حدیث نمبر: 1196
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْقَاحَةِ فَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَمِنَّا غَيْرُ الْمُحْرِمِ ، إِذْ بَصُرْتُ بِأَصْحَابِي يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ ، فَأَسْرَجْتُ فَرَسِي وَأَخَذْتُ رُمْحِي ، ثُمَّ رَكِبْتُ فَسَقَطَ مِنِّي سَوْطِي ، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي وَكَانُوا مُحْرِمِينَ : نَاوِلُونِي السَّوْطَ ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ ، فَنَزَلْتُ فَتَنَاوَلْتُهُ ، ثُمَّ رَكِبْتُ فَأَدْرَكْتُ الْحِمَارَ مِنْ خَلْفِهِ ، وَهُوَ وَرَاءَ أَكَمَةٍ ، فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي فَعَقَرْتُهُ ، فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : كُلُوهُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا تَأْكُلُوهُ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَنَا ، فَحَرَّكْتُ فَرَسِي فَأَدْرَكْتُهُ ، فَقَالَ : " هُوَ حَلَالٌ فَكُلُوهُ " .

صالح بن کیسان نے کہا: میں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابومحمد سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے حتیٰ کہ جب ہم (مدینہ سے تین منزل دور وادی) قاحہ میں تھے تو ہم میں سے بعض احرام کی حالت میں تھے اور کوئی بغیر احرام کے تھا۔ اچانک میری نگاہ اپنے ساتھیوں پر پڑی تو وہ ایک دوسرے کو کچھ دکھا رہے تھے میں نے دیکھا تو ایک زیبرا تھا میں نے (فوراً) اپنے گھوڑے پر زین کسا اپنا نیزہ تھاما اور سوار ہو گیا۔ (جلدی میں) مجھ سے میرا کوڑا گر گیا میں نے اپنے ساتھیوں سے جو احرام باندھے ہوئے تھے کہا: مجھے کوڑا پکڑا دو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس (شکار) میں تمہاری کوئی مدد نہیں کریں گے۔ بالآخر میں اترا اسے پکڑا۔ پھر سوار ہوا اور زیبرے کو اس کے پیچھے سے جا لیا اور وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا۔ میں نے اسے اپنے نیزے کا نشانہ بنایا اور اسے گرا لیا۔ پھر میں اسے ساتھیوں کے پاس لے آیا۔ ان میں سے کچھ نے کہا: اسے کھا لو اور کچھ نے کہا: اسے مت کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کچھ فاصلے پر) ہم سے آگے تھے۔ میں نے اپنے گھوڑے کو حرکت دی اور آپ کے پاس پہنچ گیا (اور اس کے بارے میں پوچھا) آپ نے فرمایا: ”وہ حلال ہے اسے کھا لو۔“

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ ، تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ ، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ فَأَخَذَهُ ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ ، فَأَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ " ،

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، حتی کہ جب مکہ کا کچھ راستہ طے کر لیا تو وہ اپنے کچھ محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے، جبکہ وہ خود محرم نہیں تھے تو انہوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو گئے اور اپنے ساتھیوں سے درخواست کی کہ اسے اس کا چابک پکڑا دیں، انہوں نے اس سے انکار کر دیا، انہوں نے ان سے اپنا نیزہ مانگا، اس سے بھی انہوں نے انکار کر دیا، انہوں نے اسے خود ہی لیا پھر گدھے پر حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھیوں نے اس سے کھا لیا اور کچھ نے (کھانے سے) انکار کر دیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عنایت فرمایا ہے۔‘‘

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حِمَارِ الْوَحْشِ ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ " .

مصنف یہی روایت جنگلی گدھے کے بارے میں، زید بن اسلم سے ابو نضر کی مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کرتے ہیں، صرف اتنا فرق ہے کہ زید بن اسلم بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت ہے۔‘‘

وحَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : انْطَلَقَ أَبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ ، وَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَدُوًّا بِغَيْقَةَ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِهِ يَضْحَكُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، إِذْ نَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَطَعَنْتُهُ فَأَثْبَتُّهُ ، فَاسْتَعَنْتُهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي ، فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا ، فَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ لَقِيتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تَرَكْتُهُ بِتَعْهِنَ وَهُوَ قَائِلٌ السُّقْيَا ، فَلَحِقْتُهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ ، وَإِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ ، انْتَظِرْهُمْ فَانْتَظَرَهُمْ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَدْتُ وَمَعِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْقَوْمِ : " كُلُوا " ، وَهُمْ مُحْرِمُونَ .

یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے انہوں نے کہا: مجھ سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے حدیث بیان کی کہا: میرے والد حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ان کے ساتھیوں نے (عمرے) کا احرام باندھا لیکن انہوں نے نہ باندھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ غیقہ مقام پر دشمن (گھات میں) ہے (مگر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے۔ (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہمراہ تھا وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ہنس رہے تھے۔ اتنے میں میں نے دیکھا تو میری نظر زیبرے پر پڑی میں نے اس پر حملہ کر دیا اور اسے نیزہ مار کر بے حرکت کر دیا پھر میں نے ان سے مدد چاہی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر ہم نے اس کا گوشت تناول کیا۔ اور ہمیں اندیشہ ہوا کہ ہم (آپ سے) کاٹ (کر الگ کر) دیے جائیں گے۔ تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں روانہ ہوا کبھی میں گھوڑے کو بہت تیز دوڑاتا تو کبھی (آرام سے) چلتا آدھی رات کے وقت مجھے بنو غفار کا ایک شخص ملا میں نے اس سے پوچھا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاں ملے تھے؟ اس نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تعہن کے مقام پر چھوڑا ہے آپ فرما رہے تھے سُقیا (پہنچو) چنانچہ میں آپ سے جا ملا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور انہیں ڈر ہے کہ انہیں آپ سے کاٹ (کر الگ کر) دیا جائے گا۔ آپ ان کا انتظار فرما لیجیے۔ تو آپ نے (وہاں) ان کا انتظار فرمایا۔ پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے شکار کیا تھا اور اس کا بچا ہوا کچھ (حصہ) میرے پاس باقی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”کھا لو“ جبکہ وہ سب احرام کی حالت میں تھے۔

حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا وَخَرَجْنَا مَعَهُ ، قَالَ : فَصَرَفَ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ ، فَقَالَ : " خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى تَلْقَوْنِي " ، قَالَ : فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ فَلَمَّا انْصَرَفُوا قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ ، إِلَّا أَبَا قَتَادَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يُحْرِمْ ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ ، فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا ، فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهَا ، قَالَ : فَقَالُوا : أَكَلْنَا لَحْمًا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ ، قَالَ : فَحَمَلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ الْأَتَانِ ، فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَحْرَمْنَا وَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا ، فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا ، فَقُلْنَا نَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ ، فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا ، فَقَالَ : " هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَوْ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ ؟ ، قَالَ : قَالُوا : لَا ، قَالَ : " فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا " ،

عثمان بن عبداللہ بن موہب نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے نکلے۔ ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے، کہا آپ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں کچھ لوگوں کو جن میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ہٹا (کر ایک سمت بھیج دیا اور فرمایا: ”ساحل سمندر لے کر چلو حتیٰ کہ مجھ سے آملو۔“ کہا: انہوں نے ساحل سمندر کا راستہ اختیار کیا۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کیا تو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ سب نے احرام باندھ لیا (بس) انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا۔ اسی اثنا میں جب وہ چل رہے تھے انہوں نے زیبرے دیکھے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک مادہ زیبرا کو گرا لیا۔ وہ (لوگ) اترے اور اس کا گوشت تناول کیا۔ کہا وہ (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کہنے لگے: ہم نے (تو شکار کا گوشت کھا لیا جبکہ ہم احرام کی حالت میں ہیں۔ (راوی نے) کہا: انہوں نے مادہ زیبرے کا بچا ہوا گوشت اٹھا لیا (اور چل پڑے) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے کہنے لگے: ہم سب نے احرام باندھ لیا تھا جبکہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک مادہ زیبرا مار لیا۔ پس ہم اترے اور اس کا گوشت کھایا۔ بعد میں ہم نے کہا: ہم احرام باندھے ہوئے ہیں اور شکار کا گوشت کھا رہے ہیں! پھر ہم نے اس کا باقی گوشت اٹھایا (اور آگئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے (شکار کرنے کو) کہا تھا؟ یا کسی چیز سے اس (شکار) کی طرف اشارہ کیا تھا؟“ انہوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا: ”اس کا باقی گوشت بھی تم کھا لو۔“

وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ شَيْبَانَ جَمِيعًا ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي رِوَايَةِ شَيْبَانَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا ؟ " ، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ : قَالَ : " أَشَرْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ أَوْ أَصَدْتُمْ " ، قَالَ شُعْبَةُ : لَا أَدْرِي ، قَالَ : أَعَنْتُمْ أَوْ أَصَدْتُمْ .

شعبہ اور شیبان دونوں نے عثمان بن عبداللہ بن موہب سے اسی سند کے ساتھ روایت کی۔ شیبان کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے ان سے کہا تھا کہ وہ اس پر حملہ کریں یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا؟“ شعبہ کی روایت میں ہے کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے اشارہ کیا یا مدد کی شکار کرایا؟“ شعبہ نے کہا: میں نہیں جانتا کہ آپ نے کہا: ”تم لوگوں نے مدد کی“ یا کہا: ”تم لوگوں نے شکار کرایا۔“

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْحُدَيْبِيَةِ ، قَالَ : فَأَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ غَيْرِي ، قَالَ : فَاصْطَدْتُ حِمَارَ وَحْشٍ ، فَأَطْعَمْتُ أَصْحَابِي وَهُمْ مُحْرِمُونَ ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْبَأْتُهُ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْ لَحْمِهِ فَاضِلَةً ، فَقَالَ : " كُلُوهُ " ، وَهُمْ مُحْرِمُونَ ،

