صحيح مسلم
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل
باب مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ وَمَا لاَ يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ: باب: اس بات کا بیان کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کیا چیز جائز ہے اور کیا ناجائز ہے؟ اور اس پر خوشبو کے حرام ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جميعا ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ ، يَقُولُ : " السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْإِزَارَ ، وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ " يَعْنِي الْمُحْرِمَ ،حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے جابر بن زید سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”شلوار اس کے لیے (جائز) ہے جسے تہبند نہ ملے، اور موزے اس کے لیے جسے جوتے میسر نہ ہو،“ یعنی احرام باندھنے والے کے لیے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ ،شعبہ نے عمرو بن دینار سے یہ روایت اسی سند کے ساتھ بیان کی کہ انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں خطبہ دیتے سنا، پھر یہی حدیث سنائی۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَيُّوبَ كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ ، غَيْرُ شُعْبَةَ وَحْدَهُ .امام صاحب اپنے پانچ اور اساتذہ سے عمرو بن دینار ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں، شعبہ کے سوا کسی نے بھی عرفات کے خطبہ کا تذکرہ نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
ورس ایک زرد رنگ کی گھاس ہے جو کسی حد تک زعفران جیسی ہوتی ہے۔
اس سے کپڑوں کو رنگا جاتا ہے۔
ان احادیث میں محرم کو جوتا پہننے کی اجازت ہے۔
جب محرم انہیں پہن سکتا ہے تو عام لوگوں کو تو بالاولیٰ اس کی اجازت ہے، چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اکثر جوتا پہنا کرو کیونکہ جب کوئی جوتا پہنتا ہے تو راحت و آرام میں اس طرح ہوتا ہے گویا وہ سواری پر سوار ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، اللباس والزینة، حدیث: 5494 (2096) (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتا پہننے والے کو سوار سے تشبیہ دی ہے کیونکہ اس سے سفر کی مشقت میں تخفیف، تھکاوٹ کم اور راستے کی تکلیفوں سے پاؤں محفوظ رہتے ہیں۔
(فتح الباري: 381/10)
(1)
یہ حدیث محرم کے متعلق ہے کہ اگر اسے احرام کے لیے تہبند میسر نہ ہو تو شلوار پہن سکتا ہے اور موزے پہننے کی صورت میں انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹنا ہو گا۔
اگر بحالت احرام مجبوری کی صورت میں مرد شلوار پہن سکتا ہے تو عام دنوں میں شلوار یا پاجامہ پہننا بالاولیٰ جائز ہو گا۔
اس حدیث سے امام بخاری رحمہ اللہ نے شلوار پہننا ثابت کیا ہے۔
(2)
ایک حدیث میں ہے حضرت سوید بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے شلوار کا سودا کیا۔
(سنن ابن ماجة، اللباس، حدیث: 3579)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شلوار خریدنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ جائز لباس ہے، البتہ کسی بھی صحیح حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شلوار پہننے کا ثبوت نہیں ملتا۔
واللہ أعلم
اور جمہور علماءکے نزدیک ضروری ہے کہ اگر اسی طرح پہن لے گا، تو اس پر فدیہ لازم ہوگا۔
یہاں جمہور کا یہ فتویٰ محض قیاس پر مبنی ہے جو حجت نہیں۔
(1)
احرام کی حالت میں تہبند کا ہونا اور پاؤں میں جوتا ہونا ہی مناسب ہے کیونکہ حج میں اللہ تعالیٰ کو یہی فقیرانہ ادا پسند ہے لیکن اگر کسی کو یہ چیزیں میسر نہ ہوں تو بوقت مجبوری پاجامہ، شلوار اور موزے بھی پہن سکتا ہے کیونکہ اسلام میں قدم قدم پر آسانیوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
شلوار پہننے کی اجازت اس صورت میں ہے جب ازار حاصل کرنے کی پوری کوشش کرے اور اسے حاصل نہ کر سکے۔
اس کے پاس اگر قیمت ہے تو اسے خرید لے۔
اگر ایسا ممکن نہ ہو تو شلوار یا پاجامہ پہن لے لیکن کیا اسے موزے کی طرح کاٹنا ضروری ہے؟ جمہور علماء تو اسے کاٹ کر پہننے کی اجازت دیتے ہیں۔
کاٹے بغیر پہن لینے والے کو فدیہ دینا ہو گا۔
