صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب جَوَازِ الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِلْمُسَافِرِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ إِذَا كَانَ سَفَرُهُ مَرْحَلَتَيْنِ فَأَكْثَرَ وَأَنَّ الأَفْضَلَ لِمَنْ أَطَاقَهُ بِلاَ ضَرَرٍ أَنْ يَصُومَ وَلِمَنْ يَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ: باب: رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کا بیان، اور بہتر یہ ہے کہ جو باب: روزہ کی طاقت رکھتا ہے وہ روزہ رکھے، اور جس کے لیے مشقت ہو تو وہ نہ رکھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ صَوْمِ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ : " سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي رَمَضَانَ فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ " .یحییٰ بن یحییٰ، ابوخثیمہ، حضرت حمید سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سفر میں رمضان کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا ہے تو کوئی روزہ رکھنے والا روزہ چھوڑنے والے کی ملامت نہیں کرتا تھا اور نہ ہی روزہ چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے کی ملامت کرتا تھا۔
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ فَصُمْتُ ، فَقَالُوا لِي : أَعِدْ ، قَالَ : فَقُلْتُ : إِنَّ أَنَسًا أَخْبَرَنِي : " أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يُسَافِرُونَ ، فَلَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ " ، فَلَقِيتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ فَأَخْبَرَنِي ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، بِمِثْلِهِ .حمید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سفر میں روزہ رکھا تو ساتھیوں نے مجھے کہا: دوبارہ روزہ رکھو تو میں نے انہیں بتایا کہ مجھے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سفر کرتے تھے تو رزوے دار روزہ نہ رکھنے والے پر تنقید نہ کرتا اور نہ ہی بے روزہ رکھنے والے پر پھر میں ابن ابی ملیکہ سے ملا اس نے مجھے یہی خبر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنائی۔
تشریح، فوائد و مسائل
وہ شرعی رخصت پر عمل کر رہا ہے کسی کو یہ حق نہیں وہ اسے شرعی رخصت سے روک سکے اور ہر شرعی رخصت کے لیے یہ بطور اصول کے ہے۔
(1)
اس حدیث سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جن کا موقف ہے کہ دوران سفر میں روزہ رکھنا بے سود اور لاحاصل ہے، اس کا کوئی ثواب نہیں۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سفر میں اگر کوئی روزہ نہ رکھے تو روزہ رکھنے والوں کو اجازت نہیں کہ وہ اس پر زبان طعن دراز کریں کیونکہ روزہ نہ رکھنے والا شرعی رخصت پر عمل پیرا ہے۔
کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کو شرعی رخصت پر عمل کرنے سے منع کرے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ (البقرة185: 2)
’’جو شخص بیمار ہو یا دوران سفر میں ہو تو وہ روزہ چھوڑ دے اور بعد میں دوسرے دنوں سے اس گنتی کو پورا کر لے۔
‘‘ امام بخاری ؒ کا موقف یہ ہے کہ اگر دوران سفر میں روزہ رکھنے سے انسان کو انتہائی تکلیف سے دوچار ہونا پڑے تو یہ اس کے لیے قابل ملامت عیب ہے اور جو اس حالت کو نہ پہنچے تو اس کے لیے روزہ رکھنا یا چھوڑ دینا باعث عیب نہیں۔
صحیح مسلم میں اس کی مزید وضاحت ہے، حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جنگ پر جاتے، اس دوران میں کوئی بھی روزے دار، دوسروں کو ملامت نہ کرتا اور نہ روزہ ترک کرنے والا ہی دوسروں پر عیب لگاتا۔
جسے روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ روزہ رکھ کر اچھا کام کرتا اور جو اپنے اندر کمزوری محسوس کرتا وہ اسے چھوڑ کر اچھا کام کرتا۔
(صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2618(1116) (3)
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں: یہ حدیث اس سلسلے میں اختلاف کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔
(فتح الباري: 237/4)
«. . . عن انس بن مالك قال: سافرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى رمضان فلم يعب الصائم على المفطر، ولا المفطر على الصائم . . .»
”. . . سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو ہم میں سے روزہ رکھنے والا روزہ نہ رکھنے والے کو برا نہیں سمجھتا تھا اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 249]
[وأخرجه البخاري 1947، من حديث مالك به ورواه مسلم 99/118، من حديث حميد الطّويل به وصرّح بالسماع عنده]
تفقه:
➊ سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا دونوں طرح جائز ہے۔
● اگر رمضان کے روزے افطار کئے تو بعد میں اُن کی قضا میں روزے رکھنا ہوں گے۔
● اگر سفر میں گرمی زیادہ ہو اور سخت مشقت ہو تو افطار کرنا افضل ہے۔
➋ نیز دیکھئے: [ح 465]
➌ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سفر میں روزہ نہیں رکھتے تھے۔ [موطأ امام مالك 1/295 ح663 وسنده صحيح]، جبکہ عروہ بن الزبیر رحمہ اللہ سفر میں روزہ رکھتے تھے۔ [ايضاً ح664 وسنده صحيح]
➍ اگر دو کاموں کا ثبوت شریعت میں ہو تو ایک دوسرے پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔
➎ کتاب و سنت کے خلاف بات پر رد کرنا بالکل صحیح ہے۔