صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ: باب: عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1128
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ ، وَيَحُثُّنَا عَلَيْهِ ، وَيَتَعَاهَدُنَا عِنْدَهُ ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ ، لَمْ يَأْمُرْنَا ، وَلَمْ يَنْهَنَا ، وَلَمْ يَتَعَاهَدْنَا عِنْدَهُ " .حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عاشورہ کے دن کے روزہ کی تلقین فرماتے تھے اور اس کے لیے ہمیں آمادہ کرتے تھے اور اس کے بارے میں ہمارا دھیان رکھتے اور نگرانی فرماتے تھے جب رمضان فرض ٹھہرا۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا حکم دیا اور نہ روکا اور نہ اس دن ہماری نگرانی اور نگہداشت کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عاشورہ کے دن کے روزہ کی تلقین فرماتے تھے اور اس کے لیے ہمیں آمادہ کرتے تھے اور اس کے بارے میں ہمارا دھیان رکھتے اور نگرانی فرماتے تھے جب رمضان فرض ٹھہرا۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا حکم دیا اور نہ روکا اور نہ اس دن ہماری نگرانی اور نگہداشت کی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2652]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی فرضیت سے پہلے جس قدر ترغیب و تشویق اور تاکید و تلقین فرماتے رہے بعد میں اس قدر تاکید یا ترغیب نہیں دی۔
وگرنہ مطلقاً ترغیب و تحریض تو بعد میں بھی کی گئی ہےاس کا اجرو ثواب بیان کیا گیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی روزہ رکھتے تھے۔
وگرنہ مطلقاً ترغیب و تحریض تو بعد میں بھی کی گئی ہےاس کا اجرو ثواب بیان کیا گیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی روزہ رکھتے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1128 سے ماخوذ ہے۔