صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب اسْتِحْبَابِ الطّيبِ قُبيْلَ الْإِحْرَامِ فِي الْبَدَنِ وَاسْتِحُبَا بِهِ بِالْمِسْكِ وَأَنَّهُ لٓا بَاْسَ بِبِقَاءِ وَبِيصِهِ وَهُوَ بَريقَةٌ وَّلَمْعَانْهُ باب: احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور کستوری کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ سَعِيدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الرَّجُلِ يَتَطَيَّبُ ، ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا ، فَقَالَ : مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا ، لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَأَخْبَرْتُهَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ ، ثُمَّ طَافَ فِي نِسَائِهِ ، ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا " .ابوعوانہ نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو خوشبو لگاتا ہے پھر احرام باندھ لیتا ہے انہوں نے جواب دیا: ”مجھے یہ پسند نہیں کہ میں احرام باندھوں (اور) مجھ سے خوشبو پھوٹ رہی ہو یہ بات مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں اپنے اوپر تار کول مل لوں۔“ پھر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں بتایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا ہے: ”مجھے یہ پسند نہیں کہ میں محرم ہوں اور مجھ (میرے جسم) سے خوشبو پھوٹ رہی ہو اس سے زیادہ مجھے یہ پسند ہے کہ میں اپنے اوپر تار کول مل لوں۔“ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھتے وقت خوشبو لگائی تھی پھر آپ نے اپنی تمام بیویوں کے ہاں چکر لگایا پھر آپ نے احرام کی نیت کر لی (احرام کا آغاز کر لیا یعنی خوشبو لگانے سے تھوڑی دیر بعد احرام باندھ لیا)۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ ، ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْضَخُ طِيبًا " .شعبہ نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے روایت کی، انہوں نے کہا میں نے اپنے والد کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کرتے سنا انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی پھر آپ اپنی تمام بیویوں کے ہاں تشریف لے جاتے بعد ازیں آپ احرام باندھ لیتے (اور) آپ سے خوشبو پھوٹ رہی ہوتی تھی۔
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : لَأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا ، قَالَ : فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ ، فَقَالَتْ : " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَافَ فِي نِسَائِهِ ، ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا " .سفیان نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی انہوں نے کہا میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا انہوں نے کہا: ”یہ بات کہ میں تار کول مل لوں مجھے اس کی نسبت زیادہ پسند ہے کہ میں احرام باندھوں اور مجھ سے خوشبو پھوٹ رہی ہو۔“ (محمد نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو ان (ابن عمر رضی اللہ عنہما) کی بات بتائی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی پھر آپ اپنی تمام بیویوں کے ہاں تشریف لے گئے پھر آپ محرم ہو گئے (احرام کی نیت کر لی)۔)
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
انضح طيبا: مجھ سے خوشبو کی مہک پھوٹے، خا اور حا انضخ اور انضح دونوں ہم معنی ہیں۔
(2)
لأن اطلي بقطران: میں تار کول یا گندھک سے لت پت ہوں۔