صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب التَّخْيِيرِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي السَّفَرِ: باب: سفر میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے اختیار کا بیان۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ ، حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ ، وَمَا فِينَا صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ " .داود بن رشید، ولید بن مسلم، سعید بن عبدالعزیز، اسماعیل، عبیداللہ، ام درداء، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں گرمی کے موسم میں ایک سفر میں نکلے یہاں تک کہ گرمی کی وجہ سے ہم میں سے کچھ لوگ اپنے ہاتھوں کو اپنے سر پر رکھ لیتے تھے اور ہم میں سے کوئی بھی روزہ دار نہیں تھا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، قَالَتْ : قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ ، وَمَا مِنَّا أَحَدٌ صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ " .عبداللہ بن مسلمہ، ہشام بن سعید، عثمان بن حیان، دمشقی، حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت گرمیوں کے دنوں میں بعض سفروں میں دیکھا کہ لوگ سخت گرمی کی وجہ سے اپنے ہاتھوں کو اپنے سروں پر رکھ لیتے ہیں اور ہم میں سے سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے کوئی بھی روزہ دار نہیں تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اس حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا اور ترک کرنا دونوں جائز ہیں کیونکہ صحیح مسلم کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ سفر ماہ رمضان میں ہوا تھا۔
حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ماہ رمضان کے موقع پر سخت گرمی میں سفر کے لیے نکلے تھے۔
(صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2630(1122) (2)
واضح رہے کہ مذکورہ سفر غزوۂ بدر اور فتح مکہ کے علاوہ تھا کیونکہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ جنگ موتہ میں شہید ہوئے اور فتح مکہ اس کے بعد ہوا۔
اور غزوۂ بدر اس لیے نہیں ہو سکتا کہ راوئ حدیث حضرت ابو درداء ؓ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے۔
(3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص دوران سفر میں روزہ رکھنے کی ہمت رکھتا ہو اور اسے کسی قسم کی مشقت نہ ہو تو اسے روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
(فتح الباري: 233/4) (4)
اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ اگر کوئی انسان رمضان کا روزہ رکھ کر سفر کا آغاز کرے، آگے جا کر اسے تکلیف محسوس ہو تو بلاتردد روزہ افطار کر سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں سخت گرمی کے دن دیکھا کہ آدمی اپنا ہاتھ گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنے سر پر رکھ لیتا، اور لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1663]
فائدہ: اس سے معلوم ہوا کہ اگر آدمی برداشت کرسکتا ہو تو سفر میں بھی روزہ رکھ سکتا ہے۔
اگرچہ اس میں مشقت ہی ہو۔