صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب فَضْلِ الصِّيَامِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لِمَنْ يُطِيقُهُ بِلاَ ضَرَرٍ وَلاَ تَفْوِيتِ حَقٍّ: باب: جو اللہ کے راستے میں بغیر کسی تکلیف کے روزہ رکھ سکتا ہو اس کے روزے کی فضیلت۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " ،حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بھی اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے تو اللہ اس ایک روزے کے عوض اس کے چہرے (ذات) کو جہنم کی آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دے گا۔‘‘
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ .یہی روایت مصنف اپنے دوسرے استاد سے سہل ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں۔
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَسُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کردے گا۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
حدیث مذکور میں بھی جہاد کرتے ہوئے روزہ رکھنا مراد ہے جس سے نفل روزہ مراد ہے اور اسی کی یہ فضیلت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مرد مجاہد کا روزہ اور مرد مجاہد کی نماز بہت اونچا مقام رکھتی ہے۔
1۔
اگر روزہ رکھنے سے کسی قسم کی کمزوری لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتو ایسے مجاہدین کے حق میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔
حضرت ابوطلحہ ؓ کا یہی معمول تھا۔
لیکن اگرروزہ رکھنے کی عادت ہے اور اس سے کسی قسم کی کمزوری کا خطرہ نہیں تو جہادکرتے وقت روزہ رکھنا بڑی فضیلت کا حامل ہے کیونکہ اس میں دوعبارتیں جمع ہوجاتی ہیں۔
2۔
حدیث میں ستر سال کاذکر تحدید کے لیے نہیں بلکہ مبالغے کے لیے ہے۔
اس سے کثرت مراد ہے،یعنی وہ شخص دوزخ کی آگ سے لامحدود مسافت دور ہوجائےگا۔
یہی وجہ ہے کہ سنن نسائی کی ایک روایت میں سوسال کی مسافت کا ذکر ہے۔
(سنن النسائي، الصیام، حدیث: 2256)
اگرجہاد کے لیے نکلا ہوا مجاہد جب کہ دشمن کے مقابلہ میں میدان میں موجود ہو لیکن جنگ ہونہیں رہی یا اس قدر ہمت وطاقت کا مالک ہو کہ روزہ سے جہادی کاموں میں کسی قسم کی کوتاہی اور کمزوری نہیں دکھا رہا تو اس کا چہرہ یعنی ذات ایک روزہ کے نتیجہ میں اس قدر طویل مسافت آتش جہنم سے دور ہو جائے گا گویا جہاد کی برکت سے اجر میں اضافہ ہو گا۔