صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب كَرَاهِيَةِ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مُنْفَرِدًا: باب: خاص جمعہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے (ہاں اگر جمعہ کا دن عادت کے مطابق روزوں میں آ جائے تو پھر مکروہ نہیں ہے)۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَصُمْ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِلَّا أَنْ يَصُومَ قَبْلَهُ ، أَوْ يَصُومَ بَعْدَهُ " .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص جمعہ کا روزہ نہ رکھے الا یہ کہ اس سے ایک دن پہلے کا (جمعرات کا) یا اس کے ایک دن بعد (ہفتہ) کا روزہ بھی رکھے۔‘‘
وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي ، وَلَا تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الْأَيَّامِ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ " .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ راتوں میں سے جمعہ کی رات کو قیام اور عبادت کے لیے مخصوص نہ کرو اور تم لوگ دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے مخصوص نہ کرو۔ الا یہ کہ وہ تمھارے روزے کے معمول کے دنوں میں آ جائے۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
جیسے کوئی پیر جمعرات کو روزہ رکھتا ہے، کوئی پیر منگل کو، کوئی جمعرات جمعہ کو تو یہ تخصیص آنحضرت ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔
ابن تین نے کہا بعض نے اسی وجہ سے ایسی تخصیص کو مکروہ رکھا ہے۔
لیکن عرفہ کے دن اور عاشور اور ایام بیض کی تخصیص تو خود حدیث سے ثابت ہے۔
حافظ نے کہا کئی ایک احادیث میں یہ وارد ہے کہ آپ ﷺ پیر اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے۔
مگر شاید امام بخاری ؒ کے نزدیک وہ حدیثیں صحیح نہیں ہیں حالانکہ ابوداؤد اور ترمذی اور نسائی نے نکالا۔
اور ابن حبان نے اس کو صحیح کہا۔
حضرت عائشہ ؓ سے کہ آنحضرت ﷺ قصد کرکے پیر اور جمعرات کو روزہ رکھتے اور نسائی ا ور ابوداؤد نے نکالا۔
ابن خزیمہ نے اس کو صحیح کہا، اسامہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا آپ ﷺ پیر اور جمعرات کو روزہ رکھتے۔
میں نے اس کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا اس دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو میں چاہتا ہوں کہ میرا عمل اس وقت اٹھایا جائے جب میں روزہ سے ہوں۔
(1)
قبل ازیں بیان ہوا تھا کہ کسی معقول عذر کی وجہ سے نفلی روزہ افطار کیا جا سکتا ہے، مثلا: مہمان نے میزبان کو قسم دی کہ وہ اس کے ساتھ کھانا کھائے یا میزبان نے پرتکلف کھانا تیار کیا تو اس کی حوصلہ افزائی کے لیے روزہ توڑا جا سکتا ہے لیکن ایسا کرنا ضروری نہیں، مثلا: اگر کوئی کسی کے گھر جاتا ہے اور اہل خانہ اسے "ماحضر" پیش کرتے ہیں تو ایسے حالات میں روزہ توڑنا ضروری نہیں جیسا کہ پیش کردہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
بہرحال نفلی روزہ توڑنا یا نہ توڑنا حالات و ظروف پر موقوف ہے۔
(2)
رسول اللہ ﷺ نے حضرت انس ؓ کے لیے تین دعائیں فرمائیں: ٭ اے اللہ! اس کے مال و اولاد میں برکت عطا فرما۔
٭ اے اللہ! اس کی عمر لمبی کر۔
٭ اے اللہ! اسے قیامت کے دن معاف کر دے۔
(الطبقات الکبرٰی لابن سعد: 19/7، طبع دار صادر، بیروت)
حضرت انس کہتے ہیں: دو دعاؤں کی قبولیت کو میں نے بچشم خود ملاحظہ کر لیا ہے، انصار مدینہ میں سب سے زیادہ مال دار میں ہوں، (صحیح البخاري، الصوم، حدیث: 1982)
نیز ان کا ایک باغ تھا جو سال میں دو دفعہ پھل لاتا تھا۔
(جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3833)
فوت شدہ اولاد کا حدیث میں ذکر ہے اور جو اولاد زندہ رہی وہ ایک سو سے زیادہ تھی، (صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 6377(2481)
البتہ ایک دعا کے متعلق فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اسے بھی شرف قبولیت عطا کرے گا اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مجھے معاف کر دے گا۔
(صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 6377(2481) (3)
واضح رہے کہ جب حجاج بن یوسف بصرہ آیا تو اس وقت حضرت انس ؓ کی عمر کچھ اوپر اسی برس تھی اور آپ سو برس کی عمر میں فوت ہوئے۔
(فتح الباري: 291/4)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم میں سے کوئی جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے، إلا یہ کہ وہ اس سے پہلے یا اس کے بعد بھی روزہ رکھے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 743]
1؎:
