صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب اسْتِحْبَابِ الطّيبِ قُبيْلَ الْإِحْرَامِ فِي الْبَدَنِ وَاسْتِحُبَا بِهِ بِالْمِسْكِ وَأَنَّهُ لٓا بَاْسَ بِبِقَاءِ وَبِيصِهِ وَهُوَ بَريقَةٌ وَّلَمْعَانْهُ باب: احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور کستوری کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ، قَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " ، وَلَمْ يَقُلْ خَلَفٌ : وَهُوَ مُحْرِمٌ ، وَلَكِنَّهُ قَالَ وَذَاكَ طِيبُ إِحْرَامِهِ .منصور نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ احرام باندھ چکے ہیں۔ خلف نے "جبکہ آپ احرام باندھ چکے ہیں" کے الفاظ نہیں کہے۔ لیکن انہوں نے یہ کہا کہ وہ آپ کے احرام کی خوشبو تھی (جو آپ نے احرام باندھنے سے پہلے اپنے جسم کو لگوائی تھی)۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يُهِلُّ " .حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں گویا کہ میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں تلبیہ کہتے ہوئے خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُلَبِّي " ،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپﷺ تلبیہ کہہ رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، وَعَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " لَكَأَنِّي أَنْظُرُ " ، بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ .مسلم نے مسروق سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا لگتا ہے کہ میں دیکھ رہی ہوں (آگے) وکیع کی حدیث کے مانند ہے۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ " .حکم نے کہا: میں نے ابراہیم کو اسود سے حدیث بیان کرتے سنا انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جیسے میں (اب بھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بالوں کو جدا کرنے والی لکیروں (مانگ) میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہوا ہے۔
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " إِنْ كُنْتُ لَأَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ " .مالک بن مغول نے عبدالرحمان بن اسود سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے فرمایا: بلاشبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بالوں کو جدا کرنے والی لکیروں میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ احرام کی حالت میں ہیں۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ وَهُوَ السَّلُولِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاق بْنِ أَبِي إِسْحَاق السَّبِيعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق سَمِعَ ابْنَ الْأَسْوَدِ يَذْكُرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ يَتَطَيَّبُ بِأَطْيَبِ مَا يَجِدُ ، ثُمَّ أَرَى وَبِيصَ الدُّهْنِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ بَعْدَ ذَلِكَ " .حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ فرماتے تو جو بہترین خوشبو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میسر ہوتی، استعمال کرتے، پھر اس کے بعد میں آپﷺ کے سر اور آپ کی داڑھی میں تیل کی چمک دیکھتی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ مُحْرِمٌ " ،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں کستوری کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپﷺ احرام باندھے ہوئے ہیں۔
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .مصنف اپنے ایک اور استاد سے حسن بن عبید کی سند ہی سے مذکورہ بالا روایت جیسی روایت بیان کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
یہ مرکب خوشبو کی عمدہ قسم ہے جس میں کستوری بھی ہوتی تھی جیسا کہ قبل ازیں حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا احرام باندھنے سے پہلے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی میں لگا دیتی تھیں اور جب منیٰ میں رمی سے فارغ ہوتے تو طواف افاضہ سے پہلے آپ کو خوشبو لگاتیں۔
