حدیث نمبر: 1149
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَبُو الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ ، قَالَ : فَقَالَ : " وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ " ، قَالَتْ " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ ، أَفَأَصُومُ عَنْهَا ؟ ، قَالَ : " صُومِي عَنْهَا " ، قَالَتْ : إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا ؟ ، قَالَ : " حُجِّي عَنْهَا " ،

علی بن مسہر، ابوالحسن نے عبداللہ بن عطاء سے، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ایک بار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ایک عورت نے کہا: میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی بطور صدقہ دی تھی اور وہ (والدہ) فوت ہو گئی ہیں۔ کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اجر پکا ہو گیا۔ اور وراثت نے وہ (لونڈی) تمہیں لوٹا دی۔“ اس نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! ان کے ذمے ایک ماہ کے روزے تھے، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے روزے رکھو۔“ اس نے پوچھا: انہوں نے کبھی حج نہیں کیا تھا، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے حج کرو۔“

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : صَوْمُ شَهْرَيْنِ ،

یہی روایت امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں جس میں ”انا جالس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم‘‘ کے بجائے ”كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه وسلم‘‘ ہے اور اس میں ایک ماہ کے بجائے دو ماہ کے روزے ہیں۔

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ ، وَقَالَ : صَوْمُ شَهْرٍ ،

عبدالرزاق نے کہا: ہمیں (سفیان) ثوری نے عبداللہ بن عطاء سے خبر دی، انہوں نے ابن بریدہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔۔۔ اس کے بعد اسی (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی اور انہوں نے کہا: ”ایک ماہ کے روزے۔“

وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سُفْيَانَ : بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : صَوْمُ شَهْرَيْنِ ،

عبیداللہ بن موسیٰ نے سفیان (ثوری) سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کی مانند) حدیث بیان کی اور انہوں نے کہا: ”دو ماہ کے روزے۔“

وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ ، وَقَالَ : صَوْمُ شَهْرٍ .

عبدالملک بن ابی سلیمان نے عبداللہ بن عطاء سے، انہوں نے سلیمان بن بریرہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی۔۔۔ (آگے) ان کی حدیث کے مانند (بیان کیا) اور انہوں نے بھی کہا: ”ایک ماہ کے روزے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1149
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 667 | سنن ابي داود: 1656 | سنن ابي داود: 2877 | سنن ابن ماجه: 2394

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی اثنا میں آپﷺ کے پاس ایک عورت آ گئی اور اس نے پوچھا: میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی صدقہ میں دی اور اب میری ماں فوت ہوئی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تیرا اجر ثابت ہو گیا اور وراثت کی بنا پر تیری لونڈی واپس مل گئی۔‘‘ اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ذمہ ایک ماہ کے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2697]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
اگر کوئی انسان صدقہ کرتا ہے اور وہ صدقہ وراثت کی بناء پر اس کے پاس واپس آ جاتا ہے تو اس کے لیے اس کا لینا جائز ہے اور اس کے ثواب میں کمی نہیں ہوگی۔

والدین کی طرف سے نفلی حج بھی کیا جا سکتا ہے۔

ولی رمضان کے روزوں کی طرح میت کی طرف سے نذر کے روزے بھی رکھ سکتا ہے اگرچہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک روزے رکھنے جائز نہیں ہیں اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک رمضان کے روزے نہیں رکھ سکتا اور نذر کے روزے رکھ سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2697 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1656 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ایک شخص نے صدقہ دیا پھر اس کا وارث ہو گیا تو اسے لے لے۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میں نے ایک لونڈی اپنی ماں کو صدقہ میں دی تھی، اب وہ مر گئی ہیں اور وہی لونڈی چھوڑ کر گئی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تمہارا اجر پورا ہو گیا، اور وہ لونڈی تیرے پاس ترکے میں لوٹ آئی۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1656]
1656. اردو حاشیہ: -1والدین کی خدمت اولاد پر واجب ہے۔اور یہ کہ وہ مالی طور پر بھی ان کی کفالت کریں۔مگر فرضی صدقات ان کو نہیں دیے جاسکتے۔
➋ حدیث میں مذکور صورت صدقہ لوٹا لینے کی معروف صورت نہیں ہے جو منع ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1656 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2877 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´آدمی کوئی چیز ہبہ کر دے پھر وصیت یا میراث سے وہی چیز پا لے تو کیسا ہے؟`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر کہا: میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی ہبہ کی تھی، اب وہ مر گئیں اور لونڈی چھوڑ گئیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تمہارا ثواب بن گیا اور تمہیں تمہاری لونڈی بھی میراث میں واپس مل گئی "، پھر اس نے عرض کیا: میری ماں مر گئی، اور اس پر ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں اس کی طرف سے قضاء کروں تو کافی ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہاں ۱؎ "، پھر اس نے کہا: اس نے حج بھی نہیں کیا تھا، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں تو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2877]
فوائد ومسائل:

والدین کی مادی ومعنوی خدمت اور مدد کرنا اہم تین فضائل میں سے ہے۔
اور بڑے اجر کا کام ہے۔


صدقہ اور ہدیہ اگر بطور ورثہ واپس مل جائے۔
تو اس کا مالک بننا جائز ہے۔
اسی طرح لینا اس ذیل میں نہیں آتا۔
جس میں صدقہ اور ہبہ واپس لینا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔


میت کے ذمے اگر روزے باقی ہوں تو وارث کو اس کی قضا کرنی چاہیے۔


اس طرح میت کی طرف سے حج بھی ہوسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2877 سے ماخوذ ہے۔