صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب غِلَظِ تَحْرِيمِ قَتْلِ الإِنْسَانِ نَفْسَهُ وَإِنَّ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي النَّارِ وَأَنَّهُ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ: باب: خودکشی کرنے کی سخت حرمت کا بیان، اور جو شخص خودکشی کرے گا اس کو آگ کا عذاب دیا جائے گا، اور جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الإِسْلَامِ كَاذِبًا ، فَهُوَ كَمَا قَالَ ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ ، عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِي شَيْءٍ لَا يَمْلِكُهُ " .معاویہ بن سلام دمشقی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی کہ ابوقلابہ نے انہیں خبر دی کہ حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے (حدیبیہ کے مقام پر) درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب پر ہونے کی پختہ قسم کھائی اور (جس بات پر اس نے قسم کھائی اس میں) وہ جھوٹا تھا تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا (اس کا عمل ویسا ہی ہے۔) اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کیا قیامت کے دن اس کو اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا۔ اور کسی شخص پر اس چیز کی نذر پوری کرنا لازم نہیں جس کا وہ مالک نہیں۔“
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ، وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا ، عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنِ ادَّعَى دَعْوَى كَاذِبَةً لِيَتَكَثَّرَ بِهَا ، لَمْ يَزِدْهُ اللَّهُ إِلَّا قِلَّةً ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ ، فَاجِرَةٍ " .ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے سابقہ سند کے ساتھ حدیث سنائی کہ حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جس چیز کا انسان مالک نہیں ہے، اس کے بارے میں (مانی ہوئی) نذر اس کے ذمے نہیں ہے۔ مومن پر لعنت بھیجنا (گناہ کے اعتبار سے) اس کے قتل کے مترادف ہے اور جس نے کسی چیز سے اپنے آپ کو قتل کیا، قیامت کے دن اسی چیز سے اس کو عذاب دیا جائے گا، اور جس نے (مال میں) اضافے کے لیے جھوٹا دعویٰ کیا، اللہ تعالیٰ اس (کے مال) کی قلت ہی میں اضافہ کرے گا اور جس نے ایسی قسم جو فیصلے کے لیے ناگزیر ہو، جھوٹی کھائی (اس کا بھی یہی حال ہو گا۔)“
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ كلهم ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ الأَنْصَارِيِّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الإِسْلَامِ كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا ، فَهْوَ كَمَا قَالَ ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ ، عَذَّبَهُ اللَّهُ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ " ، هَذَا حَدِيثُ سُفْيَانَ ، وَأَمَّا شُعْبَةُ فَحَدِيثُهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الإِسْلَامِ كَاذِبًا ، فَهْوَ كَمَا قَالَ ، وَمَنْ ذَبَحَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ ، ذُبِحَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .شعبہ نے ایوب سے، انہوں نے ابوقلابہ سے اور انہوں نے حضرت ثابت بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز سفیان ثوری نے بھی خالد حذاء سے، انہوں نے ابوقلابہ سے اور انہوں نے حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جان بوجھ کر اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ اپنے قول کے مطابق (اسی مذہب سے) ہو گا اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کیا، اللہ اس کو جہنم کی آگ میں اسی چیز سے عذاب دے گا۔“ یہ سفیان کی بیان کردہ حدیث ہے۔ اور شعبہ کی روایت یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائی (اس روایت میں ”جان بوجھ کر“ کے الفاظ نہیں) تو وہ اسی طرح ہے جس طرح اس نے کہا ہے اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے ذبح کر ڈالا، اسے قیامت کے دن اسی چیز سے ذبح کیا جائے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اسلام کے سوا کسی مذہب کی قسم اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں نے فلاں کام کیا ہو تو میں یہودی یا نصرانی ہوں حالانکہ وہ کام کر چکا ہے جس کا معنی ہے، اس نے اسلام کو اپنے مفاد کی خاطر تج دیا اور اسلام کو دنیوی فائدہ پر قربان کر دیا، اسی طرح دنیا کو آخرت پر ترجیح دی ہے۔
