حدیث نمبر: 1185
وحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ : لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، قَالَ : فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْلَكُمْ قَدْ قَدْ " ، فَيَقُولُونَ : إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ ، يَقُولُونَ : هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ .

حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: مشرکین کہا کرتے تھے: «لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ»۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”تمہاری بربادی! بس کرو، بس کرو (یہیں پر رک جاؤ)۔“ مگر وہ آگے کہتے: «إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» (مگر ایک شریک ہے جو تیرا ہے، تو اس کا مالک ہے، وہ مالک نہیں)۔ وہ لوگ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے یہی کہتے تھے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحج / حدیث: 1185
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ مشرکین مکہ کہتے تھے، ہم تیرے حضور حاضر ہیں، تیرا کوئی شریک نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ’’تم برباد ہو، یہیں رک جاؤ، بس کرو‘‘ لیکن وہ آگے کہتے: مگر وہ شرک جو تیرا ہے تو ہی اس کا اور اس کی مملوکہ چیزوں کا مالک ہے، یا وہ کسی چیز کا مالک نہیں ہے۔ یہ کلمات وہ اس وقت کہتے جب طواف کر رہے ہوتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2815]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: (مَامَالَك)
میں ما نافیہ بن سکتا ہے۔
اس صورت میں معنی ہو گا تو ہی اس کا مالک ہے وہ کسی چیز کا مالک نہیں ہے اور ما موصولہ بن سکتا ہے تو معنی ہو گا تو ہی اس کا اور جس کا وہ مالک ہے۔
مالک ہے۔
اس تلبیہ سے ثابت ہوتا ہے وہ کسی کو بھی اللہ کے برابر اور شریک قرار نہیں دیتے تھے صرف یہی سمجھتے تھے کہ کچھ چیزوں کا اختیار اللہ تعالیٰ نے انہیں بخش دیا ہے یا وہ ان کی سفارش کو رد نہیں کرتا اور آج کے نام نہاد مسلمان تو اس سے بھی آگے گزر چکے ہیں اور کہتے ہیں۔
احد، احمد کے پردہ میں دنیا میں اتر آیا ہے اور اسکے پاس وحدت کے سوا کیا ہے، جو کچھ لینا ہے ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے لے لیں گے اسی طرح اولیاء اور بزرگوں کو بہت سی چیزوں کا اختیار بخشتے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2815 سے ماخوذ ہے۔