ان تمام باتوں کی وضاحت قبل ازیں پیش کردہ احادیث میں کی گئی ہے۔
واللہ أعلم
(1)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں حجۃ الوداع کے موقع پر احرام باندھتے اور کھولتے وقت ذریرہ خوشبو لگاتی تھی۔
یہ خوشبو چند خوشبوؤں کو ملا کر تیار کی جاتی اور یہ عمدہ خوشبو ہوتی تھی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عمدہ اور بہترین خوشبو کا انتخاب کرتی تھیں۔
یہ ان کے حسن ذوق کی علامت ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ بہترین خوشبو کی موجودگی میں دوسری گھٹیا خوشبو استعمال نہ کی جائے بلکہ عمدہ خوشبو کا استعمال ہی مستحب ہے۔
(فتح الباري: 453/10)
ایک حدیث میں ہے کہ بہترین خوشبو کستوری ہے۔
(صحیح مسلم، الألفاظ من الأدب وغیرھا، حدیث: 5878 (2252)
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام سے پہلے خوشبو لگاتے تھے جس کے اثرات احرام کے بعد بھی نظر آتے تھے جیسا کہ حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بیان ہوا ہے، البتہ دوران احرام میں خوشبو استعمال کرنا جائز نہیں۔
(2)
مفرق، سر کے درمیان سے بالوں کے دائیں بائیں دو حصے کرنے کو کہتے ہیں۔
سر کا ہر حصہ گویا مفرق ہے، اس لیے بعض اوقات اسے مفارق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے درمیان سے مانگ نکالتے تھے، چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں مانگ نکالنے لگتی تو آپ کے سر کے درمیان سے نکالتی اور آپ کی پیشانی کے بالوں کو آپ کی آنکھوں کے سامنے لٹکا کر پھر انہیں آدھو آدھ کر دیتی تھی۔
(سنن أبي داود، الترجل، حدیث: 4189)
اس حدیث کی بنا پر مانگ اپنے سر کے درمیان ہونی چاہیے، دائیں بائیں سے نہ ہو۔
اس لیے کہ عالم بالا سے آپ کا تعلق ہر وقت رہتا تھا خاص طور پر حضرت جبرئیل علیہ السلام بکثرت حاضر ہوتے رہتے تھے اس لیے آپ کا صاف معطر رہنا ضروری تھا۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرد کے خوشبو لگانے کی جگہیں عورتوں سے مختلف ہیں کیونکہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو خوشبو نہیں لگاتی تھیں کیونکہ چہرے پر خوشبو لگانا عورتوں کے لیے ہے، اس لیے کہ اس سے خوبصورتی اور زینت میں اضافہ ہوتا ہے جو عورتوں کے لیے مطلوب ہے لیکن مردوں کو چہرے پر خوشبو لگانا ممنوع ہے کیونکہ ایسا کرنے سے عورتوں کی مشابہت لازم آتی ہے۔
بہرحال عورتیں ہر قسم کی زینت کر سکتی ہیں بشرطیکہ خلقت میں تبدیلی نہ آئے۔
(فتح الباري: 449/10) (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو بہت پسند تھی کیونکہ عالم بالا سے آپ کا تعلق رہتا تھا اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے خاص طور پر حضرت جبرئیل علیہ السلام بکثرت آپ کے ہاں حاضر ہوتے رہتے تھے، اس بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاف ستھرا اور معطر رہنا ضروری تھا۔
واللہ أعلم
(1)
منیٰ میں رمی، ذبح اور بال منڈوانے کے بعد محرم آدمی کے لیے بیوی کے علاوہ ہر چیز حلال ہو جاتی ہے، اس لیے طواف زیارت سے پہلے وہ خوشبو وغیرہ لگا سکتا ہے، اسی طرح احرام باندھنے سے پہلے بھی خوشبو لگائی جا سکتی ہے اگرچہ اس کے اثرات احرام کے بعد بھی نمایاں ہوں۔
(2)
ایک حدیث میں مردوں اور عورتوں کی خوشبو میں فرق بیان کیا گیا ہے کہ عورتوں کی خوشبو کا رنگ ظاہر ہوتا ہے جبکہ اس کی مہک مخفی ہوتی ہے، اس کے برعکس مردوں کی خوشبو میں رنگ مخفی ہوتا ہے لیکن اس کی مہک نمایاں ہوتی ہے۔
(3)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مردوں کی خوشبو پہلے اپنے ہاتھوں کو لگائی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی میں لگائی۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ مردوں کو خوشبو لگا کر عورت کو باہر نہیں نکلنا چاہیے۔
اگر باہر جانے کی مجبوری ہو تو اسے دھو کر باہر جائے۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 449/10)
«. . . عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ " . . . .»
". . . عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ نے فرمایا گویا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھے ہوئے ہیں۔ . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/بَابُ مَنْ تَطَيَّبَ ثُمَّ اغْتَسَلَ وَبَقِيَ أَثَرُ الطِّيبِ:: 271]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مختصر ہے، تفصیلی واقعہ وہی ہے جو اوپر گزرا، باب کا مطلب اس حدیث سے یوں نکلا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کا غسل ضرور کیا ہو گا۔ اسی سے خوشبو لگانے کے بعد غسل کرنا ثابت ہوا۔
1۔
اس عنوان کے دو حصے ہیں:۔
غسل کرنا، چونکہ طواف نساء جماع سے کنایہ ہے اور اس کے لوازمات سے فریضہ غسل ہے۔
۔
خوشبو کا اثر باقی رہنا، اس کا ثبوت حضرت عائشہ ؓ کے جواب سے ہے، انھوں نے حضرت ابن عمر ؓ بات رد کرتے ہوئے فرمایا۔
نیز دوسری حدیث میں مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھنا بھی عنوان کے اس دوسرے حصے کے مطابق ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ مذکورہ حدیث محرم کے بدن پرخوشبو کے اثرات باقی رہنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔
اگرخوشبو پہلے سےلگی ہوئی ہوتو حالت احرام کے خلاف نہیں اور نہ اس کی وجہ سے کفارہ ہی لازم آتا ہے۔
البتہ احرام کے بعد خوشبو کا استعمال درست نہیں۔
(فتح الباري: 495/1)
2۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے شرح تراجم بخاری میں اس عنوان کا یہ مقصد بیان کیا ہے کہ غسل یا وضو میں اعضاء کو ملنا ضروری نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے جسم اطہر پر غسل کے بعد بھی خوشبو کا اثر باقی رہا۔
اگر آپ نے بدن کوملا ہوتا یا اس میں مبالغہ کیا ہوتا تو خوشبو یا اس کے اثرات کا باقی رہنا مشکل تھا۔
ہم شاہ صاحب کے بیان پر مزید اضافہ کرتے ہیں کہ امام بخاری ؒ نے غسل سے متعلقہ دو مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے۔
۔
خوشبو کے استعمال کے بعد جب مجامعت کا عمل کیا تو بدن ناپاک ہوگیا اور بدن کی ناپاکی سے خوشبو کا متاثر ہونا بھی یقینی ہے، اب اگرغسل کے بعد ایسی خوشبو کا اثر باقی رہے تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ امام صاحب نے بتادیا کہ وہ خوشبو جوجنابت کے اثرسے متاثرتھی غسل کے بعد طاہر ہے اور غسل بھی معتبر ہے، نیز جنابت کی حالت میں جنابت سے متاثر شدہ خوشبو کا غسل کے بعد باقی رہنا مضر نہیں۔
۔
بدن پر خوشبو یا تیل کے استعمال کے بعد غسل کیا جائے تو ایسی حالت میں پانی جسم پر بہت کم نفوذ کرتا ہے، کیونکہ خوشبو یا تیل کی چکناہٹ جلد کی تہہ تک پانی پہنچانے میں بعض اوقات رکاوٹ بن جاتی ہے، اس قسم کے غسل کی کیا حیثیت ہے؟ اس عنوان سے معلوم ہوا کہ غسل صحیح ہے اور اس قسم کے خیالات شریعت کی نظر میں ناقابل التفات ہیں۔
«. . . قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ، أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَذَكَرْتُ لَهَا قَوْلَ ابْنِ عُمَرَ، مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ " أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ طَافَ فِي نِسَائِهِ، ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا " . . . .»
