صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب أَجْرِ الْمُفْطِرِ فِي السَّفَرِ إِذَا تَوَلَّى الْعَمَلَ: باب: سفر میں روزہ چھوڑنے والے کے اجر کا بیان جبکہ وہ خدمت والے کام میں لگا رہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ ، قَالَ : فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ أَكْثَرُنَا ظِلًّا صَاحِبُ الْكِسَاءِ ، وَمِنَّا مَنْ يَتَّقِي الشَّمْسَ بِيَدِهِ ، قَالَ : فَسَقَطَ الصُّوَّامُ وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ ، فَضَرَبُوا الْأَبْنِيَةِ وَسَقَوْا الرِّكَابَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ " .حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفرمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو ہم میں سے بعض روزے سے تھے اور بعض روزے سے نہیں تھے تو ایک سخت گرمی کے دن ہم ایک منزل پر اترے اور ہم میں سے سب سے زیادہ سایہ حاصل کرنے والا شخص وہ تھا جس کے پاس کمبل تھا اور ہم میں سے بعض وہ تھے جو سورج سے اپنے ہاتھ سے بچ رہے تھے، روزے رکھنے والے تو گرپڑے اور روزہ نہ رکھنے والے اٹھے۔ انھوں نے سب کے لیے خیمے لگائے اور سب کی سواریوں کو پانی پلایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تو اجر روزہ نہ رکھنے والے لے گئے۔‘‘
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَصَامَ بَعْضٌ وَأَفْطَرَ بَعْضٌ ، فَتَحَزَّمَ الْمُفْطِرُونَ وَعَمِلُوا ، وَضَعُفَ الصُّوَّامُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ ، قَالَ : فَقَالَ فِي ذَلِكَ : " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ " .حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفرمیں تھے تو بعض نے روزہ رکھا اور بعض نےنہ رکھا تو بے روزہ خدمت کمر بستہ ہو گئےیا انھوں نے کمر بند باندھ لیے اور کام کرنے لگے اور روزے دار کام نہ کر سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تو اجر بےروز لے گئے۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
روزہ ایک انفرادی نیکی ہے مگر مجاہدین کی خدمت پوری ملت کی خدمت ہے‘ اس لئے اس کو بہرحال فوقیت حاصل ہے حدیث کا مفہوم یہ بھی ہے کہ روزہ اگرچہ خیر محض ہے اور مخصوص و مقبول عبادت ہے پھر بھی سفر وغیرہ میں ایسے مواقع پر جبکہ اس کی وجہ سے دوسرے اہم کام رک جانے کا خطرہ ہو تو روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔
جو واقعہ حدیث میں ہے اس میں بھی یہی صورت پیش آئی تھی کہ جو لوگ روزے سے تھے وہ کوئی کام تھکن وغیرہ کی وجہ سے نہ کرسکے لیکن بے روزہ داروں نے پوری توجہ سے تمام خدمات انجام دیں‘ اس لئے ان کا ثواب روزہ رکھنے والوں سے بھی بڑھ گیا۔
1۔
امام بخاری ؒنے اس عنوان کے تحت تین احادیث ذکر کی ہیں: پہلی حدیث میں بڑے کا چھوٹے کی خدمت کرنا، دوسری حدیث میں چھوٹے کا بڑے کی اورتیسری حدیث میں ہم عمر کی خدمت کرنامذکور ہے۔
2۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جہاد کے موقع پر مجاہدین کی خدمت کرناروزے سے زیادہ اجروثواب کا باعث ہے کیونکہ افطار کرنے والوں کو اپنے عمل کا ثواب ملا اور روزے داروں کے ثواب کا مثل بھی ان کو ثواب ملا۔
چونکہ انھوں نے روزے داروں کی خدمت کی تھی اور ان کی سواریوں کو پانی پلایا اور چارہ ڈالا تھا، اس لیے وہ روزے داروں سے زیادہ ثواب کے حق دار ٹھہرے۔
3۔
ان احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنے ہم عمر کی خدمت کرنا جائز ہے بلکہ اپنے سے چھوٹے کی بھی۔
بڑے کی خدمت کرنا تو اخلاق فاضلہ کی علامت ہے۔
(الف)
تحزم المفطرون: روزہ نہ رکھنے والوں نے کمر بند کس لیے۔
(ب)
وہ خدمت کے لیے کمربستہ اور چوکس ہو گئے۔
(ج)
انہوں نے حزم و احتیاط کو اختیار کیا۔
فوائد ومسائل: روزہ دار اپنی کمزوری اور ضعف کی وجہ سے اپنا کام بھی نہ کرسکے اور روزہ نہ رکھنے والوں نے اپنا کام بھی کیا اور روزہ داروں کا کام بھی کیا اس طرح انھوں نے روزہ داروں کی خدمت کر کے ثواب زیادہ کما لیا۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے تھے اور کچھ لوگ بغیر روزے کے تھے، ہم نے ایک گرم دن میں پڑاؤ کیا، اور ہم (چھولداریاں اور خیمے لگا لگا کر) سایہ کرنے لگے، تو روزہ دار (سخت گرمی کی تاب نہ لا کر) گر گر پڑے، اور روزہ نہ رہنے والے اٹھے، اور انہوں نے سواریوں کو پانی پلایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آج غیر روزہ دار ثواب مار لے گئے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2285]
(2) ”ثواب لے گئے۔“ یعنی خدمت کا ثواب۔ ویسے یہ جملہ ترجیح کے موقع پر بولا جاتا ہے، گویا اس دن روزہ نہ رکھنے والے روزہ رکھنے والوں سے بڑھ گئے۔ واللہ أعلم
(3) جہاد میں ایک دوسرے کا تعاون کرنا بہت اجر والا کام ہے۔