صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ أَنَّ الْقُبْلَةَ فِي الصَّوْمِ لَيْسَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ لَمْ تُحَرِّكْ شَهْوَتَهُ: باب: روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں بشرطیکہ شہوت نہ ہو۔
حدیث نمبر: 1107
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ " ،یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، یحییٰ، ابومعاویہ، اعمش، مسلم، شتیر بن شکل، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ سے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یہی روایت بیان کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1685 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´روزہ دار بیوی کا بوسہ لے لے تو اس کے حکم کا بیان۔`
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1685]
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1685]
اردو حاشہ:
فائدہ: روزے کی حالت میں جماع کرنا حرام ہے۔
اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
اور کفارہ دینا لازم ہوجاتا ہے۔
لیکن اس سے کم تر معاملات سے روزہ نہیں ٹوٹتا تاہم جس شخص کو خطرہ محسوس ہو کہ پیار کرنے سے اس کے جذبات بے قابو ہوجایئں گے۔
اور وہ جماع کربیٹھے گا تو اس کو بوس وکنار سے بھی پرہیز کرنا چاہیے جیسے اگلے باب کی احادیث میں صراحت ہے۔
فائدہ: روزے کی حالت میں جماع کرنا حرام ہے۔
اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
اور کفارہ دینا لازم ہوجاتا ہے۔
لیکن اس سے کم تر معاملات سے روزہ نہیں ٹوٹتا تاہم جس شخص کو خطرہ محسوس ہو کہ پیار کرنے سے اس کے جذبات بے قابو ہوجایئں گے۔
اور وہ جماع کربیٹھے گا تو اس کو بوس وکنار سے بھی پرہیز کرنا چاہیے جیسے اگلے باب کی احادیث میں صراحت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1685 سے ماخوذ ہے۔