صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب النَّهْيِ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ: باب: صوم و صال کی ممانعت۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : فَإِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوَاصِلُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ ، يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي " ، فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ، ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ ، فَقَالَ : " لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلَالُ لَزِدْتُكُمْ " ، كَالْمُنَكِّلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا افطار مسلسل روزے رکھنے سے منع فرمایا: تو ایک مسلمان آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ بھی تو وصال کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون میری مثل ہے؟ میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے تو جب لوگوں نے وصال پر اصرار کیا (لوگ وصال سے نہ رکے) تو آپﷺ نے ان کے ساتھ ایک دن پھر دوسرے دن بلا افطار و سحری روزہ رکھا، پھر انھوں نے چاند دیکھ لیا۔ تو آپﷺ نے فرمایا: اگر چاند لیٹ ہوتا تو میں تمھارے ساتھ اور وصال کرتا۔ گویا جب وہ وصال سے باز نہ آئے۔ تو آپﷺ نے انہیں بطور عبرت و سزا یہ فرمایا۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ " ، قَالُوا : فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّكُمْ لَسْتُمْ فِي ذَلِكَ مِثْلِي ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي ، فَاكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ " ،زہیر بن حرب، اسحاق، زہیر، جریر، عمارہ، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وصال کے روزے رکھنے سے بچو۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس معاملے میں میری طرح نہیں ہو کیونکہ میں اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ تو تم وہ کام کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔“
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " فَاكْلَفُوا مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ " ،قتیبہ، مغیرہ، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس کام کی تم طاقت رکھو وہ کام کرو۔“
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْوِصَالِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ .امام صاحب ایک اور استاد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے روکا جیسا کہ عمارہ ابو زرعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
صوم وِصَال یہ ہے کہ سحری کھائے پئے بغیر روزہ رکھنا اور انھیں مسلسل جاری رکھنا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ قوت میسر فرماتا تھا جو عام لوگوں کو کھانے پینے سے ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام لوگوں کو وصال کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےخود رکھے ہیں۔
2۔
ان احادیث میں لفظ لواستعمال ہوا ہے، اس سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے جواز پر استدلال کیا ہے کیونکہ اس کا استعمال کسی فائدے کے لیے ہے۔
اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر اعتراض یا اس سے راہ فرار اختیار کرنے کے لیے نہیں ہے۔
واللہ أعلم۔
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُوَاصِلُوا، قَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ:" إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي، فَلَمْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ، قَالَ: فَوَاصَلَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَيْنِ أَوْ لَيْلَتَيْنِ، ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلَالُ لَزِدْتُكُمْ كَالْمُنَكِّلِ لَهُمْ . . .»
”. . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم صوم وصال (افطار و سحر کے بغیر کئی دن کے روزے) نہ رکھا کرو۔ صحابہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو صوم وصال رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم جیسا نہیں ہوں۔ میں رات گزارتا ہوں اور میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے لیکن لوگ صوم وصال سے نہیں رکے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن یا دو راتوں میں صوم وصال کیا، پھر لوگوں نے چاند دیکھ لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاند نہ نظر آتا تو میں اور وصال کرتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد انہیں سرزنش کرنا تھا“ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ: 7299]
باب اور حدیث میں مناسبت:
امام بخاری رحمہ اللہ نے باب قائم فرمایا ہے اس کا حدیث سے مطابقت ہونا مشکل ہے کیونکہ ترجمۃ الباب کسی امر پر سختی اور تشدد کے بیان کو واضح کرتا ہے جبکہ تحت الباب جو حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں ایسے کوئی الفاظ نہیں ہیں جس سے باب سے مناسبت ظاہر ہو سکے۔
چنانچہ علامہ عبدالحق الہاشمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «حديث أبى هريرة و ليس الحديث مطابقاً للترجمة فى الظاهر لكن البخاري جرى على عادته فى إيراد ما لا يناسب الترجمة فى الظاهر، تشحيذ الأذهان، فأشار إلى الرواية الأخرى التى أوردها فى التمني و فيها قوله: لو مد بي الشهر، لو اصلت وصالاً يدع المعمقون تعمقهم فحصلت المطابقة.» [لب اللباب فی تراجم والابواب: 231/5]
”سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث کا باب سے مطابقت نہیں ہے ظاہراً لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی عادت کے مطابق اس روایت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جسے کتاب التمنی میں ذکر فرمایا ہے کہ ”اگر اس مہینے کے دن اور بڑھ جاتے تو میں اتنے دن متواتر وصال کرتا کہ ہوس کرنے والے اپنی ہوس بھول جاتے۔“ [كتاب التمنيٰ: رقم الحديث 7241] تاکہ اس اشارے کے ذریعے تشحیذ الاذہان پیدا ہو جائے، پس یہیں سے مطابقت حاصل ہوتی ہے (ترجمۃ الباب اور حدیث کی)۔“
علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «قيل لا مطابقة بين الحديث والترجمة هنا أصلاً، ورد بأن عادته جرت بإيراد ما لا يطابق الترجمة ظاهرًا لكن يناسبها طريق من طريق الحديث الذى يورده، و هنا كذالك.» [عمدة القاري للعيني: 59/25]
”کہا گیا ہے کہ ترجمۃ الباب اور حدیث میں یہاں اصلاً مناسبت موجود نہیں ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے دوسری طرق میں ان الفاظ کو وارد کیا ہے جہاں سے بات کی مناسبت قائم ہوتی ہے۔“
علام قسطلانی رحمہ اللہ ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت مشکل ہے، دراصل امام بخاری رحمہ اللہ کی عادت یہ ہے کہ مطابقت ظاہراً نہ ہو بلکہ تشحیذ للاذھان کے لیے دوسرے طرق میں مناسبت ہوتی ہے (جس کی طرف آپ اشارہ کر دیتے ہیں) یہ دوسرا طرق کتاب التمنی میں گزر چکا ہے۔“ [ارشاد الساري: 59/12]
ان تفصیلات کا حاصل یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی عادت کے مطابق دوسرے طرق کی طرف اشارہ فرمایا ہے جہاں سے باب اور حدیث میں مناسبت ظاہر ہے۔
اس میں صاف یوں مذکور ہے کہ میں اتنے طے کرتا کہ یہ سختی کرنے والے اپنی سختی چھوڑ دیتے۔
اس حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ ہر عبادت اور ریاضت اسی طرح دین کے سب کاموں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور آپ کی پیروی کرنا ضروری ہے۔
اس میں زیادہ ثواب ہے باقی کسی بات میں غلو کرنا یا حد سے بڑھ جانا مثلاً ساری رات جاگتے رہنا یا ہمیشہ روزہ رکھنا یہ کچھ افضل نہیں ہے۔
کیا تم نے وہ شعر نہیں سنا بہ زہد وورع کوش وصدق وصفا ولیکن بیفزائے برمصطفی اسی طرح یہ جو بعضے مسلمانوں نے عادت کر لی ہے کہ ذرا سے مکروہ کام کو دیکھا تو اس کو حرام کہہ دیا یا سنت یا مستحب پر فرض واجب کی طرح سختی کی یا حرام یا مکروہ کام کو شرک قرار دے دیا اور مسلمانوں کو مشرک بنا دیا‘ یہ طریقہ اچھا نہیں ہے اور غلو میں داخل ہے۔
ولا تقولو اھذا حلال وھذا حرام لتفترواعلی اللہ الکذب۔
1۔
اللہ تعالیٰ کے کھلانے پلانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں طاقت پیدا کرتا ہے یا جنت کا کھانا کھلانا اور اس کا مشروب پلاتا ہے۔
جنت کے کھانے اور مشروب سے روزہ افطار نہیں ہوتا اور نہ وصال ہی کے منافی ہے۔
