صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب تَغْلِيظِ تَحْرِيمِ الْجِمَاعِ فِي نَهَارِ رَمَضَانَ عَلَى الصَّائِمِ وَوُجُوبِ الْكَفَّارَةِ الْكُبْرَى فِيهِ وَبَيَانِهَا وَأَنَّهَا تَجِبُ عَلَى الْمُوسِرِ وَالْمُعْسِرِ وَتَثْبُتُ فِي ذِمَّةِ الْمُعْسِرِ حَتَّى يَسْتَطِيعَ: باب: رمضان کے دنوں میں روزہ دار پر ہم بستری کی سخت حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کا بیان، اور یہ کفارہ مالدار اور تنگ دست دونوں پر واجب ہے، اور تنگ دست کے ذمے اس وقت واجب ہو گا جب وہ اس کی طاقت رکھتا ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : احْتَرَقْتُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِمَ ؟ " ، قَالَ : وَطِئْتُ امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ نَهَارًا ، قَالَ : " تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ " ، قَالَ مَا عِنْدِي شَيْءٌ ، " فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْلِسَ " ، فَجَاءَهُ عَرَقَانِ فِيهِمَا طَعَامٌ ، " فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ " ،محمد بن رمح، ابن مہاجر، لیث، یحییٰ بن سعید، عبدالرحمن بن قاسم، محمد بن جعفر، ابن زبیر، عباد بن عبداللہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا: میں تو جل گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں؟“ اس نے عرض کی کہ میں نے رمضان کے دنوں میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کر، صدقہ کر۔“ اس آدمی نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم فرمایا کہ وہ بیٹھ جائے تو آپ کی خدمت میں دو ٹوکرے آئے جس میں کھانا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو حکم فرمایا: ”اس کو صدقہ کرو۔“
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْر حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : " أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَلَيْسَ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ : " تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ " ، وَلَا قَوْلُهُ : " نَهَارًا " .محمد بن مثنیٰ، عبدالوہاب ثقفی، یحییٰ بن سعید، عبدالرحمن بن قاسم، محمد بن جعفر بن زبیر، عبداللہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور پھر حدیث ذکر فرمائی اور اس میں صدقہ کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی دن کا ذکر ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ احْتَرَقْتُ احْتَرَقْتُ ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا شَأْنُهُ ؟ ، فَقَالَ : أَصَبْتُ أَهْلِي ، قَالَ : تَصَدَّقْ ، فَقَالَ وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَالِي شَيْءٌ وَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ ، قَالَ : اجْلِسْ ، فَجَلَسَ فَبَيْنَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ ، أَقْبَلَ رَجُلٌ يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا ؟ ، فَقَامَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَصَدَّقْ بِهَذَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَيْرَنَا ، فَوَاللَّهِ إِنَّا لَجِيَاعٌ مَا لَنَا شَيْءٌ ، قَالَ : فَكُلُوهُ " .نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی رمضان میں مسجد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں جل گیا، میں جل گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تیرا کیا معاملہ ہے۔‘‘ تو اس نے کہا: میں نے بیوی سے تعلق قائم کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کر،‘‘ تو اس نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ کی قسم! میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے اور نہ مجھ میں اس کی قدرت ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جا۔‘‘ تو وہ بیٹھ گیا، اسی اثنا میں ایک آدمی گدھا ہانگتا ہوا آیا، جس پر کھانا لدا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جلنے والا کہاں ہے جو ابھی آیا تھا۔‘‘ اس پر وہ آدمی کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ”اس کو صدقہ کر دو،‘‘ تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا کسی اور پر؟ اللہ کی قسم! ہم بھوکے ہیں ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھا لو۔‘‘