اگر اس نے یہ کام شعوری طور پر کیا ہے تو ہو واقعی غیر اسلام پر ہوگا، اور اگر اس نے اپنے جھوٹ کو یا غلط کام کو چھپانے کےلیے زور وتاکید پیدا کرنے کی خاطر یہ حرکت کی ہے۔
گویہ کام اتنا سنگین ہے، کہ دین سے نکل گیا ہو، کیونکہ اس نے جھوٹی قسم کو ہلکا خیال کیا ہے اور اللہ کی توقیر وتعظیم کے منافی حرکت کی ہے جو کفر کا باعث بن سکتی ہے۔
(2)
نذر اس چیز کے بارے میں ماننی چاہیے، جو انسان کے بس میں ہے یا اس کی ملکیت میں ہے، وگرنہ یہ نذر لغو اور بے کار ہوگی۔
أعاذنااللہ منه۔
(1)
اسلام کے سوا کسی مذہب و ملت کی قسم یہ ہے کہ وہ یوں کہے: اگر میں نے ایسا کیا تو میں یہودی یا عیسائی ہوا۔
اگر وہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو بھی یہودی یا عیسائی ہو جائے گا کیونکہ ایسا کرنا یہودیت یا نصرانیت کی تعظیم ہے اور اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کی تعظیم کرنا کفر ہے۔
(2)
اس حدیث کا دوسرا جملہ کہ مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کی طرح ہے کیونکہ لعنت کے معنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کرنا ہے اور کسی کو قتل کرنا بھی دنیاوی زندگی سے دور کرنے کا باعث ہے۔
(3)
آخری جملہ یہ ہے کہ مسلمان کو کفر کی طرف منسوب کرنا اسے قتل کرنے کی مانند ہے۔
اس تشبیہ کی وجہ یہ ہے کہ کفر، قتل کا موجب ہے گویا کفر کی طرف نسبت کرنے والے نے قتل کے سبب کی طرف نسبت کی گویا اسے قتل کر دیا۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی کی طرف کفر کی نسبت معقول تاویل کی وجہ سے ہے تو وہ قتل کے مانند نہیں ہو گا، یعنی وہ اس وعید کا سزاوار نہیں ہو گا جو حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
واللہ أعلم
(1)
اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس نے دین اسلام کے علاوہ کسی اور دین کی قسم اٹھائی، مثلاً: اگر میں نے یہ کام کیا تو میں یہودی بن جاؤں یا عیسائی ہو جاؤں، اس طرح کہنے والے کا اسلام خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
ممکن ہے کہ وہ یہودی ہو جائے جیسا کہ اس نے کہا ہے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے مراد زجر و تہدید اور وعید معلوم ہوتی ہے، گویا وہ یہودیوں جیسے عذاب کا حق دار ہو جاتا ہے۔
ایک دوسری حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے، حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے قسم اٹھائی اور کہا کہ میں اسلام سے بے زار ہوں، اگر جھوٹا ہے تو واقعی اسلام سے بے زار ہو گا جیسا کہ اس نے کہا ہے اور اگر وہ سچا ہے تو پھر بھی اسلام کی طرف صحیح سالم نہیں لوٹ سکے گا۔
‘‘ (سنن أبي داود، الأیمان والنذور، حدیث: 3258)
صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے: ’’جس نے جان بوجھ کر ملت اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کی جھوٹی قسم اٹھائی وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اس نے کہا۔
‘‘ (صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1363) (3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ کسی چیز کو شرط کے ساتھ معلق کرنا بھی قسم ہوتا ہے کیونکہ اس سے بھی کسی چیز کے کرنے یا نہ کرنے کا عہد ہوتا ہے اور قسم میں یہی مقصود ہے۔
جمہور کا موقف ہے کہ ایسے آدمی کو توبہ و استغفار کرنا چاہیے، نیز اس کے ذمے کوئی کفارہ وغیرہ نہیں ہے لیکن اس میں کچھ تفصیل ہے کہ اگر وہ اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کی تعظیم کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ بلاشبہ دین اسلام سے خارج ہو گا اور اگر تعظیم مقصود نہیں بلکہ تعلیق ہی پیش نظر ہے تو اگر دوسرا دین اپنانے کا ارادہ ہے تو کافر ہو جائے گا کیونکہ کفر کا ارادہ بھی کفر ہے اور اگر وہ اس سے دور رہنا چاہتا ہے تو کافر نہیں ہو گا۔
(4)
بہرحال امام بخاری رحمہ اللہ کا رجحان یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایسے آدمی کو دین سے خارج خیال نہیں کرنا چاہیے۔