اس ممانعت کی وجہ کیا ہے، اس سلسلہ میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، سب سے صحیح وجہ اس کا یوم عید ہونا ہے، اس کی صراحت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت میں ہے جس کی تخریج حاکم وغیرہ نے ان الفاظ کے ساتھ کی ہے ((يَوْمُ الجُمُعَةِ يَوْمُ عِيدٍ، فَلاَ تَجْعَلُوا يَوْمَ عِيدِكم يَوْمَ صِيَامِكُم إلاَّ أَنْ تَصُومُوا قَبلَهُ أَوْ بَعْدَه)) ’’جمعہ کا دن عید کا دن ہے، اس لیے اپنے عید والے دن روزہ نہ رکھا کرو، إلا یہ کہ اس سے ایک دن قبل (جمعرات کا بھی) روزہ رکھو یا اس سے ایک دن بعد (سنیچرکے دن) کا بھی‘‘۔
اور ابن ابی شیبہ نے بھی اسی مفہوم کی ایک حدیث علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جس کی سند حسن ہے اس کے الفاظ یہ ہیں ((مَنْ كَانَ مِنْكُم مُتَطَوِّعًا منَ الشهرِ أيامًا، فليَكُنْ فِي صَوْمِه يَوْمُ الخَميسِ، وَلَا يَصُمْ يَومََ الْجُمُعةِ، فإنَّه يومُ طَعَامٍ وَشَرَابٍ)) ’’تم میں سے جو کوئی کسی مہینے کے نفلی روزے رکھ رہا ہو، وہ جمعرات کے دن کا روزہ رکھے، جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے، اس لیے کہ یہ کھانے پینے کا دن ہوتا ہے‘‘۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم میں کوئی جمعہ کو روزہ نہ رکھے سوائے اس کے کہ ایک دن پہلے یا بعد کو ملا کر رکھے۔" [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2420]
روزے کے لیے صرف جمعہ کے دن کو خاص کر لینا یا رات کے قیام و نوافل کے لیے جمعہ کی رات کو خاص اہتمام کرنا جائز نہیں۔
اس منع کی علت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔
سوائے اس کے کہ جمعہ کے دن کو عید کا دن کہا گیا ہے اور یہ خاص ذکر و عبادت کا دن ہے۔
حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ نے فتح الباری میں اور پھر علامہ شوکانی رحمة اللہ علیہ نے نیل الاوطار (4/281) میں ان علل کا ذکر کیا ہے اور اشکالات بھی وارد کیے ہیں۔
کچھ لوگ جمعہ کی رات کو صلاة الرغائب پڑھتے ہیں جو صوفیوں کی ایجاد کردہ بدعت ہے۔
بعض اوقات جمعرات اور جمعہ یا ان راتوں کو درس و تبلیغ کا اہتمام کیا جاتا ہے تو اس میں ان شاءاللہ کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ یہ مجالس معروف عبادت نہیں۔
یہ اعمال انتظام و سہولت کے پیش نظر ہوتے ہیں، جمعے کی خصوصیت سے نہیں۔
واللہ اعلم.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا، الا یہ کہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں رکھا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1723]
فوائد و مسائل:
(1)
جمعے کے دن مسلمانوں کی ہفت روزہ عید ہے اس لئے اس دن کا اکیلا روزہ رکھنا ایک لحاظ سے عید کے دن روزہ رکھنے سے مشابہ ہو جاتا ہے
(2)
جمرات کا روزہ رکھنا مسنون ہے جیسے کہ حدیث 1740، 1739 میں آ رہا ہے اس کے سا تھ ملا کر جمعے کا روزہ بھی رکھا جا سکتا ہے
(3)
اسی طر ح اکیلے ہفتے کے دن کا روزہ بھی ممنوع ہے- دیکھیے: حدیث 1726، البتہ جمعے اور ہفتے کے دن کو ملا کر روزہ رکھا جائے تو جا ئز ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " دوسری راتوں میں سے جمعہ کی رات کو قیام کرنے کے لیے مخصوص نہ کرو اور نہ ہی دوسرے دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزہ رکھنے کے لیے مختص کرو سوائے اس کے کہ جمعہ کا دن ایسے دن آ جائے کہ جس دن تم میں سے کوئی ایک روزہ رکھتا ہو۔ " (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 561]
➊ «لَاتَخُصُّو يَوْمَ الْجُمَعَةِ» یعنی صرف جمعے کے دن کو روزے کے لیے مختص نہ کرو، اس لیے کہ جمعے کے دن عید ہے اور عید کے دن روزہ نہیں ہوتا۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ ممانعت تحریمی ہے مگر جمہور نے اسے نہی تنزیہی پر محمول کیا ہے، کیونکہ ترمذی میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حسن سند والی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت کم جمعے کا روزہ چھوڑتے تھے۔ [جامع الترمذي، الصوم، باب ماجاء فى صوم يوم الجمعة، حديث: 742]
مگر اس میں احتمال ہے کہ شاید اس کے ساتھ آپ ایک دن پہلے یا بعد میں بھی روزہ رکھتے ہوں گے۔
➋ یاد رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلاریب جمعے کو عید کا دن فرمایا ہے مگر عید اور جمعے میں اتنا فرق ضرور ہے کہ عید کے دن روزہ رکھنا بالکل ناجائز ہے، کسی طرح بھی جائز نہیں حتیٰ کہ اس سے ایک دن پہلے یا بعد والے دن میں روزہ رکھنے سے بھی جائز نہیں ہوتا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن روزہ رکھنے سے مطلقاً منع فرمایا ہے جبکہ جمعہ میں یہ صورت بالاتفاق جائز ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کی اجازت دی ہے جیسا کہ اس کے بعد والی حدیث میں آ رہا ہے۔ ٭