یحییٰ (بن ابی کثیر) سے روایت ہے کہا: مجھے عبداللہ بن ابی قتادہ نے خبر دی کہ ان کے والد نے اللہ ان سے راضی ہو۔ انہیں خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شرکت کی، کہا: میرے علاوہ سب نے عمرے کا (احرام باندھ لیا اور) تلبیہ شروع کر دیا۔ کہا: میں نے ایک زیبرا شکار کیا اور اپنے ساتھیوں کو کھلایا جبکہ وہ سب احرام کی حالت میں تھے۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا انہیں بتایا کہ ہمارے پاس اس (شکار) کا کچھ گوشت بچا ہوا ہے۔ آپ نے (ساتھیوں سے) فرمایا: ”اسے کھاؤ“ حالانکہ وہ سب احرام میں تھے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ مُحْرِمُونَ ، وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ فَقَالَ : " هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ ؟ " ، قَالُوا : مَعَنَا رِجْلُهُ ، قَالَ : " فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَهَا " ،

ہمیں ابوحازم نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے انہوں نے اپنے والد (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) سے حدیث سنائی کہ وہ لوگ (مدینہ سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے وہ احرام میں تھے اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بغیر احرام کے تھے۔ اور (مذکورہ بالا) حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ (بچا ہوا) ہے؟“ انہوں نے عرض کی، اس کی ایک ران ہمارے پاس موجود ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لے لی اور اسے تناول فرمایا۔

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَإِسْحَاق ، عَنْ جَرِيرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي نَفَرٍ مُحْرِمِينَ وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ قَالَ : " هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ أَوْ أَمَرَهُ بِشَيْءٍ ؟ " ، قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَكُلُوا " .

عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ایک محرم جماعت کے ساتھ تھے اور وہ غیر محرم تھے، پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی، اس میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم میں سے کسی انسان نے انہیں اشارہ کیا تھا، یا کسی قسم کا مشورہ دیا تھا؟‘‘ انہوں نے جواب دیا، نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کھا لو۔‘‘

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1196
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2854 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2854. حضرت ابو قتادہ ؓسے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نکلے اور وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ (آپ سے) پیچھے رہ گئے۔ (ابو قتادہ ؓکے)دوسرے ساتھی تو محرم تھے لیکن انھوں نے خود احرام نہیں باندھا تھا۔ ان کے ساتھیوں نے ان سے پہلے ایک گاؤخر دیکھا۔ انھوں نے دیکھتے ہی اسے چھوڑدیا لیکن قتادہ ؓ اسے دیکھتے ہی اپنے گھوڑے پر سوارہوئے جسے "جرادہ" کہا جاتا تھا انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: وہ اسے کوڑا پکڑائیں، لیکن انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا، چنانچہ انھوں نے اسے خود پکڑا اور گاؤخر پر حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا۔ پھر انھوں نے خود بھی اس کا گوشت کھایا اور ان کے ساتھیوں نے بھی کھایا، پھر وہ پشیمان ہوئے۔ وہ آپ ﷺ کی خدمت میں آئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ’’ کیا اس کے گوشت میں سے تمھارے پاس کچھ بچا ہوا باقی ہے؟‘‘ انھوں نے کہا: ہمارے پاس اس کی ایک ران باقی ہے۔ نبی ﷺ نے اسے لیا اور تناول فرمایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2854]
حدیث حاشیہ: گھوڑے کا نام جرادہ تھا‘ اس سے باب کا مطلب ثابت ہوا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2854 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2914 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2914. حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے یہاں تک کہ مکہ جانے والے ایک راستے میں اپنے محرم ساتھیوں سمیت آپ سے پیچھے رہ گئے جبکہ انھوں نے احرام نہیں باندھا تھا۔ اس دوران میں انھوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ اسے کوڑا پکڑادیں۔ انھوں نے انکار کردیا۔ پھر انہوں نے اپنا نیزہ مانگا تو انھوں نے اس سے بھی انکار کردیا، تاہم انھوں نے خود نیزہ پکڑا اور گاؤخر پر حملہ کرکے اسے مار دیا۔ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ نے کھالیا اور کچھ نے انکار کردیا۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ سے ملے تو انھوں نے آپ سے اس کے متعلق سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ تورزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں دیا تھا۔‘‘ زید بن اسلم سے روایت ہے، انھوں نے عطاء بن یسار سے، انھوں نے ابوقتادہ سے گاوخر کے متعلق ابو نضر کی حدیث کی طرح بیان کیا، البتہ اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:2914]
حدیث حاشیہ: اس حدیث میں حضرت ابو قتادہ ؓ کا نیزوں سے مسلح ہونا مذکور ہے‘ اسی سے باب کا مطلب ثابت ہوا۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت کا مقصد یہ کہ مسلمان کے لئے یہ امر باعث فخر ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ کا سپاہی ہے ہر حال میں سپاہیانہ زندگی گزارنا یہی اس کا اوڑھنا اور بچھونا ہے۔
صد افسوس کہ عام اہل اسلام بلکہ خواص تک ان حقائق اسلام سے حد درجہ غافل ہوگئے ہیں۔
علمائے ظواہر صرف فروعی مسائل میں الجھ کر رہ گئے اور حقائق اسلام نظروں سے بالکل اوجھل ہوگئے جس کی سزا سارے مسلمان عام طور پر غلامانہ زندگی کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔
إلا من شاء اللہ
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2914 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2914 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2914. حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے یہاں تک کہ مکہ جانے والے ایک راستے میں اپنے محرم ساتھیوں سمیت آپ سے پیچھے رہ گئے جبکہ انھوں نے احرام نہیں باندھا تھا۔ اس دوران میں انھوں نے ایک جنگلی گدھا دیکھا تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ اسے کوڑا پکڑادیں۔ انھوں نے انکار کردیا۔ پھر انہوں نے اپنا نیزہ مانگا تو انھوں نے اس سے بھی انکار کردیا، تاہم انھوں نے خود نیزہ پکڑا اور گاؤخر پر حملہ کرکے اسے مار دیا۔ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ نے کھالیا اور کچھ نے انکار کردیا۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ سے ملے تو انھوں نے آپ سے اس کے متعلق سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ تورزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں دیا تھا۔‘‘ زید بن اسلم سے روایت ہے، انھوں نے عطاء بن یسار سے، انھوں نے ابوقتادہ سے گاوخر کے متعلق ابو نضر کی حدیث کی طرح بیان کیا، البتہ اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:2914]
حدیث حاشیہ:

