حدیث نمبر: 1162
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ : رَجُلٌ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَصُومُ ؟ ، " فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غَضَبَهُ ، قَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ ، وَغَضَبِ رَسُولِهِ فَجَعَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُرَدِّدُ هَذَا الْكَلَامَ حَتَّى سَكَنَ غَضَبُهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ ؟ ، قَالَ : " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ " ، أَوَ قَالَ : " لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ " ، قَالَ : كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ ، وَيُفْطِرُ يَوْمًا ؟ ، قَالَ : " وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ " ، قَالَ : كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا ، وَيُفْطِرُ يَوْمًا ؟ ، قَالَ : " ذَاكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام " ، قَالَ : كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا ، وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ ؟ ، قَالَ : " وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ ، فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ ، صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ ، وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ " .

حماد نے غیلان سے، انہوں نے عبداللہ بن معبدزمانی سے اور انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: آپ کس طرح روزے رکھتے ہیں؟ اس کی بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ دیکھا تو کہنے لگے: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں، ہم اللہ کے غصے سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہما بار بار ان کلمات کو دہرانے لگے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کے رسول! اس شخص کا کیا حکم ہے جو سال بھر (مسلسل) روزہ رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا نہ اس نے افطار کیا۔“ یا فرمایا: ”اس نے روزہ نہیں رکھا، اس نے افطار نہیں کیا۔“ کہا: اس کا کیا حکم ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے؟“ پوچھا: اس کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے۔“ پوچھا: اس کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور دو دن افطار کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پسند ہے کہ مجھے اس کی طاقت مل جاتی۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے کے تین روزے اور ایک رمضان (کے روزوں) سے (لے کر دوسرے) رمضان (کے روزے) یہ (عمل) سارے سال کے روزوں (کے برابر) ہے۔ اور عرفہ کے دن کا روزہ، میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اور اگلے سال کے گناہوں کا بھی، اور یوم عاشورہ کا روزہ، میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔“

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ واللفظ لابن المثنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ ، قَالَ : " فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً ، قَالَ : فَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ ، فَقَالَ : " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ ، أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ " ، قَالَ : فَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ ، قَالَ : " وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ " ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمَيْنِ ، قَالَ : " لَيْتَ أَنَّ اللَّهَ قَوَّانَا لِذَلِكَ " ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ ، قَالَ : " ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام " ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ ، قَالَ : " ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ " ، قَالَ : فَقَالَ : " صَوْمُ ثَلَاثَةٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَرَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ " ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ ، فَقَالَ : " يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ " ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ : " يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ " ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ ، فَسَكَتْنَا عَنْ ذِكْرِ الْخَمِيسِ لَمَّا نُرَاهُ وَهْمًا ،

محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے غیلان بن جریر سے حدیث سنائی، انہوں نے عبداللہ بن معبدزمانی سے سنا، انہوں نے حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کی: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے، اور بیعت کے طور پر اپنی بیعت پر راضی ہیں (جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی)۔ کہا: اس کے بعد آپ سے بغیر وقفے کے ہمیشہ روزہ رکھنے (صیام الدہر) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص نے روزہ رکھا نہ افطار کیا۔“ اس کے بعد آپ سے دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن ترک کرنے کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طاقت کون رکھتا ہے؟“ کہا: اور آپ سے ایک دن روزہ رکھنے اور دو دن ترک کرنے کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش کے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کام کی طاقت دی ہوتی۔“ کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن روزہ ترک کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کا روزہ ہے۔“ کہا: اور آپ سے سوموار کا روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دن ہے جب میں پیدا ہوا اور جس دن مجھے (رسول بنا کر) بھیجا گیا، یا مجھ پر (قرآن) نازل کیا گیا۔“ کہا: اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ماہ کے تین روزے اور اگلے رمضان تک رمضان کے روزے ہی ہمیشہ کے روزے ہیں۔“ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔“ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔“ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث میں شعبہ کی روایت (یوں) ہے: انہوں (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: اور آپ سے سوموار اور جمعرات کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ لیکن ہم نے جمعرات کے ذکر سے سکوت کیا ہے، کیونکہ ہمارے خیال میں یہ (راوی کا) وہم ہے۔

وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ،

معاذ بن معاذ، شبابہ اور نضر بن شمیل سب نے شعبہ سے اس سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) روایت کی۔

وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ ، غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ فِيهِ الِاثْنَيْنِ ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْخَمِيسَ .

امام صاحب اپنے استاد احمد بن سعید اور اس سے غیلان بن جریر سے شعبہ کی طرح حدیث نقل کرتے ہیں لیکن اس میں سوموار کا ذکر ہے جمعرات کا ذکر نہیں ہے۔

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ غَيْلَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الِاثْنَيْنِ " ، فَقَالَ : " فِيهِ وُلِدْتُ ، وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ " .

ہمیں مہدی بن میمون نے حدیث سنائی، انہوں نے غیلان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسی دن پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر (قرآن) نازل کیا گیا۔“

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ ابْنِ أَخِي مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ : " هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا ؟ " ، يَعْنِي شَعْبَانَ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ : " إِذَا أَفْطَرْتَ رَمَضَانَ ، فَصُمْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ " ، شُعْبَةُ الَّذِي شَكَّ فِيهِ ، قَالَ : وَأَظُنُّهُ قَالَ يَوْمَيْنِ ،

محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے مطرف بن شخیر کے بھتیجے سے حدیث سنائی، کہا: میں نے مطرف کو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے پوچھا: ”کیا تم نے اس مہینے یعنی شعبان کے وسط (یا دوران) میں کچھ روزے رکھے ہیں؟“ اس نے جواب دیا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”جب تم رمضان کے روزے ختم کر لو اس کے بعد ایک دن یا دو دن کے روزے رکھ لینا۔“ شعبہ نے۔۔۔ جن کو شک ہوا۔۔۔ کہا: میرا خیال ہے کہ آپ نے دو دن کے روزے کہا تھا۔

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، وَيَحْيَى اللُّؤْلُئِيُّ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئِ ابْنِ أَخِي مُطَرِّفٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ ، بِمِثْلِهِ .

نضر نے ہمیں خبر دی (کہا:) ہمیں شعبہ نے خبر دی (کہا:) ہمیں مطرف کے بھتیجے عبداللہ بن ہانی نے اسی سند کے ساتھ اس (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث روایت کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1162
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کس طرح رکھتے ہیں؟ (یعنی نفلی روزوں کے بارے میں آپﷺ کا معمول اور دستورکیا ہے) تو اس کی بات سے (سوال سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپﷺ کی ناراضی کو دیکھا تو کہنے لگے ہم راضی اور مطمئن ہیں اللہ کو اپنا رب مان کر اور اسلام کو اپنا ضابطہ حیات مان... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2746]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حدیث کا اصل مفہوم اور مقصد تو بالکل واضح ہے، لیکن چند ضمنی باتیں وضاحت طلب ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سوال سے ناراض ہو گئے تو آپﷺ کے رخ انور پر ناگواری اور برہمی کے آثار نمایاں ہو گئے کہ آپﷺ کس طرح روزے رکھتے ہیں؟ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کا سوال غلط اور نامناسب تھا اس کو یہ پوچھنا چاہیے تھا کہ میں کس طرح روزے رکھوں اور میرے لیے کون سا طرز عمل مناسب ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت سے شعبوں اور امورزندگی میں، منصب نبوت اور مصالح امت کی رعایت کی بنا پر ایسا طرز عمل بھی اختیار فرماتے تھے جس کی پیروی ہر ایک شخص کے بس میں نہیں اور نہ ہی مناسب ہے۔
اس لیے سائل کو روزے رکھنے کے لیے آپﷺ کا معمول نہیں پوچھنا چاہیے تھا کیونکہ آپﷺ شفیق استاد اور مربی بھی تھے، اس لیے آپﷺ کی ناگواری دراصل تربیت کا ہی حصہ تھی۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سوال سے آپﷺ کی ناگواری محسوس کر کے تمام مسلمانوں کی طرف سے بار بار ایسے کلمات دہرائے جن سے آپﷺ کی ناگواری زائل ہو گئی اور اس کے بعد نفلی روزوں کے بارے میں صحیح طریقے سے سوالات کیے اورآپﷺ نے جوابات مرحمت فرمائے۔
(لا صام ولا أفطر - أو لم يصم ولم يفطر)
کا مقصد یہ ہے کہ یہ پسندیدہ طرز عمل نہیں ہے کیونکہ روزہ عادت بن جائےگا تو اس کو اثر اور احساس ختم ہو جائے گا۔
آخر میں آپﷺ نے فرمایا: روزوں کے سلسلہ میں عام مسلمانوں کے لیے یہی کافی ہے کہ رمضان کے فرض روزے رکھا لیا کریں اور اس کے علاوہ ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کریں، جو (بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا)
ہر نیک عمل کا اجر کم از کم دس گناہ کے اصول کے مطابق، پورے ماہ کا ثواب مل جائے گا اوریہ صوم الدہر بن جائیں گے، مزید اجروثواب کے لیے یوم عرفہ اور یوم عاشورہ کاروزہ رکھا لیا کریں، لیکن واضح رہے عرفہ کا روزہ غیر حاجیوں کو اس دن کی رحمتوں اور برکتوں میں حصہ دار بنانے کے لیے ہے جو عرفات میں حاجیوں پر نازل ہوتی ہیں، حاجیوں کے لیے اس دن کی مخصوص اور مقبول ترین عبادت میدان عرفات کا وقوف ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1162 سے ماخوذ ہے۔