". . . ہم سے ابوعوانہ نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے، وہ اپنے والد سے، کہا میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس قول کا ذکر کیا کہ میں اسے گوارا نہیں کر سکتا کہ میں احرام باندھوں اور خوشبو میرے جسم سے مہک رہی ہو۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی۔ پھر آپ اپنی تمام ازواج کے پاس گئے اور اس کے بعد احرام باندھا۔ . . ." [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/بَابُ مَنْ تَطَيَّبَ ثُمَّ اغْتَسَلَ وَبَقِيَ أَثَرُ الطِّيبِ:: 270]
حدیث سے ترجمہ باب اس طرح ثابت ہوا کہ غسل کے بعد بھی آپ کے جسم مبارک پر خوشبو کا اثر باقی رہتا تھا۔ معلوم ہوا کہ ہم بستری کے وقت میاں بیوی کے لیے خوشبو استعمال کرنا سنت ہے، جیسا کہ ابن بطال نے کہا ہے (فتح الباری) باقی تفصیل حدیث نمبر 262 میں گزر چکی ہے۔
1۔
اس عنوان کے دو حصے ہیں:۔
غسل کرنا، چونکہ طواف نساء جماع سے کنایہ ہے اور اس کے لوازمات سے فریضہ غسل ہے۔
۔
خوشبو کا اثر باقی رہنا، اس کا ثبوت حضرت عائشہ ؓ کے جواب سے ہے، انھوں نے حضرت ابن عمر ؓ بات رد کرتے ہوئے فرمایا۔
نیز دوسری حدیث میں مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھنا بھی عنوان کے اس دوسرے حصے کے مطابق ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ مذکورہ حدیث محرم کے بدن پرخوشبو کے اثرات باقی رہنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔
اگرخوشبو پہلے سےلگی ہوئی ہوتو حالت احرام کے خلاف نہیں اور نہ اس کی وجہ سے کفارہ ہی لازم آتا ہے۔
البتہ احرام کے بعد خوشبو کا استعمال درست نہیں۔
(فتح الباري: 495/1)
2۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے شرح تراجم بخاری میں اس عنوان کا یہ مقصد بیان کیا ہے کہ غسل یا وضو میں اعضاء کو ملنا ضروری نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے جسم اطہر پر غسل کے بعد بھی خوشبو کا اثر باقی رہا۔
اگر آپ نے بدن کوملا ہوتا یا اس میں مبالغہ کیا ہوتا تو خوشبو یا اس کے اثرات کا باقی رہنا مشکل تھا۔
ہم شاہ صاحب کے بیان پر مزید اضافہ کرتے ہیں کہ امام بخاری ؒ نے غسل سے متعلقہ دومسائل کی طرف اشارہ کیا ہے۔
۔
خوشبو کے استعمال کے بعد جب مجامعت کا عمل کیا تو بدن ناپاک ہوگیا اور بدن کی ناپاکی سے خوشبو کا متاثر ہونا بھی یقینی ہے، اب اگرغسل کے بعد ایسی خوشبو کا اثر باقی رہے تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ امام صاحب نے بتا دیا کہ وہ خوشبو جو جنابت کے اثرسے متاثر تھی غسل کے بعد طاہر ہے اور غسل بھی معتبر ہے، نیز جنابت کی حالت میں جنابت سے متاثر شدہ خوشبو کا غسل کے بعد باقی رہنا مضر نہیں۔
۔
بدن پر خوشبو یا تیل کے استعمال کے بعد غسل کیا جائے تو ایسی حالت میں پانی جسم پر بہت کم نفوذ کرتا ہے، کیونکہ خوشبو یا تیل کی چکناہٹ جلد کی تہہ تک پانی پہنچانے میں بعض اوقات رکاوٹ بن جاتی ہے، اس قسم کے غسل کی کیا حیثیت ہے؟ اس عنوان سے معلوم ہوا کہ غسل صحیح ہے اور اس قسم کے خیالات شریعت کی نظر میں ناقابل التفات ہیں۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محرم آدمی احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگا سکتا ہے اگرچہ اس کے اثرات احرام کے بعد باقی رہیں، البتہ احرام کے بعد خوشبو لگانا صحیح نہیں۔
حضرت عائشہ ؓ سے مروی بعض روایات میں ہے کہ میں نے تین دن کے بعد اس خوشبو کے اثرات دیکھے تھے۔
اس روایت سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جن کا موقف ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے احرام سے پہلے جو خوشبو استعمال کی تھی، احرام باندھنے سے قبل آپ نے جو غسل کیا اس کے اثرات اس غسل سے ختم ہو گئے تھے۔
بعض روایات میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: ہم احرام کے وقت اپنے چہرے پر خوشبودار مرکب خوشبو کا ضماد کر لیا کرتی تھیں، جب پسینہ آتا تو وہ ہمارے چہرے پر بہنے لگتا۔
رسول اللہ ﷺ یہ منظر دیکھتے لیکن ہمیں اس سے منع نہیں کرتے تھے۔
(سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1830)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر خوشبو کے علاوہ اس کا اپنا وجود بھی باقی رہے تو بھی کوئی حرج نہیں۔
(فتح الباري: 503/3)
واللہ أعلم۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دسویں تاریخ کو جب جمرہ عقبہ کی رمی کر لی جائے تو احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں، صرف عورت کے پاس جانے کی اجازت نہیں ہوتی، یہ پابندی بھی طواف زیارت کے بعد ختم ہو جاتی ہے، نیز ان روایات میں احرام سے پہلے صرف خوشبو لگانے کا بیان ہے جبکہ امام بخاری ؒ نے کنگھی کرنے اور تیل لگانے کا ذکر بھی کیا ہے۔
امام بخاری ؒ نے ان چیزوں کو خوشبو پر قیاس نہیں کیا بلکہ ایک روایت کی بنیاد پر ایسا کیا ہے، وہ روایت یہ ہے: حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر مدینہ منورہ سے بالوں کو تیل لگا کر اور کنگھی کر کے روانہ ہوئے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1545)
(1)
اس حدیث میں حين أحرم سے مراد احرام باندھنے کا ارادہ کرنا ہے اور حين أحل سے مراد احرام سے حلال ہو جانا ہے کیونکہ دوران احرام میں خوشبو کا استعمال منع ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے مذکورہ عنوان اس طرح ثابت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مزدلفہ سے واپس منیٰ لوٹے تو حضرت عائشہ ؓ آپ کے ہمراہ نہ تھیں اور یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمرۂ عقبہ کو رمی کرنے تک سوار رہے۔
(سنن النسائي، مناسك الحج، حدیث: 3063)
اس سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے آپ کو رمی کے بعد خوشبو لگائی ہو گی۔
جمہور علماء کا یہی موقف ہے کہ رمی اور حلق کے بعد خوشبو وغیرہ استعمال کی جا سکتی ہے، البتہ عورتوں سے صحبت کرنا درست نہیں، وہ طواف زیارت کے بعد جائز ہے، چنانچہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب تم جمرۂ عقبہ کی رمی سے فارغ ہو جاؤ تو تمہارے لیے عورتوں کے علاوہ ہر چیز حلال ہے۔
(سنن النسائي، مناسك الحج، حدیث: 3086)
لیکن مذکورہ اجازت مشروط ہے کہ شام سے پہلے پہلے طواف زیارت کر لیا جائے۔
اگر شام تک طواف نہ کر سکے تو احرام کی پابندیاں لوٹ آئیں گی جیسا کہ حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ دس ذوالحجہ کو شام کے وقت جب رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میرے پاس حضرت وہب بن زمعہ قمیص پہنے ہوئے تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ابو عبداللہ! کیا تو نے طواف افاضہ کر لیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں طواف افاضہ نہیں کر سکا۔
آپ نے فرمایا: ’’تو پھر اپنی قمیص اتار دو۔
‘‘ (وہ فرماتے ہیں کہ)
میں نے جب قمیص اتار دی تو آپ نے فرمایا: ’’اس دن تمہیں رخصت دی گئی ہے کہ جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد تم عورتوں کے علاوہ ہر قسم کی پابندی سے آزاد ہو لیکن اگر تم شام سے پہلے پہلے طواف افاضہ نہ کر سکو تو احرام کی پابندیاں تم پر لوٹ آئیں گی، یہاں تک کہ تم طواف افاضہ کر لو۔
‘‘ (سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1999)
علامہ البانی ؒ نے اس موضوع پر تفصیل سے لکھا ہے۔
(مناسك الحج والعمرة للألباني رحمه اللہ، حدیث: 34)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھنے سے پہلے اور دسویں ذی الحجہ کو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے خوشبو لگائی جس میں مشک تھی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 917]
1؎:
دسویں تاریخ کو جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی حلال ہو جاتا ہے، اسے تحلل اوّل کہتے ہیں، تحلل اوّل میں عورت کے علاوہ ساری چیزیں حلال ہو جاتی ہیں، اور طواف افاضہ کے بعد عورت بھی حلال ہو جاتی ہے، اب وہ عورت سے صحبت یا بوس و کنار کر سکتا ہے اسے تحلل ثانی کہتے ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ احرام باندھے ہوئے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1746]
➋ اس خوشبو کا رنگ او راثر حالت احرام میں باقی رہے تو کوئی حرج نہیں۔