احرام والا آدمی خود شکار نہیں کر سکتا اور نہ کسی شکاری آدمی کا تعاون ہی کر سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو قتادہ ؓنے اپنے ساتھیوں سے اپنا نیزہ پکڑنا چاہا، لیکن انھوں نے انکار کردیا کیونکہ ایسا کرنے سے احرام والے کا تعاون شامل ہو جاتا ہےجبکہ محرم شکار کی طرف اشارہ بھی نہیں کر سکتا۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوقتادہ ؓ نیزے سے مسلح تھے۔
امام بخاری ؓ نے اس سے نیزے کے استعمال کا جواز ثابت کیا ہے لیکن اس حدیث سے نیزے کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی بلکہ حضرت ابن عمر ؓ کے متعلق روایت میں اس کی فضیلت مذکورہ ہے واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2914 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5407 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5407. سیدنا ابو قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں ایک دن نبی ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک مقام پر بیٹھا ہوا تھا جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے آگے پڑاؤ کیا تھا۔ دیگر تمام صحابہ احرام باندھے ہوئے تھے لیکن میں احرام میں نہیں تھا۔ لوگوں نے ایک گورخر دیکھا۔ میں اس وقت اپنے جوتے گانٹھنے میں مصروف تھا انہوں نے مجھے گورخر کے متعلق کچھ نہ بتایا لیکن وہ چاہتے تھے کہ میں اس کی طرف دیکھ لوں اچانک میں ادھر متوجہ ہوا تو وہ مجھے نظر آ گیا۔ پھر میں اپنے گھوڑے کی طرف گیا، اس پر زین رکھی اور سوار ہو گیا لیکن اپنا کوڑا اور نیزہ نیچے بھول گیا میں نے ان سے کہا کہ مجھے نیزہ اور کوڑا پکڑا دو۔ انہوں نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! ہم اس(شکار کے) معاملے میں تمہاری کسی قسم کی مدد نہیں کر سکتے۔ میں یہ سن کر غصے سے بھر گیا چنانچہ میں نے اتر کر یہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:5407]
حدیث حاشیہ: گوشت چھری سے کاٹ کر کھانے کی ممانعت ایک حدیث میں ہے مگر ابو قتادہ نے کہا کہ وہ حدیث ضعیف ہے۔
حافظ نے کہا اس کا ایک شاہد اور ہے جسے ترمذی نے صفوان بن امیہ سے نکالا کہ گوشت کو منہ سے نوچ کر کھاؤ وہ جلدی ہضم ہو گا۔
اس کی سند بھی ضعیف ہے۔
مافي الباب یہ ہے کہ منہ سے نوچ کر کھانا اولیٰ ہوگا۔
میں (مولانا وحیدالزماں مرحوم)
کہتا ہوں جب گوشت چھری سے کاٹ کر کھانا درست ہوا تو روٹی بھی چھری سے کاٹ کر کھانا درست ہوگی۔
اسی طرح کانٹے سے کھانا بھی درست ہو گا۔
اسی طرح چمچہ سے بھی اور جن لوگوں نے ان باتوں میں تشدد اور غلو کیا ہے اور ذرا ذرا سی باتوں پرمسلمانوں کو کافر بنایا ہے میں ان کا یہ تشدد ہرگز پسند نہیں کرتا۔
کافروں کی مشابہت کرنا تومنع ہے مگریہ وہی مشابہت ہے جو ان کے مذہب کی خاص نشانی ہو جیسے صلیب لگانا یا انگریزوں کی ٹوپی پہننا لیکن جب کسی کی نیت مشابہت کی نہ ہو، یہی لباس مسلمانوں میں بھی رائج ہومثلاً ترک یا ایران کے مسلمانوں میں تواس کی مشابہت میں داخل نہیں کر سکتے اورنہ ایسے کھانے پینے لباس کو فروعی باتوں کی وجہ سے مسلمان کے کفر کا فتویٰ دے سکتے ہیں (وحیدی)
مگر مسلمان کے لیے دیگر اقوام کی مخصوص عادات و غلط روایات سے بچنا ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5407 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5407 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5407. سیدنا ابو قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں ایک دن نبی ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک مقام پر بیٹھا ہوا تھا جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے آگے پڑاؤ کیا تھا۔ دیگر تمام صحابہ احرام باندھے ہوئے تھے لیکن میں احرام میں نہیں تھا۔ لوگوں نے ایک گورخر دیکھا۔ میں اس وقت اپنے جوتے گانٹھنے میں مصروف تھا انہوں نے مجھے گورخر کے متعلق کچھ نہ بتایا لیکن وہ چاہتے تھے کہ میں اس کی طرف دیکھ لوں اچانک میں ادھر متوجہ ہوا تو وہ مجھے نظر آ گیا۔ پھر میں اپنے گھوڑے کی طرف گیا، اس پر زین رکھی اور سوار ہو گیا لیکن اپنا کوڑا اور نیزہ نیچے بھول گیا میں نے ان سے کہا کہ مجھے نیزہ اور کوڑا پکڑا دو۔ انہوں نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! ہم اس(شکار کے) معاملے میں تمہاری کسی قسم کی مدد نہیں کر سکتے۔ میں یہ سن کر غصے سے بھر گیا چنانچہ میں نے اتر کر یہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:5407]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ چھری کانٹا استعمال کیے بغیر گوشت کو منہ سے نوچ نوچ کر کھانا بھی جائز ہے بلکہ بہتر ہے کیونکہ ایسا کرنے سے اس کے جلدی ہضم ہونے میں مدد ملتی ہے۔
(2)
اس حدیث میں ہے کہ جب حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے گورخر کا شانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دانتوں سے نوچ نوچ کر کھایا۔
اس کے لیے لفظ تعرق استعمال ہوا ہے۔
جس ہڈی پر گوشت ہو اسے عِرق کہتے ہیں اور اگر اسے نوچ نوچ کر بالکل صاف کر دیا جائے تو اسے عراق کہا جاتا ہے۔
