صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب أَيُّ يَوْمٍ يُصَامُ فِي عَاشُورَاءَ: باب: عاشورہ کا روزہ کس دن رکھا جائے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ ، فَقُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِي عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ ، وَأَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا ، قُلْتُ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ ، قَالَ : نَعَمْ ،حکم بن اعرج رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچا جبکہ وہ زمزم کے پاس اپنی چادر کو سرہانہ (تکیہ) بنائے ہوئے تھے تو میں نے ان سے پوچھا، مجھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں بتائیے تو انھوں نے جواب دیا جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کو گنتے رہو اور نویں دن کی صبح روزہ کی حالت میں کرو۔ میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا روزہ ایسے ہی رکھتے تھے؟ انھوں نے کہا، ہاں۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ عِنْدَ زَمْزَمَ ، عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ .محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، معاویہ بن عمرو، حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس حال میں پوچھا کہ وہ زم زم کے پاس اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا اس کے بعد اسی طرح حدیث مبارکہ ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
تاریخ کا بھی روزہ رکھوں گا، جیساکہ آگے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت آ رہی ہے، اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ آئندہ ہم دسویں محرم کی بجائے یہ روزہ نویں محرم ہی کو رکھا کریں گے، دوسرا یہ کہ آئندہ سے ہم دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کا بھی روزہ رکھا کریں گے تاکہ ہمارے اور یہود ونصاریٰ کے طرز عمل میں فرق ہو جائے اور مشابہت ختم ہو جائے اور مسند احمد کی روایت سے اسی دوسرے نص کو ترجیح حاصل ہےآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم عاشورہ کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت بھی کرو اور ایک دن قبل یا بعد کا روزہ بھی رکھو۔
‘‘ جمہور امت کا اس معنی پر اتفاق ہے اگرچہ اس دور کے بعض علماء کا خیال ہے کہ ہمارے زمانہ میں چونکہ یہودونصاریٰ کا کوئی کام بھی قمری مہینوں کے حساب سے نہیں ہوتا، اس لیے اب کسی اشتراک اور تشابہ کا سوال پیدا نہیں ہوتا اورلہٰذا فی زماننا رفع تشابه کے لیے نویں یا گیارہویں کا روزہ رکھنا ضروری نہیں ہے۔
طحاوی کی روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا، یہود کی مخالفت کرو اور نویں، دسویں دونوں کا روزہ رکھو۔
(فتح المہلم ص 145، ج۔
3)
حکم بن الاعرج کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت وہ مسجد الحرام میں اپنی چادر کا تکیہ لگائے ہوئے تھے، میں نے عاشوراء کے روزے سے متعلق ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا: جب تم محرم کا چاند دیکھو تو گنتے رہو اور نویں تاریخ آنے پر روزہ رکھو، میں نے پوچھا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: (ہاں) محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح روزہ رکھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2446]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملا تو نویں تاریخ کا روزہ نہیں رکھا، مگر آپ کا عزم یہی تھا۔
اسی پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
اور مطلوب بھی یہی ہے کہ نویں دسویں یا دسویں گیارھویں کا روزہ رکھا جائے۔