اگرچہ یہ روایت عنوان کے مطابق نہیں لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حسب عادت عنوان میں ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں جن سے اس روایت کی طرف اشارہ ہوتا ہے جو عنوان کے عین مطابق ہے چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر اس مہینے کے دن مزید بڑھ جاتے تو میں اتنے دنوں تک پے درپے روزے رکھتا کہ اپنے آپ پر خود ساختہ سختی کرنے والے اس سختی سے باز آجاتے۔
‘‘ (صحیح البخاري، التیمني، حدیث: 7241)
2۔
معلوم ہوا کہ ہر ریاضت و عبادت اور دین کے سب کاموں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےارشادات اور معمولات کی پیروی کرنا ضروری ہے۔
ایسا کرنے میں زیادہ ثواب ہے اس کے برعکس کسی بات میں غلو کرنا یا حد سے گزر جانا اور بےجا سختی سے کام لینا۔
مثلاً ساری رات بیدار رہنا یا ہمیشہ روزے رکھنا شریعت میں پسندیدہ عمل نہیں ہے۔
واللہ أعلم۔
یہ کھلا پلا دینا روزہ نہیں توڑتا کیوں کہ یہ بہشت کا طعام و شراب ہے، اس کا حکم دینا کے طعام اور شراب کا نہیں جیسے ایک حدیث میں ہے سونے کا طشت لایا گیا اور میرا سینہ دھویا گیا۔
حالانکہ دنیا میں سونا چاندی کے برتنوں کا استعمال منع ہے قطع نظر اس کے صحیح روایت یہی ہے کہ میں رات کو اپنے مالک کے پاس رہتا ہوں وہ مجھ کو کھلا پلا دیتا ہے۔
(وحیدی)
حافظ فرماتے ہیں أي علی صفتکم في أن من أکل منکم أو شرب انقطع وصاله بل إنما یطعمني ربي و یسقیني و لا تنقطع بذلك مواصلتي فطعامي و شرابي علی غیر طعامکم و شرابکم صورة و معنی۔
یعنی تم میں سے کوئی روزے میں کھاپی لے تو اس کا وصال روزہ ٹوٹ گیا اور میرا حال یہ ہے کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور اس سے میرا وصال نہیں ٹوٹتا۔
میرا طعام و شراب ظاہر و باطن کے لحاظ سے تمہارے طعام وشراب سے بالکل مختلف ہے۔
(1)
اللہ تعالیٰ کے کھلانے اور پلانے سے مراد یہ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اندر اس قدر قوت پیدا کر دیتا ہے کہ کھانے پینے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔
(2)
رسول اللہ ﷺ نے جب اپنے صحابۂ ؓ کو وصال کے روزے سے منع فرمایا تو انہوں نے اسے ممانعت تنزیہی پر محمول کیا، ان کا مقصد آپ کی مخالفت نہیں تھا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں وصال کے روزے رکھتا جاتا ہوں حتی کہ تم اس سے عاجز آ جاؤ گے اور مجبور ہو کر تم تخفیف کا مطالبہ کرو گے جیسا کہ آپ نے طائف کے قلعے کا محاصرہ ختم کر دینے کا حکم دیا لیکن صحابۂ کرام ؓ نے اسے اپنی بزدلی پر محمول کیا، بالآخر انہیں سخت زخم آئے تو مجبور ہو کر انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے محاصرہ ختم کرنے کی درخواست کی۔
(فتح الباري: 263/4)
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’وصال کے روزے سے اجتناب کرو، وصال کے روزے سے احتراز کرو۔
‘‘ (مسندأحمد: 315/2)
بلکہ ایک روایت کے مطابق آپ نے تین مرتبہ اس بات کو دہرایا۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 82/3)
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری ؒ کی روایت میں اختصار ہے۔
(فتح الباري: 263/4)
«. . . 344- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”إياكم والوصال“، قالوا: فإنك تواصل يا رسول الله، قال: ”إني لست كهيئتكم، إني أبيت يطعمني ربي ويسقيني.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وصال کے روزے نہ رکھو۔“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ تو خود وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم جیسا نہیں ہوں، مجھے رات کو میرا رب کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 260]
[وأخرجه أحمد 237/2، والدارمي 1710، من حديث مالك به ورواه مسلم فواد 1103/58، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ امتیوں پر شفقت کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وصال کے روزے رکھنے سے منع کر دیا ہے۔
➋ وصال کے روزوں کا کیا مطلب ہے؟ اس کے لئے اور مزید فقہی فوائد کے لئے دیکھئے: [الموطأ حديث: 209، البخاري 1962، ومسلم 1102]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے منع فرمایا مسلمانوں میں سے ایک صاحب نے سوال کیا کہ اللہ کے رسول! آپ خود تو وصال فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے میرے جیسا کون ہے؟ میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ “ جب لوگوں نے وصال سے باز آنے سے انکار کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک دن پھر دوسرے دن کا وصال کیا۔ پھر انہوں نے چاند کو دیکھ لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اگر چاند آج نظر نہ آتا تو میں تمہارے لئے زیادہ دن وصال کرتا۔ “ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اس سے باز نہ رہنے کی وجہ سے سزا دے رہے تھے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 537]