بہرحال گوشت کھانے کے لیے چھری کانٹا استعمال کرنا اور دانتوں سے نوچ کر کھانا دونوں طرح جائز ہے، البتہ نوچ کر کھانا مستحب ہے۔
(فتح الباري: 677/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5407 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1823 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1823. حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ قاحہ میں تھے جو مدینہ سے تین منزل پر ہے۔ ہم میں سے بعض محرم تھے اور کچھ احرام کے بغیر تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو دیکھا کہ وہ کوئی چیز دیکھ رہے ہیں۔ میں نے نظر اٹھائی تو ایک گاؤخر کو دیکھا (میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا، نیزہ اور کوڑا ہاتھ میں لیا) تو مجھ سے کوڑا گرگیا (میں نے کہا مجھے کوڑا اٹھا دو) انھوں نے کہا: ہم بحالت احرام ہیں اس لیے ہم تیری مددنہیں کرسکتے، چنانچہ میں نے خود اس کو پکڑکر اٹھایا۔ پھر میں ٹیلے کے پیچھے سے گاؤخر کے پاس آیا اور اسے زخمی کردیا۔ جب میں اسے لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو ان میں سے کچھ نے کہا: اسے تناول کرو جبکہ بعض کہنے لگے۔ اسے نہ کھاؤ، اس لیے میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ ہم سے کچھ آگے تھے۔ میں نے آپ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ’’ کھاؤ یہ حلال ہے۔‘‘۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:1823]
حدیث حاشیہ: ساتھیوں نے حضرت ابوقتادہ ؓ کا کوڑا اٹھانے میں بھی مدد نہ کی اس سے باب کا مطلب ثابت ہوا کہ حالت احرام میں کسی بھی غیر محرم شکاری کی بہ سلسلہ شکار کوئی مدد نہ کی جائے۔
اسی صورت میں اس شکار کا گوشت احرام والوں کو بھی کھانا درست ہے، اس سے حالت احرام کی روحانی اہمیت اور بھی ظاہر ہوتی ہے۔
آدمی محرم بننے کے بعد ایک خالص مخلص فقیر الی اللہ بن جاتا ہے پھر شکار یا اسکے متعلق اور اس سے اس کو کیا واسطہ۔
جو حج ایسے ہی نیک جذبات کے ساتھ ہوگا وہی حج مبرور ہے۔
نافع بن مرجس عبداللہ بن عمر ؓ کے آزاد کردہ ہیں۔
یہ دیلمی تھے اور اکابر تابعین میں سے ہیں، حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوسعید خدری ؓ سے حدیث کی سماعت کی ہے۔
ان سے بہت سے اکابر علماءحدیث نے روایت کی ہے جن میں امام زہری، امام مالک بن انس شامل ہیں۔
حدیث کے بارے میں یہ بہت ہی مشہورشخص ہیں۔
نیز ان ثقہ راویوں میں سے ہیں، جن کی روایت شک و شبہ سے بالا ہوتی ہے اور جن کی حدیث پر عمل کیا جاتا ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث کا بڑا حصہ ان پر موقوف ہے۔
امام مالک فرماتے ہیں کہ جب نافع کے واسطے سے ابن عمر ؓ کی حدیث سن لیتا ہوں تو کسی اور راوی سے سننے سے بے فکر ہو جاتا ہوں۔
117ھ میں وفات پائی سرجس میں سین مہملہ اول مفتوح راءساکن اور جیم مکسور ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1823 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1823 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1823. حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ قاحہ میں تھے جو مدینہ سے تین منزل پر ہے۔ ہم میں سے بعض محرم تھے اور کچھ احرام کے بغیر تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو دیکھا کہ وہ کوئی چیز دیکھ رہے ہیں۔ میں نے نظر اٹھائی تو ایک گاؤخر کو دیکھا (میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا، نیزہ اور کوڑا ہاتھ میں لیا) تو مجھ سے کوڑا گرگیا (میں نے کہا مجھے کوڑا اٹھا دو) انھوں نے کہا: ہم بحالت احرام ہیں اس لیے ہم تیری مددنہیں کرسکتے، چنانچہ میں نے خود اس کو پکڑکر اٹھایا۔ پھر میں ٹیلے کے پیچھے سے گاؤخر کے پاس آیا اور اسے زخمی کردیا۔ جب میں اسے لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو ان میں سے کچھ نے کہا: اسے تناول کرو جبکہ بعض کہنے لگے۔ اسے نہ کھاؤ، اس لیے میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ ہم سے کچھ آگے تھے۔ میں نے آپ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ’’ کھاؤ یہ حلال ہے۔‘‘۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:1823]
حدیث حاشیہ:
(1)
بعض حضرات کا خیال ہے کہ جن چیزوں سے شکار کیا جاتا ہے ان کے ذریعے سے محرم کے لیے غیر محرم کی مدد کرنا جائز نہیں، البتہ جن سے شکار نہیں کیا جاتا ان سے مدد کی جا سکتی ہے۔
امام بخاری ؒ نے ان کی تردید فرمائی اور واضح کیا کہ ہر کام یا بات کے ذریعے سے مدد کرنا منع ہے، چنانچہ اس حدیث میں ہے کہ حضرت ابو قتادہ ؓ کے ساتھیوں نے اس سلسلے میں ان کی کوئی مدد نہ کی بلکہ صاف انکار کر دیا، پھر وہ خود گھوڑے سے اترے اور اپنا کوڑا اٹھایا۔
(2)
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسرے ساتھی کا کوڑا چھین کر لے گئے۔
اگر ایسی صورت ہو تو احرام والوں کے لیے شکار کا گوشت کھانا جائز ہے۔
روایات سے پتہ چلتا ہے کہ ساتھیوں کو شکار کا گوشت کھانے کے بعد شک پیدا ہوا۔
