صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب فِي الرِّيحِ الَّتِي تَكُونُ قُرْبَ الْقِيَامَةِ تَقْبِضُ مَنْ فِي قَلْبِهِ شيء مِنَ الإِيمَانِ: باب: قرب قیامت میں ہوا کا ان لوگوں کو اٹھا لینا جن کے دلوں میں تھوڑا بھی ایمان ہو گا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ رِيحًا مِنْ الْيَمَنِ ، أَلْيَنَ مِنَ الْحَرِيرِ ، فَلَا تَدَعُ أَحَدًا فِي قَلْبِهِ ، قَالَ أَبُو عَلْقَمَةَ : مِثْقَالُ حَبَّةٍ ، وقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ : مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنَ إِيمَانٍ ، إِلَّا قَبَضَتْهُ " .عبدالعزیز بن محمد اور ابوعلقمہ فروی نے کہا: ہمیں صفوان بن سلیم نے عبداللہ بن سلمان کے واسطے سے ان کے والد (سلمان) سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ یمن سے ایک ہوا بھیجے گا جو ریشم سے زیادہ نرم ہو گی اور کسی ایسے شخص کو نہ چھوڑے گی جس کے دل میں (ابوعلقمہ نے کہا: ایک دانے کے برابر اور عبدالعزیز نے کہا: ایک ذرے کے برابر بھی) ایمان ہو گا مگر اس کی روح قبض کر لے گی۔“ (ایک ذرہ بھی ہو لیکن ایمان ہو تو نفع بخش ہے۔)