صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ: باب: عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَتَغَدَّى ، فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ إِلَى الْغَدَاءِ ، فَقَالَ : أَوَلَيْسَ الْيَوْمُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ؟ ، قَالَ : وَهَلْ تَدْرِي مَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ ؟ ، قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ ، قَالَ : " إِنَّمَا هُوَ يَوْمٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ شَهْرُ رَمَضَانَ ، فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ تُرِكَ " ، وقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : " تَرَكَهُ " ،اشعث بن قیس رحمۃ اللہ علیہ حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے جبکہ وہ صبح کا کھانا کھا رہے تھے تو انھوں نے کہا: اے ابو محمد آؤ صبح کا کھانا کھا لوتو اشعت نے کہا کیا آج عاشورہ کا دن نہیں ہے؟ انھوں نے کہا کیا جانتے ہو، عاشورہ کے دن کی حقیقت کیا ہے؟ اشعت نے پوچھا وہ کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا وہ تو ایسا دن ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے روزہ رکھا کرتے تھے۔ جب ماہ رمضان کا حکم نازل ہو گیا تو اسے چھوڑ دیا گیا۔
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَا : " فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تَرَكَهُ " .زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث اس طرح نقل کی گئی ہے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَكَنٍ ، أَنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ دَخَلَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ يَأْكُلُ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ فَكُلْ " ، قَالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، قَالَ : " كُنَّا نَصُومُهُ ثُمَّ تُرِكَ " .قیس بن سکن رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ اشعت بن قیس رحمۃ اللہ علیہ عاشورہ کے دن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے جبکہ وہ کھانا کھارہے تھے تو انھوں نے کہا اے ابو محمد قریب ہوں اور کھانا کھائیں اشعت نے کہا میں روزے دار ہوں عبداللہ نے کہا ہم بھی اس کا روزہ رکھا کرتے تھے پھر چھوڑدیا گیا۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَأْكُلُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ : " قَدْ كَانَ يُصَامُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تُرِكَ ، فَإِنْ كُنْتَ مُفْطِرًا فَاطْعَمْ " .محمد بن حاتم، اسحاق بن منصور، اسرائیل، منصور، ابراہیم، علقمہ، اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس عاشورہ کے دن اس حال میں آئے کہ وہ کھانا کھا رہے تھے تو انہوں نے فرمایا: ”اے ابوعبدالرحمن! آج تو عاشورہ ہے؟“ تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا جاتا تھا تو جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے یہ روزہ چھوڑ دیا گیا کہ اگر تیرا روزہ نہیں تو تو بھی کھا۔“