حدیث نمبر: 1131
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ ، وَتَتَّخِذُهُ عِيدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُومُوهُ أَنْتُمْ "

حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ یوم عاشورہ ایسا دن تھا جس کی یہود تعظیم کرتے تھے اور اسے عید (مسرت) کا دن قرار دیتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھی اس دن کا روزہ رکھو۔‘‘

وحَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، أَخْبَرَنِي قَيْسٌ ، فَذَكَرَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ . (حديث موقوف) وَزَادَ : قَالَ وَزَادَ : قَالَ أَبُو أُسَامَةَ ، فَحَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ أَهْلُ خَيْبَرَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، يَتَّخِذُونَهُ عِيدًا ، وَيُلْبِسُونَ نِسَاءَهُمْ فِيهِ حُلِيَّهُمْ وَشَارَتَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَصُومُوهُ أَنْتُمْ " .

حضرت ابو موسیٰ ؑ سے روایت ہے کہ اہل خیبر یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اسے عید کا دن قراردیتے تھےاور اپنی عورتوں کو ان کے زیورات پہناتے تھے اور ان کو بہترین لباس پہناتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھی اس دن کا روزہ رکھو۔‘‘

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1131
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2005 | صحيح البخاري: 3942

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3942 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3942. حضرت ابوموسٰی اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی ﷺ مدینہ طیبہ آئے تو آپ نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ عاشوراء کے دن کی تعظیم کرتے ہیں اور اس دن کا روزہ رکھتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ہم اس دن روزہ رکھنے کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘ پھر آپ نے اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3942]
حدیث حاشیہ: اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کی مدینہ میں تشریف آوری کا ذکر ہے۔
باب کا مطلب اسی سے نکلا۔
بعد میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو مسلمان عاشوراء کا روزہ رکھے اسے چاہیے کہ یہودیوں کی مخالفت کے لئے اس میں نویں یا گیارہویں تاریخ کے دن یعنی ایک روزہ اور بھی رکھ لے۔
اب یہ روزہ رکھنا سنت ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3942 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2005 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2005. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ یہودی عاشوراء کے دن کو بطور جشن مناتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’تم اس دن روزہ رکھو۔‘‘ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2005]
حدیث حاشیہ: مسند احمد میں حضرت ابن عباس ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ " صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَخَالِفُوا فِيهِ الْيَهُودَ، صُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا، أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا " یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عاشوراء کے دن روزہ رکھو اور اس میں یہود کی مخالفت کے لیے ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ اور ملا لو۔
قَالَ الْقُرْطُبِيُّ عَاشُورَاءُ مَعْدُولٌ عَنْ عَاشِرَةٍ لِلْمُبَالَغَةِ وَالتَّعْظِيمِ وَهُوَ فِي الْأَصْلِ صِفَةٌ لِلَّيْلَةِ الْعَاشِرَةِ لِأَنَّهُ مَأْخُوذٌ مِنَ الْعَشْرِ الَّذِي هُوَ اسْمُ الْعَقْدِ وَالْيَوْمُ مُضَافٌ إِلَيْهَا فَإِذا قِيلَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَكَأَنَّهُ قِيلَ يَوْمُ اللَّيْلَةِ الْعَاشِرَةِ إِلَّا أَنَّهُمْ لَمَّا عَدَلُوا بِهِ عَنِ الصِّفَةِ غَلَبَتْ عَلَيْهِ الِاسْمِيَّةُ فَاسْتَغْنَوْا عَنِ الْمَوْصُوفِ فَحَذَفُوا اللَّيْلَةَ فَصَارَ هَذَا اللَّفْظُ عَلَمًا عَلَى الْيَوْمِ الْعَاشِرِ (فتح)
یعنی قرطبی نے کہا کہ لفظ عاشورا مبالغہ اور تعظیم کے لیے ہے جو لفظ عاشرہ سے معدول ہے جب بھی لفظ عاشوراءبولا جائے اس سے محرم کی دسویں تاریخ کی رات مراد ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2005 سے ماخوذ ہے۔