➌ محرم کو چاہیے کہ حالت احرام میں غسل کے لیے ایسا صابن استعمال کرے جس میں عطریات شامل نہ ہوں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی جڑوں میں اس حال میں کہ آپ محرم ہوتے خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2697]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے اور ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے ایسی خوشبو لگائی جس میں مشک کی آمیزش تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2693]
(2) معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لگائی جانے والی خوشبو انتہائی اچھی تھی جس کی مہک عرصہ دراز تک باقی رہتی تھی۔ کستوری بہترین خوشبو ہے۔
(3) کستوری پاک ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں اس حال میں کہ آپ محرم ہیں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2696]
(2) "خوشبو کی چمک" گویا خوشبو کو کسی تیل وغیرہ میں شامل کر کے لگایا گیا ہو گا یا پھر کسی خوشبو دار پھول کا تیل نکالا گیا ہوگا۔ وہ چمک اس تیل کی تھی جومکمل طور پر زائل نہ ہوا تھا۔ ظاہر ہے خوشبو بھی آتی تھی۔
(3) ممکن ہے باب کا مقصد یہ ہو کہ ایسی جگہ خوشبو لگائی جائے جو کپڑوں کو نہ لگے یا مقصد یہ ہو کہ خوشبو بدن کو لگائی جائے، کپڑوں کو نہیں۔
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھ پر تار کول مل دیا جائے تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں احرام کی حالت میں صبح کروں اور میرے جسم سے خوشبو بکھر رہی ہو۔ تو میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اور میں نے انہیں ان کی بات بتائی تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس پھرے، آپ نے صبح کیا اس حال میں کہ آپ محرم تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2706]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے لیے خوشبو لگائی جس وقت آپ نے احرام باندھا، اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی اس کے بعد کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، اور اس سے پہلے کہ آپ بیت اللہ کا طواف کریں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2688]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے کے وقت جس وقت آپ نے احرام باندھنے کا ارادہ کیا اور احرام کھولنے کے وقت اس سے پہلے کہ آپ احرام کھولیں اپنے دونوں ہاتھوں سے خوشبو لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2685]
(2) احرام کے وقت خوشبو لگانے کا مطلب یہ ہے کہ احرام کے غسل کے بعد خوشبو لگائی جائے۔ پھر احرام کا لباس پہن لیا جائے۔ جمہور اہل علم اس کا یہی مفہوم بیان کرتے ہیں، تاہم اہل علم کا ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ احرام کے غسل سے قبل خوشبو لگائی جائے، پھر غسل کر کے احرام باندھا جائے۔ دلائل کی رو سے جمہور اہل علم کا موقف راجح ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 24/90-93)
(3) "حلال ہونے کے وقت۔" یعنی قربانی اور حجامت کے بعد کیونکہ اس وقت احرام ختم ہو جاتا ہے، لہٰذا خوشبو جائز ہے مگر طواف زیارت (جو اسی دن کیا جاتا ہے) کرنے سے پہلے جماع جائز نہیں۔ یہی مطلب ہے ان الفاظ کا: "پہلے اس سے کہ مکمل حلال ہوں۔" کیونکہ مکمل حلال تو طواف زیارت کی ادائیگی کے بعد ہی ہوں گے۔ وضاحت آئندہ حدیث میں ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی سے اچھی خوشبو جو مجھے میسر ہوتی لگاتی تھی یہاں تک کہ احرام سے پہلے میں آپ کے سر اور داڑھی میں خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2702]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں اس حال میں کہ آپ محرم ہوتے خوشبو کی چمک دیکھی جاتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2695]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی، اور آپ کے احرام باندھنے کے لیے خوشبو لگائی جو تمہاری اس خوشبو کے مشابہ نہیں تھی، یعنی یہ خوشبو دیرپا نہ تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2689]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ لبیک کہہ رہے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2927]
