صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب فَضْلِ صَوْمِ الْمُحَرَّمِ: باب: محرم کے روزوں کی فضیلت۔
حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ " .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے بعد افضل روزے اللہ کے مہینہ محرم کے ہیں اور بہترین نماز فرض کے بعد رات کی نماز ہے۔‘‘
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَرْفَعُهُ ، قَالَ : سُئِلَ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ ، وَأَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ ؟ ، فَقَالَ " أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ الصَّلَاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ ، وَأَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ صِيَامُ شَهْرِ اللَّهِ الْمُحَرَّمِ " ،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوع روایت ہے کہ آپﷺ سے دریافت کیا گیا فرض نماز کے بعد کون سی نماز افضل ہے؟ اور ماہ رمضان کے بعد کون سے (ماہ) کے روزے افضل ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ”فرض نماز کے بعد سب سے بہتر نماز آدھی رات کی نماز ہے اور افضل روزے ماہ رمضان کے بعد اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔‘‘
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي ذِكْرِ الصِّيَامِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .زائدہ نے عبدالملک بن عمیر سے اسی سند کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزوں کے ذکر میں اس (سابقہ حدیث) کے مانند روایت کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
بعض کا خیال ہے، اس سے مراد صرف عاشورہ کا روزہ ہے، کیونکہ آپﷺ اس کا روزہ رکھتے تھے اور زیادہ روزے آپﷺ شعبان میں رکھتے تھے کیونکہ اس ماہ میں سالانہ اعمال رب العالمین کے حضور پیش کیے جاتے ہیں۔
اگر اس کا پورا محرم مراد ہوتا تو آپﷺ جب افضل روزے اس کے ہیں، اس میں روزے رکھتے، جبکہ یہ محترم مہینہ بھی ہے۔
اس سے سال کا آغاز بھی ہوتا ہے اور سال کا آغاز، اگر خیر وبرکت اور نیک کام سے ہوتو سال کے باقی مہینوں میں بھی خیر وخوبی کے دوام اور ہمیشگی کی امید ہو سکتی ہے، اہل علم کی طرف سے اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے، آپﷺ کو محرم کی فضیلت کاعلم آخر عمر میں ہوا، یا شاید آپﷺ کو اس ماہ میں کوئی مجبوری اور عذر پیش آ جاتا ہو۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رمضان کے مہینے کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں ۱؎، اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز قیام اللیل (تہجد) ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1614]
➋ جو لوگ فرض نماز کی سنتوں کو تہجد سے افضل سمجھتے ہیں، وہ ان سنتوں کو فرضوں کے تابع ہونے کی وجہ سے فرضوں ہی میں شمار کرتے ہیں۔ لیکن یہ درست نہیں۔ تہجد کی نماز ہی افضل ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ماہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ اللہ کے مہینے ۱؎ محرم کا روزہ ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 740]
1؎:
اللہ کی طرف اس مہینہ کی نسبت اس کے شرف و فضل کی علامت ہے، جیسے بیت اللہ اور ناقۃ اللہ وغیرہ ہیں، محرم چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے، ماہ محرم ہی سے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز (تہجد) ہے۔“ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 438]
1؎:
محرم کے مہینے کی اضافت اللہ کی طرف کی گئی ہے جس سے اس مہینے کا شرف و امتیاز واضح ہوتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ماہ رمضان کے روزوں کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والے روزے محرم کے ہیں جو اللہ کا مہینہ ہے، اور فرض نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز رات کی نماز (تہجد) ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2429]
محرم کے مہینے میں نفلی روزوں کی بڑی فضیلت ہے۔
علاوہ ازیں عاشورہ محرم اور اس کے ساتھ ایک دن اور ملا کر روزہ رکھنے کا مسئلہ ہے جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ” رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل روزہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کے مہینے کا جسے تم لوگ محرم کہتے ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1742]
فوائد و مسائل:
(1)
محرم کو اللہ کا مہینہ کہنے سے اس کے شرف و فضل کی طرف اشارہ ہے جیسے بیت اللہ، ناقة اللہ اور روح اللہ میں اللہ کی طرف نسبت شرف و فضل کے اظہار کے لئے ہے
(2)
محرم میں نفلی روزے رکھنا دوسرے مہینوں سے افضل ہے۔