔
«فَوَاسِق» «فاسقة» کی جمع ہے اور ان کا فسق اور شر ان کی خباثت، کثرت نقصان اور موذی ہونے کی بنا پر ہے۔
«الحِدَأة» "حا" کے کسرہ کے ساتھ۔ «عِنبَة» کے وزن پر ہے۔ جسے چیل کہتے ہیں۔ اتنا خبیث پرندہ ہے کہ انسان کے ہاتھ سے گوشت چھین کر لے جاتا ہے۔
«العَقْرَب» بچھو۔ اس کے مفہوم میں سانپ بالاولٰی شامل ہے۔
«وَالْكَلْبُ الْعَقُور» «العقور» "عین" پر زبر کے ساتھ ہے، «عقر» سے مشتق ہے جس کے معنی قتل کرنا اور زخمی کرنا ہیں۔ اور اس سے ہر چیرنے پھاڑنے والا درندہ مراد ہے، جیسے شیر، چیتا، تیندوا، ریچھ اور بھیڑیا وغیرہ۔