اسی طرح صحابہ کے کردار سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں اس بات کا علم تھا کہ شکار کے سلسلے میں محرم آدمی کسی غیر محرم کی مدد نہیں کر سکتا۔
(فتح الباري: 37/4)
واللہ أعلم۔
(3)
حضرت صالح بن کیسان مدینہ طیبہ میں رہتے تھے، وہ ایک دفعہ مکہ مکرمہ آئے تو عمرو بن دینار نے اپنے ساتھیوں سے کہا: جاؤ، ان سے تصدیق کرو۔
امام بخاری ؒ نے حدیث کے آخر میں اسی حقیقت کو بیان کیا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1823 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1822 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1822. حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ہم حدیبیہ کے سال نبی ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ آپ کے تمام اصحاب نے احرام باندھ لیا مگر میں نے احرام نہ باندھا۔ پھر ہمیں خبر ملی تھی کہ مقام غیقہ میں دشمن موجود ہے، لہٰذا ہم ان کی طرف چل دیے۔ میرے ساتھیوں نےایک جنگلی گدھا دیکھا تو وہ ایک دوسرےکو دیکھ کر ہنسے۔ میں نے نظر اٹھائی تو اسے دیکھا، اس کے پیچھے گھوڑا دوڑایا اور اسے زخمی کر کے گرالیا۔ پھر میں نے اپنے ساتھیوں سے مدد چاہی لیکن انھوں نے میری مدد کرنے سے صاف انکار کردیا۔ بالآخر ہم سب نے اس کا گوشت کھایا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ سے جا ملا۔ ہمیں خوف تھا کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے پیچھےرہ جائیں گے اس لیے میں کبھی اپنے گھوڑےکو تیزچلاتا اور کبھی آہستہ چلاتا، بالآخرمیں آدھی رات کو بنو غفارکے ایک شخص سے ملا تو اس سے دریافت کیا کہ تونے رسول اللہ ﷺ کو کہاں چھوڑا ہے؟اس نے کہا: میں نے آپ کو تعہن چشمےپر چھوڑاتھا اور آپ مقام سقیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:1822]
حدیث حاشیہ:
(1)
محرم کے خود شکار کرنے پر پابندی ہے اور وہ اس سلسلے میں کسی قسم کا تعاون بھی نہیں کر سکتا حتی کہ وہ اس کی طرف اشارہ تک بھی نہیں کر سکتا، چنانچہ حدیث میں ہے کہ ابو قتادہ ؓ کے ساتھیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تو آپ نے فرمایا: ’’ تم میں سے کسی نے اس کی طرف اشارہ تو نہیں کیا تھا؟‘‘ انہوں نے کہا: نہیں۔
اس پر آپ نے فرمایا: ’’شکار کا بقیہ گوشت کھا لو‘‘ (صحیح البخاري، جزاءالصید، حدیث: 1824) (2)
اس حدیث میں ہے کہ صحابۂ كرام ؓ جنگلی گدھا دیکھ کر ہنس پڑے۔
یہ ہنسنا اشارے کے لیے نہیں بلکہ اظہار تعجب کے طور پر تھا کہ ہم قدرت رکھنے کے باوجود احرام کی وجہ سے اسے شکار نہیں کر سکتے۔
(3)
امام بخاری ؒ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ شکار دیکھ کر اس طرح ہنس پڑنا اس کی طرف اشارہ کرنا نہیں ہے، اس لیے اگر شکار کے سلسلے میں محرم آدمی نے کسی غیر محرم سے کسی قسم کا تعاون نہ کیا ہو تو شکار کا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ شکار محرم کے لیے نہ کیا گیا ہو۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1822 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4350 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نیل گائے کا گوشت کھانے کی اباحت کا بیان۔`
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک نیل گائے شکار کیا اور اسے اپنے ساتھیوں کے پاس لے کر آئے، وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے اور میں حلال (یعنی احرام سے باہر) تھا تو ہم نے اس میں سے کھایا، پھر ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے سے کہا: ہم اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیتے تو بہتر ہوتا، چنانچہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: " تم نے ٹھیک کیا "، پھر فرمایا: " کیا تم لوگوں کے پاس اس میں سے کچھ ہے؟ " ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4350]
اردو حاشہ: غیر محرم کا اپنے لیے کیا ہوا شکار محرم کے لیے کھانا جائز ہے بشرطیکہ اس نے کوئی تعاون نہ کیا ہو حتیٰ کہ اشارہ تک نہ کیا ہو، نیز شکار کرتے وقت غیر محرم کی نیت محرمین کے لیے شکار کی نہ ہو۔ بلکہ وہ شکار اپنے لیے کرے، پھر بے شک وہ اس میں سے کچھ گوشت کسی محرم کو دے دے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4350 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2827 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جب محرم شکار کو دیکھ کر ہنسے اور غیر محرم تاڑ جائے اور شکار کر ڈالے تو کیا محرم اسے کھائے یا نہ کھائے؟`
عبداللہ بن ابی قتادہ کہتے ہیں کہ میرے والد صلح حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے تو ان کے ساتھیوں نے احرام باندھ لیا لیکن انہوں نے نہیں باندھا، (ان کا بیان ہے) کہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ تھا کہ اسی دوران ہمارے اصحاب ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسے، میں نے نظر اٹھائی تو اچانک ایک نیل گائے مجھے دکھائی پڑا، میں نے اسے نیزہ مارا اور (اسے پکڑنے اور ذبح کرنے کے لیے) ان س۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2827]
