حدیث نمبر: 1129
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ خَطِيبًا بِالْمَدِينَةِ يَعْنِي فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا خَطَبَهُمْ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ : أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِهَذَا الْيَوْمِ : " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ ، وَلَمْ يَكْتُبْ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ ، وَأَنَا صَائِمٌ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ " ،

حمید بن عبدالرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان مدینہ آئے اور انھوں نے عاشورہ کے دن خطبہ دیا میں نے ان سے خطبہ میں سنا، انھوں نے کہا تمھارے علماء کہاں ہیں؟ اسے اہل مدینہ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا، ”یہ یوم عاشورہ ہے اللہ تعالیٰ تم پر اس کا روزہ فرض قرار نہیں دیا میں روزے دار ہوں تو تم میں سے جو پسند کرے کہ وہ روزہ رکھے وہ روزہ رکھ لے اور جو افطار پسند کرے وہ روزہ نہ رکھے (حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان ہوئے جس کا اظہار فتح مکہ کے بعد کیا)

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ،

امام صاحب ایک اور استاد سے ابن شہاب ہی کی سند سے یہ روایت بیان کرتے ہیں۔

وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ : " إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ بَاقِي حَدِيثِ مَالِكٍ وَيُونُسَ .

امام صاحب ایک اور استاد سے زہری ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے بارے میں سنا: ”میں روزے دار ہوں تو جو چاہے کہ روزہ رکھے وہ روزہ رکھ لے۔‘‘ مالک اور یونس کی حدیث کا بقیہ حصہ بیان نہیں کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1129
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2003 | سنن نسائي: 2373

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2003 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
C
تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 2003، ومسلم 129، من حديث ما لك به .]
تفقه:
➊ اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ عاشوراء کا روزہ رکھنا سنت اور افضل ہے لیکن فرض و واجب نہیں ہے۔ [ديكهئے التمهيد 203/7]
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے بارے میں فرمایا: «أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ» مجھے اللہ سے یہ امید ہے کہ اس کے ذریعے سے گزشتہ سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ [صحيح مسلم:1162]
➌ عاشوراء میں یہودیوں کی مخالفت والی حدیث کے راوی سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:«صوموا التاسع والعاشر و خالفوا اليهود» نو اور دس کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو۔ [السنن الكبري للبيهقي 287/4 وسنده صحيح، مصنف عبدالرزاق:7839]
➍ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حدیث رسول سے اتنا پیار کرتے تھے کہ منبر پر بھی اشاعۃ الحدیث میں مصروف رہتے تھے۔ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام حدیث کو حجت سمجھتے تھے۔ رضی اللہ عنہم اجمعین
➎ علماء کو سنت کی ترویج کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہنا چاہئے۔
➏ اچھے حکمران علماء کو اشاعت علم کی ترغیب دلاتے اور اس میں معاونت کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 9999 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2003 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2003. حضرت حمید بن عبدالرحمان سے روایت ہے انھوں نے حضرت امیر معاویہ ؓ کو عاشوراء کے دن، جس سال انھوں نے حج کیا، منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: اے اہل مدینہ!تمہارے علماء کہاں گئے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ نے فرمایا: ’’یہ عاشوراء کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا۔ البتہ میں روزے سے ہوں، اس لیے جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے، اسے چھوڑ دے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2003]
حدیث حاشیہ: شاید معاویہ ؓ کو یہ خبر پہنچی ہو کہ مدینہ والے عاشوراءکا روزہ مکروہ جانتے ہیں یا اس کا اہتمام نہیں کرتے یا اس کو فرض سمجھتے ہیں، تو آپ نے منبر پر یہ تقریر کی، آپ نے یہ حج 44ھ میں کیا تھا۔
یہ ان کی خلافت کا پہلا حج تھا۔
اور اخیر حج ان کا 57ھ میں ہوا تھا۔
حافظ کے خیال کے مطابق یہ تقریر ان کے آخری حج میں تھی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2003 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2373 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم (میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں) کا روزہ اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔`
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو عاشوراء کے دن منبر پر کہتے سنا: اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن میں کہتے ہوئے سنا کہ میں روزہ سے ہوں تو جو روزہ رکھنا چاہے وہ رکھے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2373]
اردو حاشہ: امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصد یہ بتلانا ہے کہ رسول اللہﷺ عاشوراء کا روزہ بھی رکھا کرتے تھے، مگر عاشوراء کا اکیلا روزہ مناسب نہیں، اس کے ساتھ نویں یا نویں کا چھوٹ جائے تو مشابہت سے بچنے کی خاطر گیارہویں کا رکھنا بھی ان شاء اللہ جائز ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2373 سے ماخوذ ہے۔