صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ: باب: عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ خَطِيبًا بِالْمَدِينَةِ يَعْنِي فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا خَطَبَهُمْ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ : أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِهَذَا الْيَوْمِ : " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ ، وَلَمْ يَكْتُبْ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ ، وَأَنَا صَائِمٌ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ " ،حمید بن عبدالرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان مدینہ آئے اور انھوں نے عاشورہ کے دن خطبہ دیا میں نے ان سے خطبہ میں سنا، انھوں نے کہا تمھارے علماء کہاں ہیں؟ اسے اہل مدینہ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا، ”یہ یوم عاشورہ ہے اللہ تعالیٰ تم پر اس کا روزہ فرض قرار نہیں دیا میں روزے دار ہوں تو تم میں سے جو پسند کرے کہ وہ روزہ رکھے وہ روزہ رکھ لے اور جو افطار پسند کرے وہ روزہ نہ رکھے (حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان ہوئے جس کا اظہار فتح مکہ کے بعد کیا)
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ،امام صاحب ایک اور استاد سے ابن شہاب ہی کی سند سے یہ روایت بیان کرتے ہیں۔
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ : " إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ بَاقِي حَدِيثِ مَالِكٍ وَيُونُسَ .امام صاحب ایک اور استاد سے زہری ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے بارے میں سنا: ”میں روزے دار ہوں تو جو چاہے کہ روزہ رکھے وہ روزہ رکھ لے۔‘‘ مالک اور یونس کی حدیث کا بقیہ حصہ بیان نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
تفقه:
➊ اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ عاشوراء کا روزہ رکھنا سنت اور افضل ہے لیکن فرض و واجب نہیں ہے۔ [ديكهئے التمهيد 203/7]
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے بارے میں فرمایا: «أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ» مجھے اللہ سے یہ امید ہے کہ اس کے ذریعے سے گزشتہ سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ [صحيح مسلم:1162]
➌ عاشوراء میں یہودیوں کی مخالفت والی حدیث کے راوی سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:«صوموا التاسع والعاشر و خالفوا اليهود» نو اور دس کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو۔ [السنن الكبري للبيهقي 287/4 وسنده صحيح، مصنف عبدالرزاق:7839]
➍ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حدیث رسول سے اتنا پیار کرتے تھے کہ منبر پر بھی اشاعۃ الحدیث میں مصروف رہتے تھے۔ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام حدیث کو حجت سمجھتے تھے۔ رضی اللہ عنہم اجمعین
➎ علماء کو سنت کی ترویج کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہنا چاہئے۔
➏ اچھے حکمران علماء کو اشاعت علم کی ترغیب دلاتے اور اس میں معاونت کرتے ہیں۔
یہ ان کی خلافت کا پہلا حج تھا۔
اور اخیر حج ان کا 57ھ میں ہوا تھا۔
حافظ کے خیال کے مطابق یہ تقریر ان کے آخری حج میں تھی۔
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو عاشوراء کے دن منبر پر کہتے سنا: ” اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن میں کہتے ہوئے سنا کہ میں روزہ سے ہوں تو جو روزہ رکھنا چاہے وہ رکھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2373]