اردو حاشہ: (1) اگر محرم شکاری کے ساتھ کوئی تعاون نہ کرے اور اسے مطلع کرنے کے لیے نہ ہنسے بلکہ اتفاقاً شکار دیکھ کر ہنس پڑے اور اس سے شکاری کو اندازہ ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔ ایسا شکار جو حلال آدمی نے کیا ہو، محرم بھی کھا سکتے ہیں بشرطیکہ شکاری نے خاص ان کے لیے شکار نہ کیا ہو۔ (2) روایت تفصیلاً گزر چکی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے حدیث: 2818۔ (3) حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے احرام نہ باندھنے کی ایک اور وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس وقت تک مواقیت مقرر نہیں ہوئے تھے۔ اس وقت حرم شروع ہونے سے پہلے پہلے کہیں سے بھی احرام باندھا جا سکتا تھا۔ میقات حجۃ الوداع میں مقرر ہوئے، مگر یہ وجہ اتنی قوی معلوم نہیں ہوتی کیونکہ یہ وجہ تو سب کے لیے برابر تھی جبکہ دوسروں نے احرام باندھ رکھا تھا۔ لازماً کوئی اور وجہ تھی جس کا ذکر ہو چکا۔ واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2827 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 311 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´حالت احرام والوں کے لئے شکار کیا ہوا جانور بطور تحفہ`
«. . . 426- وعن أبى النضر عن نافع مولى أبى قتادة الأنصاري عن أبى قتادة: أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا كنا ببعض طريق مكة تخلف مع أصحاب له محرمين وهو غير محرم. فرأى حمارا وحشيا فاستوى على فرسه، ثم سأل أصحابه أن يناولوه سوطه فأبوا، فسألهم رمحه فأبوا، فأخذ، ثم شد على الحمار فقتله، فأكل بعض أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم وأبى بعضهم، فلما أدركوا رسول الله صلى الله عليه وسلم سألوه عن ذلك، فقال: "إنما هي طعمة أطعمكموها الله." . . .»
". . . سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ابوقتادہ الانصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: جب ہم مکے کے بعض راستے میں تھے تو وہ بعض ساتھیوں سمیت پیچھے رہ گئے اور انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا۔ پھر انہوں نے ایک گورخر (جنگلی حلال جانور) دیکھا تو اپنے گھوڑے پر چڑھ گئے پھر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ انہیں ان کا کوڑا دے دیں مگر ساتھیوں نے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے کہا کہ ان کا نیزہ انہیں دے دیں مگر ساتھیوں نے (اس سے بھی) انکار کر دیا تو انہوں نے خود پکڑ لیا پھر گورخر پر حملہ کر کے اسے شکار کر لیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ نے اس گورخر کے گوشت میں سے کھایا اور بعض نے کھانے سے انکار کر دیا پھر جب ان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (شکار) کے بارے میں پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ (حلال) کھانا ہے جو تمہیں اللہ نے کھلایا ہے۔ . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 311]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 2914، ومسلم 57/1196، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ حالت احرام میں شکار کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر کوئی ایسا شخص شکار کرے جو احرام میں نہیں تو اس کا کیا ہوا شکار ان لوگوں کے لئے بھی حلال ہے جو حالت احرام میں ہیں۔ یاد رہے کہ حالتِ احرام کے علاوہ شکار مطلقاً حلال ہے اِلا یہ کہ کوئی دلیل اسے خاص کر دے۔
➋ مشتبہ چیزوں سے بچنا چاہئے۔
➌ سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ حالتِ احرام میں ہرن کے بھونے ہوئے گوشت سے ناشتہ کرتے تھے۔ [الموطأ 1/350 ح795 وسنده صحيح]
➍ جو چیز منع ہے اس میں کسی شخص سے تعاون نہیں کرنا چاہئے مثلاً اگر کوئی شخص کہے کہ سگریٹ یا نسوار لے آؤ تو اسے یہ چیزیں لاکر نہیں دینی چاہئیں۔ یہی حکم دوسری ممنوعہ چیزوں کا بھی ہے۔
➎ اتباع سنت میں صحابہ کرام ہر وقت مستعد و ثابت قدم رہتے تھے۔
➏ حالت احرام میں گوشت خرید کر کھانا جائز ہے۔
➐ اگر کسی بات میں شک ہو تو کتاب و سنت کی طرف رجوع کر کے تصدیق کر لینی چاہیے۔
➑ نیز دیکھئے: حدیث [البخاري 5491، ومسلم 58/1196]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 426 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 599 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´احرام اور اس کے متعلقہ امور کا بیان`
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے ان کے جنگلی گدھے کو شکار کرنے کے قصے میں جبکہ انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا، مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا اور وہ احرام والے تھے " کیا تم میں سے کسی نے اسے حکم دیا تھا یا اس کی طرف کسی چیز سے اشارہ کیا تھا؟ " انہوں نے کہا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " پس کھاؤ اس کے گوشت سے جو بچ گیا ہے۔ " (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 599]
599 لغوی تشریح:
«فِي فِصَّةِ صَيْدِهِ الْحِمَارِ الْوَحْشِي» جنگلی گدھے کو شکار کرنے کے قصے میں۔