أَلوِصَال اس کا مطلب ہے کہ آدمی قصدًا دو دن یا زیادہ دن تک افطار نہ کرے اور مسلسل روزہ رکھے۔ رات کو بھی کچھ نہ کھاے پئیے۔ سحری کے وقت اگر اتفاقًا ایسے ہو جائے، یعنی کسی عذر کی بنا پر آدمی کچھ کھاپی نہ سکے تو وہ وصال شمار نہیں ہو گا۔
وَأَیُّکُم مِثلِی یہ استفہام انکاری ہے، یعنی تم میں سے کوئی میری طرح کا نہیں ہے۔ آپ کا یہ قول اس کا متقاضی ہے کہ وصال آپ کی خصوصیت تھی اور آپ کی علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔
یُطعِمُنِی رَبِّی وَ یَسقِینِی میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ پچھلے کلام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی نفی کی تھی کہ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح کا ہو۔ اس کی وضاحت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”مجھے میرا رب کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔ ”گویا یہ پچھلے کلام کا بیان ہے۔
حافظ ابنِ قیّم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے معارف کی غذا کھلاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر لذت سرگوشی و مناجات کا فیضان ہوتا ہے۔ اللہ رب العزّت کے قرب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آنکھوں کی ٹھندک ملتی ہے۔ محبتِ الٰہی کی نعمت سے آپ کو سرشاری نصیب ہوتی ہے اور اس کی جناب کی طرف شوق میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ ہے وہ غذا جو آپ کواللہ کی جانب سے عطا ہوتی ہے۔ یہ روحانی غذا ایسی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیوی غذا سے ایک لمبی مدت تک بے نیاز کر دیتی ہے۔ [تلخيص از زادالمعاد: 155، 154]
کَالمُنَکَّلِ لَھُم أَلمُنَکَّل تَنکِیل سے ماخوذ اسمِ فاعل ہے، یعنی زجر و توبیخ، ڈانٹ ڈپٹ۔ مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وصال کرایا اور ان کے ساتھ مل کر خود بھی مسلسل روزے رکھنے لگے۔ یہ جواز کے لیے نہیں تھا بلکہ زجر و توبیخ اور ڈانٹ ڈپٹ کے لیے تھا اور اس سے ممانعت کے عمل کو تاکید کے ساتھ بیان کرنا مقصود تھا، چنانچہ جب انہوں نے براہ راست صومِ وصال رکھا تو ان کے سامنے اس کی ممانعت کی حکمت ظاہر ہوئی۔ یہ چیز اسے (ممانعت وصال کو) قبول کرنے کی زیادہ داعی تھی۔
فوائد و مسائل 537:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ روزے میں وصال مکروہ ہے۔
➋ اللہ تعالیٰ انسان کو مشقت میں مبتلا نہیں کرتا۔ مسلسل کچھ کھائے پیے بغیر روزہ رکھنا انسانی اعضاء و قوتوں کو کمزور کر دینے کا بھی موجب ہے۔
➌ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواللہ تعالیٰ کی طرف سے روحانی غذا کی قوت مل جاتی تھی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وصال فرمالیتے۔ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے نیکی کے جذبے سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو دیکھ کر وصال کرنا شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرمایا مگر جب وہ باز نہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبق سکھانے کے لیے مسلسل روزے رکھنا شروع کیے تو اتنے میں چاند نظر آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زجروتوبیخ کے طور پر فرمایا: کرو وصال۔ کہاں تک کرو گے۔ اگر چاند نظر نہ آتا تو میں صومِ وصال کو مزید طول دے دیتا تاکہ تمہیں سبق ملتا۔
➍ بخاری میں حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وصال نہ کرو۔ ہاں اگر تم میں سے کوئی وصال کرنا ہی چاہے تو سحر تک وصال کرے۔“ [صحيح البخاري، الصوم، باب الوصال ألي السحر، حديث: 1967]
جس سے امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ کے مؤقف کی تائید ہوتی ہے کہ صبح تک وصال جائز ہے۔
➎ سحری کا کھانا شعائرِ اسلام میں سے ہے، اس لیے سحری کو کھانا چاہیے اور رات دن کا وصال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے۔