فوائد و مسائل:
(1)
امام بخاری نے صحیح میں یہ حدیث روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا اور اس سے خوشبو آ رہی تھی۔
رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ اس خوشبو کو تین بار دھوئے۔ (صحيح البخاري، الحج، باب غسل الخلوق ثلاث مرات باب حديث: 1526)
اور یہ حدیث بھی روایت کی ہے جو سنن ابن ماجہ کے اس باب کی پہلی حدیث (صحيح البخاري، الحج، باب الطيب عند الحرام۔
۔
۔
۔
، حديث: 1539)
ان دونوں روایات میں بظاہر تعارض محسوس ہوتا ہے۔
ان کے درمیان تطبیق یہ دی گئی ہے کہ خوشبو دھونے کا واقعہ پہلے کا ہے اس کے بعد نبی ﷺ کے عمل سے یہ ثابت ہوا کہ احرام باندھتے وقت خوشبو کا استعمال جائز ہے چنانچہ معلوم ہوا کہ دھونے کے حکم والی حدیث 8ھ کا واقعہ ہے جو مقام جعزانه میں پیش آیا۔
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا نبیﷺ کو خوشبو لگانے کا واقعہ حجۃالوداع کا ہے جو10ھ میں ادا کیا گیا۔
علاوہ ازیں جس خوشبو کو دھونے کا حکم دیا گیا وہ خلوق تھی جس میں زعفران کی آمیزش ہوتی ہے۔
اور مرد کے لیے زعفران کی خوشبو استعمال کرنا احرام کے علاوہ بهى ممنوع ہے۔ (مفهوم فتح الباري: 3/498)
(3)
دس ذی الحجہ کو رمی جمرات اور سر منڈوانے یا بال چھوٹے کرانے کے بعد احرام کی پابندیاں اٹھ جاتی ہیں۔
صرف ازدواجی تعلقات والی پابندی باقی رہ جاتی ہے۔
اس لیے دن طواف کعبہ احرام کی چادروں کے بجائے عام سلے ہوئے لباس میں کیا جاتا ہے چنانچہ اس طواف سے پہلے خوشبو لگانا بھی جائز ہو جاتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھتے وقت، اور احرام کھولتے وقت خوشبو لگائی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3042]
«. . . 386- وبه: أنها قالت: كنت أطيب رسول الله صلى الله عليه وسلم لإحرامه قبل أن يحرم، ولحله قبل أن يطوف بالبيت. . . .»
". . . اور اسی سند کے ساتھ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب احرام باندھتے تو میں احرام باندھنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی تھی اور جب احرام کھولتے تو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے میں آپ کو خوشبو لگاتی تھی۔ . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 304]
[وأخرجه البخاري 1539، ومسلم 33/1189، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ احرام سے پہلے جسم اور کپڑوں پر خوشبو لگانا جائز ہے لیکن احرام کی حالت میں خوشبو لگانا جائز نہیں ہے۔
➋ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ ایک آدمی سے (حالتِ احرام میں) خوشبو آرہی ہے تو انہوں نے اسے حکم دیا کہ جاکر اسے دھو لو۔[الموطأ 1/329 ح737 وسنده صحيح]
➌ احرام سے پہلے خوش بو لگانے کے درج ذیل صحابہ بھی قائل وفاعل تھے: ① عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما [مصنف ابن ابي شيبه نيا نسخه ج3 ص199 ح13490، وسنده صحيح]
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا [التمهيد: تحقيق اسامه بن ابراهيم 8/45 وسنده حسن، 19/303 وفيه تحريف من المعلق]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ احرام باندھنے سے پہلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کے وقت اور احرام کھولنے کے وقت خوشبو لگاتی تھی۔ اس سے پہلے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کا طواف کریں۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 597]
«أطَيَّبُ» یہ «تطييب» سے مضارع متکلم کا صیغہ ہے۔ میں خوشبو لگاتی تھی۔
«لِاَحْرَامِهِ» یعنی احرام باندھنے سے پہلے۔ اس سے ثابت ہوا کہ احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگانا جائز ہے گو اس کی خوشبو حالت احرام میں بھی آتی رہی مگر احرام کا آغاز ہی خوشبو لگانا حرام ہے۔
«قَبْلَ أنْ يَّطُوفَ بِالْبَيْتِ» بیت اللہ کے طواف سے پہلے۔ اس سے مراد طواف زیارت ہے جو دس ذی الحجہ کو رمی جمار، قربانی اور حلق (سر منڈوانے) کے بعد کیا جاتا ہے۔