(فتح الباري: 656/11)
(1)
ملت اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کی قسم اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں نے فلاں کام کیا تو میں یہودی یا نصرانی ہوں، ایسی صورت میں وہ وہی ہوگا جو اس نے کہا۔
(2)
اس حدیث میں پانچ احکام بیان ہوئے ہیں جن کی وضاحت ہم آئندہ کریں گے، سردست عنوان کا اعتبار کرتے ہوئے یہ بیان کرتے ہیں کہ مومن پر لعنت کرنا بہت بڑا جرم ہے، گویا اسے قتل کرنا ہے کیونکہ لعنت کے معنی اللہ کی رحمت سے دور کرنا ہیں، اس طرح اسے لعنت کر کے وہ اس سے آخرت کے منافع ختم کرنا چاہتا ہے۔
حدیث میں ہے: ’’بندہ جب کسی پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے، اس کے آگے آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، پھروہ زمین کی طرف اترتی ہے تو اس کے آگے زمین کے دروازے بھی بند کر دیے جاتے ہیں، پھر وہ دائیں اور بائیں جاتی ہے، اگر اسے کہیں جگہ نہ ملے تو جس پر لعنت کی گئی ہو اس پر واقع ہو جاتی ہے، بشرطیکہ وہ اس کا حق دار ہو بصورت دیگر وہ لعنت، کہنے والے پر لوٹ جاتی ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4905)
ثابت بن ضحاک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب کی جھوٹی قسم کھائی وہ ویسے ہی ہو گیا جیسے اس نے کہا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان/حدیث: 1543]
وضاحت:
1؎:
یہ تغلیظ وتہدید کے طورپر ہے اگر صحیح عقیدہ کا حامل ہے تو کافر نہیں ہوگا۔
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسلام کے سوا کسی اور ملت و مذہب کی جو کوئی جھوٹی قسم کھائے تو وہ ویسا ہی ہو گا جیسا اس نے کہا “، قتیبہ نے اپنی حدیث میں «متعمدا» کہا ہے (یعنی دوسری ملت کی جان بوجھ کر قسم کھائے) اور یزید نے «كاذبا» کہا ہے (جو دوسری ملت کی جھوٹی قسم کھائے گا) تو وہ ویسا ہی ہو گا جیسا اس نے کہا ۱؎ اور جو کوئی اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر لے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3801]
(2) ”عذاب دیتا رہے گا“ یعنی اس کی موت سے لے کر حشر تک۔ اس کے بعد اس کے مجموعی اعمال کی بنیاد پر اس کے جنت یا جہنم میں جانے کا فیصلہ ہوگا۔ یہ اس کی قسمت ہے۔
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے اسلام کے سوا کسی ملت و مذہب کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ ویسا ہی ہے، جیسا اس نے کہا، اور جس نے خود کو کسی چیز سے مار ڈالا (خودکشی کر لی) تو اسے آخرت میں اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3802]
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کوئی دین اسلام کے سوا کسی دوسری ملت کی جھوٹی قسم کھائے گا تو وہ اسی طرح ہو گا جیسے اس نے کہا، اور جس نے اپنے آپ کو دنیا میں کسی چیز سے قتل کیا تو اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا، اور آدمی پر اس چیز کی نذر نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3844]
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے اسلام کے سوا کسی اور دین میں چلے جانے کی جھوٹی قسم جان بوجھ کر کھائی، تو وہ ویسے ہی ہو گا جیسا اس نے کہا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2098]
فوائد ومسائل: (1)
دوسرے مذہب کی قسم کا مطلب یہ ہے کہ اس نے کہا: ’’اگر میں نے فلاں کام کیا ہو تو میں یہودی ہوں‘‘ یا کہا: ’’اگر میں جھوٹ کہوں تو کافر ہو جاؤں۔‘‘
اس انداز کی قسم سے پرہیز کرنا چاہیے۔
(2)
حافظ صلاح الدین یوسف حفظ اللہ اس کی بابت یوں لکھتے ہیں کہ اگر قسم کھاتے وقت اس کا ارادہ بھی یہی تھا کہ اگر اس نے یہ کام کیا تو وہ کفر کا راستہ اختیار کر لے گا تو وہ فی الفور کافر ہو جائے گا اور اگر اس کا مقصد دین اسلام پر استقامت کا اظہار تھا اور اس کا عزم تھا کہ وہ کبھی کفر کا راستہ اختیار نہیں کرے گا تو وہ کافر تو نہیں ہو گا لیکن اس کے لیے اس نے جو طریقہ اختیار کیا، وہ غلط تھا اس لیے اسے توبہ و استغفار کا اہتمام کرنا چاہیے بلکہ بہتر ہے کہ دوبارہ کلمہ شہادت پڑھ کر تجدید اسلام کر لے۔ دیکھیے: (ریاض الصالحین (اردو)
جلد دوم، حدیث: 1710 کے فوائد مطبوعہ دارالسلام)