صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ: باب: عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1132
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ ؟ ، فَقَالَ " مَا عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا ، يَطْلُبُ فَضْلَهُ عَلَى الْأَيَّامِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ ، وَلَا شَهْرًا إِلَّا هَذَا الشَّهْرَ " ، يَعْنِي : رَمَضَانَ ،حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے یوم عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دیا: نہیں جانتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دن کا روزہ اس کو دوسرے دنوں پر فضیلت دیتے ہوئے رکھا ہو سوائے اس دن کے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینہ کی فضیلت کی بنا پر پورا مہینہ روزے رکھے سوائے اس ماہ یعنی رمضان کے۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ ، بِمِثْلِهِ .محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عبیداللہ بن ابی یزید سے اس سند کے ساتھ اسی طرح کی یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2372 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم (میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں) کا روزہ اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے عاشوراء کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دن کا روزہ اور دنوں سے بہتر جان کے رکھا ہو، سوائے اس دن کے، یعنی ماہ رمضان کے اور عاشوراء کے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2372]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے عاشوراء کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دن کا روزہ اور دنوں سے بہتر جان کے رکھا ہو، سوائے اس دن کے، یعنی ماہ رمضان کے اور عاشوراء کے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2372]
اردو حاشہ: ماہ رمضان المبارک کی فضیلت کے بارے میں تو کوئی کلام ہی نہیں، اس کے بعد یوم عاشوراء یعنی دس محرم الحرام افضل ہے۔ اس دن بہت سے اہم کام سر انجام پائے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2372 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 490 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
490- سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میرے علم کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی مخصوص دن کی فضیلت کو اہتمام سے حاصل کرنے کے لئے اس دن روزہ نہیں رکھا صرف یہ ایسا دن ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مراد عاشورہ کا دن تھا، یا یہ مہینہ ہے، سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما کی مراد رمضان کا مہینہ تھا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:490]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رمضان اور عاشوراء (محرم کی نو تاریخ) کے روزے بہت فضیلت رکھتے ہیں، ان کے علاوہ تمام دن روزہ رکھنے میں برابر ہیں، اگر کوئی چاہے تو صوم داؤدی (ایک دن روزہ رکھنا، ایک دن افطار کرنا) رکھ لے، یا ایام بیض (ہر ماہ کی تیرہ، چودہ، پندرہ تاریخ کے روزے رکھ لے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رمضان اور عاشوراء (محرم کی نو تاریخ) کے روزے بہت فضیلت رکھتے ہیں، ان کے علاوہ تمام دن روزہ رکھنے میں برابر ہیں، اگر کوئی چاہے تو صوم داؤدی (ایک دن روزہ رکھنا، ایک دن افطار کرنا) رکھ لے، یا ایام بیض (ہر ماہ کی تیرہ، چودہ، پندرہ تاریخ کے روزے رکھ لے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 490 سے ماخوذ ہے۔