صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب تَحْرِيمِ صَوْمِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ: باب: ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی حرمت، اور یہ کہ وہ کھانے، پینے، اور اللہ عزوجل کے ذکر کے دن ہیں۔
حدیث نمبر: 1141
وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " ،سریج بن یونس، ہشیم، خالد، ابو ملیح، حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تشریق کے دن کھانے اور پینے کے دن ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، قَالَ خَالِدٌ : فَلَقِيتُ أَبَا الْمَلِيحِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ فَذَكَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ ، وَزَادَ فِيهِ : " وَذِكْرٍ لِلَّهِ " .محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسماعیل بن علیہ، خالد، ابو ملیح، نبیشہ، اس سند کے ساتھ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح حدیث منقول ہے اور اس میں صرف ”ذکر اللہ“ کے الفاظ زائد ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت نبیشہ ہذلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایام تشریق کھانے اور پینے کے دن ہیں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2677]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ایام تشریق سے مراد 10 ذوالحجہ سے لے کر 13 ذوالحجہ تک کے چار دن ہیں، یہ چونکہ کھانے پینے کے ایام ہیں اس لیے ان میں روزہ رکھنا جائز نہیں لیکن قرآن مجید میں متمتع کے بارے میں فرمایا کہ اگر اس کے پاس ہدی نہ ہو تو وہ دس روزے رکھے اور: (ثَلاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ)
ہوں یعنی تین روزے حج کے دنوں میں رکھنے ہوں گے اور یہ آیت عام ہے کہ یہ دن قربانی سے پہلے ہوں یا بعد میں اس لیے اس مسئلہ میں ائمہ کا اختلاف ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے راجح قول کے مطابق ایام تشریف میں روزے کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہیں لیکن امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ۔
اور امام اسحاق رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک قول کی رو سے متمتع قارن اور محصر کے لیے ایام تشریق کے روزے جائز ہیں۔
ہوں یعنی تین روزے حج کے دنوں میں رکھنے ہوں گے اور یہ آیت عام ہے کہ یہ دن قربانی سے پہلے ہوں یا بعد میں اس لیے اس مسئلہ میں ائمہ کا اختلاف ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے راجح قول کے مطابق ایام تشریف میں روزے کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہیں لیکن امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ۔
اور امام اسحاق رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک قول کی رو سے متمتع قارن اور محصر کے لیے ایام تشریق کے روزے جائز ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1141 سے ماخوذ ہے۔