حدیث نمبر: 113
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، خَرَجَتْ بِهِ قُرْحَةٌ ، فَلَمَّا آذَتْهُ ، انْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَنَكَأَهَا ، فَلَمْ يَرْقإِ الدَّمُ حَتَّى مَاتَ ، قَالَ : " رَبُّكُمْ ، قَدْ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " ، ثُمَّ مَدَّ يَدَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : إِي وَاللَّهِ لَقَدْ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ جُنْدَبٌ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ .

شیبان نے بیان کیا کہ میں نے حسن (بصری) کو کہتے ہوئے سنا: ”تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی تھا، اسے پھوڑا نکلا، جب اس نے اسے اذیت دی تو اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور اس پھوڑے کو چیر دیا، خون بند نہ ہوا، حتیٰ کہ وہ مر گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔“ (کیونکہ اس نے خودکشی کے لیے ایسا کیا تھا۔) پھر حسن نے مسجد کی طرف سے اپنا ہاتھ اونچا کیا اور کہا: ہاں، اللہ کی قسم! یہ حدیث مجھے جندب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (روایت کرتے ہوئے) اسی مسجد میں سنائی تھی۔

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبيِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا جُنْدَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ ، فَمَا نَسِينَا وَمَا نَخْشَى أَنْ يَكُونَ جُنْدَبٌ ، كَذَبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرَجَ بِرَجُلٍ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ خُرَاجٌ " ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .

حسن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: کہ ہمیں جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے اس مسجد میں حدیث سنائی، نہ ہم بھولے ہیں اور نہ ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ جندب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اپنی طرف سے بات منسوب کی ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں سے ایک آدمی کے پھوڑا نکلا۔“ پھر اوپر والی حدیث بیان کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الإيمان / حدیث: 113
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في الجنائز، باب: ما جاء في قاتل النفس برقم (1298) وفي الانبياء، باب: ما ذكر عن بني اسرائيل برقم (3726) انظر ((التحفة)) برقم (3254)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3463

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حسنؒ سے روایت ہے انھوں نے کہا: ’’اگلے لوگوں میں ایک آدمی تھا اسے پھوڑا نکلا، جب اس نے اسے اذیت دی تو اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور اس پھوڑے کو چیرا دیا جس سے خون نکلنا بند نہ ہوا اور وہ مر گیا۔ تمھارے رب نے فرمایا: ’’میں نے اس پر جنت کو حرام کر دیا ہے۔‘‘ پھر حسن نے مسجد کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا اور کہا: ہاں! اللہ کی قسم! یہ حدیث مجھے جندب ؓ نے اسی مسجد میں سنائی تھی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:307]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: (1)
قُرْحَةٌ: پھوڑا، پھنسی۔
(2)
كِنَانَةٌ: ترکش۔
(3)
نَكَأَهَا: اسے چھیلا، چیرا دیا۔
(4)
لَمْ يَرْقَأِ الدَّمُ: خون نکلنا بند نہ ہوا، خون نہ رکا۔
(5)
خراج: پھوڑا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 113 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3463 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3463. حضرت حسن بصری ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہمیں حضرت جندب بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس مسجد میں حدیث بیان کی جسے ہم بھولے نہیں اور ہمیں اس بات کا بھی اندیشہ نہیں کہ حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی ﷺ پر جھوٹ باندھا ہو۔ انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم سے پہلے ایک شخص کو بہت زخم آئے۔ وہ ان کی تاب نہ لاکر گھبرا گیا۔ اس نے چھری پکڑی اور اپنا ہاتھ کاٹ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خون بند نہ ہونے سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق فرمایا: میرے بندے نے خود میرے پاس آنے میں جلدی کی، لہذا میں نے جنت کو اس پر حرام کردیا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3463]
حدیث حاشیہ: پچھلے زمانے کےشخص کا ذکر حدیث میں وارد ہوا، یہی باب سےمناسبت ہے، حدیث سےیہ ظاہر ہواکہ خود کشی کرنے والے پرجنت حرام ہے، ان جملہ احادیث میں اہل کتاب کا ذکر کسی نہ کسی طور بتایا ہے، اسی لیے ان کویہاں درج کیا گیاہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3463 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3463 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3463. حضرت حسن بصری ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہمیں حضرت جندب بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس مسجد میں حدیث بیان کی جسے ہم بھولے نہیں اور ہمیں اس بات کا بھی اندیشہ نہیں کہ حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی ﷺ پر جھوٹ باندھا ہو۔ انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم سے پہلے ایک شخص کو بہت زخم آئے۔ وہ ان کی تاب نہ لاکر گھبرا گیا۔ اس نے چھری پکڑی اور اپنا ہاتھ کاٹ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خون بند نہ ہونے سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق فرمایا: میرے بندے نے خود میرے پاس آنے میں جلدی کی، لہذا میں نے جنت کو اس پر حرام کردیا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3463]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں (من قبلكم)
کے الفاظ ہیں جو بنی اسرائیل کو بھی شامل ہیں۔

اس حدیث میں ہےکہ خود کشی کرنے والے پر جنت حرام ہے، یہ حکم زجر و توبیخ پر مبنی ہے۔
یہ بھی ممکن ہےکہ اس نے خود کشی کو جائز خیال کیا ہو، ایساکرنا کفر ہے اور کافر پر جنت حرام ہے، یا اس پر خاص جنت حرام کردی گئی ہو، یعنی وہ جنت الفردوس میں داخل نہیں ہوگا۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اس طرح کے سات محل بیان کیے ہیں۔
بہرحال خود کشی کرنا بہت سنگین جرم ہے، اس اقدام سے انسان جنت سے محروم ہوسکتا ہے۔
(فتح الباري: 611/6)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سابقہ امتوں کے واقعات بیان کرنا درست ہے بشرط یہ کہ ان میں عبرت ونصیحت کا کوئی پہلو ہے، ویسے تفریح طبع کے طور پر واقعات سننا اور بیان کرنا درست نہیں۔
واللہ أعلم۔

ان تمام احادیث میں کسی نہ کسی حوالے سے اہل کتاب کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒنے ان احادیث کو بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3463 سے ماخوذ ہے۔