صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب نُدْبِ الصَّائِمِ إذَا دُعِيَ إِلَي الطَّعَامِ وَلَمْ يُرِدِ الْإِفْطَارَ ، أَوْ شُوتِمَ أَوْ قُوتِلَ أَنْ يَقُولَ : إِنِّي صَائِمٌ وَّأَنَّهُ يُنزِّهُ صَوْمَهُ عَنِ الرَّفَثِ وَالْجَهْلِ وَنَحْوِهِ باب: اس بات کے استحباب کا بیان کہ جب کوئی روزہ دار کو کھانے کی طرف بلائے یا اسے گالی دی جائے یا اس سے جھگڑا کیا جائے تو وہ یہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں، اور یہ اس کے روزے کو لغو، اور جہل وغیرہ سے محفوظ رکھے۔
حدیث نمبر: 1150
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وقَالَ زُهَيْرٌ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ ، فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کھانے کی طرف بلایا جائے اور وہ روزہ دار ہو تو وہ کہہ دے: میں روزے سے ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں کسی کو کھانے کی طرف بلایا جائے جبکہ وہ روزے دار ہو تو وہ کہہ دے میں روزے دار ہوں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2702]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اگرچہ نفلی نیکی کا اخفاء بہتر ہے لیکن ضرورت کے وقت اس کا اظہار ہو سکتا ہے نیز دعوت کے لیے روزہ کا افطار کرنا ضروری نہیں ہے حاضر ہو کر خیروبرکت کی دعا کرسکتا ہے اگردعوت دینے والا مجبور کرے اور اس کے جذبات کا لحاظ رکھنا ضروری ہو تو پھر روزہ کھولا بھی جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1150 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 781 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´روزہ دار دعوت قبول کرے اس کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے اور وہ روزہ سے ہو تو چاہیئے کہ وہ کہے میں روزہ سے ہوں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 781]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے اور وہ روزہ سے ہو تو چاہیئے کہ وہ کہے میں روزہ سے ہوں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 781]
اردو حاشہ:
1؎:
’’میں صوم سے ہوں‘‘ کہنے کا حکم دعوت قبول نہ کرنے کی معذرت کے طور پر ہے، اگرچہ نوافل کا چھپانا بہتر ہے، لیکن یہاں اس کے ظاہر کرنے کا حکم اس لیے ہے کہ تاکہ داعی کے دل میں مدعو کے خلاف کوئی غلط فہمی اور کدورت راہ نہ پائے۔
1؎:
’’میں صوم سے ہوں‘‘ کہنے کا حکم دعوت قبول نہ کرنے کی معذرت کے طور پر ہے، اگرچہ نوافل کا چھپانا بہتر ہے، لیکن یہاں اس کے ظاہر کرنے کا حکم اس لیے ہے کہ تاکہ داعی کے دل میں مدعو کے خلاف کوئی غلط فہمی اور کدورت راہ نہ پائے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 781 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2461 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جب روزہ دار کو کھانے کی دعوت دی جائے تو کیا جواب دے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو اسے کہنا چاہیئے کہ میں روزے سے ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2461]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو اسے کہنا چاہیئے کہ میں روزے سے ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2461]
فوائد ومسائل:
کھانے کی دعوت میں شریک ہونا افضل ہے۔
تاہم اگر عذر کرے اور بتا دے کہ میں روزے سے ہوں تو بھی جائز ہے۔
یا یہ مفہوم بھی ہے کہ اہل مجلس کو اپنے روزے کی خبر دے تو کوئی عیب کی بات نہیں۔
کھانے کی دعوت میں شریک ہونا افضل ہے۔
تاہم اگر عذر کرے اور بتا دے کہ میں روزے سے ہوں تو بھی جائز ہے۔
یا یہ مفہوم بھی ہے کہ اہل مجلس کو اپنے روزے کی خبر دے تو کوئی عیب کی بات نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2461 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1750 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´روزہ دار کو کھانے کی دعوت دینے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب کسی کو کھانا کھانے کے لیے بلایا جائے، اور وہ روزے سے ہو، تو کہے کہ میں روزے سے ہوں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1750]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب کسی کو کھانا کھانے کے لیے بلایا جائے، اور وہ روزے سے ہو، تو کہے کہ میں روزے سے ہوں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1750]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جب روزے دار کو کھا نے کی دعوت دی جائے تو اس کے لئے جائز ہے کہ روزہ کھول کر دعوت قبول کرلے اور کھانے میں شریک ہو جائے اور یہ بھی جائز ہے کہ کھانے سے معذرت کر لے۔
(2)
روزہ دار کا دعوت دینے والے کو بتانا کہ میں روزے سے ہوں ریاکاری میں شامل نہیں کیونکہ اس کا مقصد اپنی نیکی کا اعلان نہیں بلکہ اپنے عذر کا اظہار ہے
(3)
یہ حکم نفلی روزے کے لئے ہے فرضی روزہ کھو لنا جا ئز نہیں سوائےاس کے کہ سفر یا مرض وغیرہ کا ایسا معقول عذر موجود ہو جس کی وجہ سے اس کے لئے روزہ چھوڑنا شرعاً جائز ہو گیا ہو۔
فوائد و مسائل:
(1)
جب روزے دار کو کھا نے کی دعوت دی جائے تو اس کے لئے جائز ہے کہ روزہ کھول کر دعوت قبول کرلے اور کھانے میں شریک ہو جائے اور یہ بھی جائز ہے کہ کھانے سے معذرت کر لے۔
(2)
روزہ دار کا دعوت دینے والے کو بتانا کہ میں روزے سے ہوں ریاکاری میں شامل نہیں کیونکہ اس کا مقصد اپنی نیکی کا اعلان نہیں بلکہ اپنے عذر کا اظہار ہے
(3)
یہ حکم نفلی روزے کے لئے ہے فرضی روزہ کھو لنا جا ئز نہیں سوائےاس کے کہ سفر یا مرض وغیرہ کا ایسا معقول عذر موجود ہو جس کی وجہ سے اس کے لئے روزہ چھوڑنا شرعاً جائز ہو گیا ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1750 سے ماخوذ ہے۔