امام احمد نے اس حدیث کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے فتویٰ دیا ہے کہ شلوار کو کاٹنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اسے کاٹنے کا فتویٰ محض قیاس پر مبنی ہے۔
(2)
عرب کے ہاں تنورہ پہننے کا رواج ہے، یعنی چادر کے دونوں کناروں کو سینے کے بعد اوپر لاسٹک لگا دی جاتی ہے تاکہ وہ کھل نہ سکے۔
ایسا کرنا جائز ہے کیونکہ محرم کے لیے ایسا سلا ہوا لباس منع ہے جو اعضاء کے مطابق کاٹ کر تیار کیا گیا ہو اور اسے معمول کے مطابق پہنا جاتا ہو۔
اس سے مراد ہر وہ چیز نہیں جس پر سلائی کا عمل ہوا ہو، لہذا اگر انسان احرام کے لیے پیوند لگی چادریں استعمال کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں اگرچہ پیوند کاری کے لیے سلائی کی گئی ہو۔
بوقت مجبوری اس قسم کی سلائی والا کپڑا بھی پہنا جا سکتا ہے۔
واللہ أعلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: " محرم کو جب تہبند میسر نہ ہو تو پاجامہ پہن لے اور جب جوتے میسر نہ ہوں تو «خف» (چمڑے کے موزے) پہن لے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 834]
1؎:
اسی حدیث سے امام احمد نے استدلال کرتے ہوئے چمڑے کے موزہ کو بغیر کاٹے پہننے کی اجازت دی ہے، حنابلہ کا کہنا ہے کہ قطع (کاٹنا) فساد ہے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے فساد وہ ہے جس کی شرع میں ممانعت وارد ہو، نہ کہ وہ جس کی شریعت نے اجازت دی ہو، بعض نے موزے کو پاجامے پر قیاس کیا ہے، اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ نص کی موجودگی میں قیاس درست نہیں، رہا یہ مسئلہ کہ جوتا نہ ہونے کی صورت میں موزہ پہننے والے پر فدیہ ہے یا نہیں تو اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے، ظاہر حدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ فدیہ نہیں ہے، لیکن حنفیہ کہتے ہیں فدیہ واجب ہے، ان کے جواب میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر فدیہ واجب ہوتا تو نبی اکرم ﷺ اسے ضرور بیان فرماتے کیونکہ ’’تَأْخِيرُ الْبَيَانِ عَنْ وَقْتِ الْحَاجَة‘‘ جائز نہیں۔
(یعنی ضرورت کے وقت مسئلہ کی وضاحت ہو جانی چاہئے، وضاحت اور بیان ٹالا نہیں جا سکتا ہے)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: " پاجامہ وہ پہنے جسے ازار نہ ملے اور موزے وہ پہنے جسے جوتے نہ مل سکیں۔" (ابوداؤد کہتے ہیں یہ اہل مکہ کی حدیث ہے ۱؎ اس کا مرجع بصرہ میں جابر بن زید ہیں ۲؎ اور جس چیز کے ساتھ وہ منفرد ہیں وہ سراویل کا ذکر ہے اور اس میں موزے کے سلسلہ میں کاٹنے کا ذکر نہیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1829]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرفات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: " جسے تہبند نہ ملے تو وہ پاجامہ پہن لے، اور جسے چپل نہ ملے وہ خف (چمڑے کے موزے) پہن لے " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5327]
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ اہم مسئلہ معلوم ہوا کہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ ان کی جگہ موزے پہن سکتا ہے خواہ وہ کٹے ہوئے ہوں یا کٹے ہوئے نہ ہوں۔ کیونکہ یہ حدیث بعد کی ہے یعنی حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔ تو جب اس میں کاٹنے کا ذکر نہیں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سابقہ کاٹنے کا حکم منسوخ ہے یہ رائے حنابلہ کی ہے۔ جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اگر محرم موزے پہنے تو انہیں کاٹ لے کیونکہ دیگر احادیث میں کاٹنے کا ذکر ہے۔ واللہ أعلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا آپ فرما رہے تھے: " پائجامہ اس شخص کے لیے ہے جسے تہبند میسر نہ ہو، اور موزہ اس شخص کے لیے ہے جسے جوتے میسر نہ ہوں۔" [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2672]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حالت احرام میں انسان جوتے اور موزے دونوں پہن سکتا ہے، جب جوتا میسر نہ ہو تو موزے پہنے جا سکتے ہیں حالت احرام میں جوتا اور موزہ ایسا ہونا شرط ہے جس سے ٹخنے ننگے ر ہیں اور جس کے پاس چادر نہ ہو وہ شلوار پہن لے، محرم شلوار پہن سکتا ہے۔