فوائد و مسائل:
➊ اس قصے کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کے لیے نکلے، مگر اپنے چند ساتھیوں سمیت پیچھے رہ گئے۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا تھا، البتہ ان کے ساتھی احرام کی حالت میں تھے۔ جب انہوں نے وحشی گدھا دیکھا تو اسے نظر انداز کر دیا۔ جب ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی نظر اس پر پڑی تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو گئے اور ساتھیوں سے کہا کہ میری لاٹھی پکڑاؤ، انہوں نے اس سے انکار کر دیا، پھر ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اس پر حملہ آور ہوئے اور اسے زخمی کر دیا۔ ذبح کر کے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بھی اس کا گوشت کھایا اور ان کے ساتھیوں نے بھی کھایا مگر پھر وہ پریشان ہو گئے۔ بالآخر جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سارا ماجرا عرض کیا جس کا جواب اس روایت میں مذکور ہے۔
➋ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جنگلی جانور کا شکار جب غیر محرم کرے اور محرم نے اس سلسلے میں اس کی کوئی مدد نہ کی ہو اور نہ اس بارے میں کوئی اشارہ ہی کیا ہو تو محرم بھی اس میں سے کھا سکتا ہے مگر اس بارے میں مزید تفصیل ہے جو آئندہ حدیث کے تحت آرہی ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 599 سے ماخوذ ہے۔