حدیث نمبر: 1094
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ ، حَدَّثَنِي وَالِدِي ، أَنَّهُ سَمِعَ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَغُرَّنَّ أَحَدَكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ مِنَ السَّحُورِ ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَسْتَطِيرَ " .

عبدالوارث، عبداللہ بن سوادہ قشیری، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے ہیں: ”تم میں سے کوئی سحری کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی اس سفیدی سے جب تک کہ وہ پھیل نہ جائے۔“

وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ لِعَمُودِ ، الصُّبْحِ حَتَّى يَسْتَطِيرَ هَكَذَا " .

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”تمہیں بلال کی اذان دھوکا میں مبتلا نہ کرے اور نہ یہ سفیدی (جو صبح کو ستون کی طرح ہوتی ہے) حتی کہ وہ چوڑائی میں پھیل جائے۔‘‘

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَغُرَّنَّكُمْ مِنْ سَحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ ، وَلَا بَيَاضُ الْأُفُقِ الْمُسْتَطِيلُ هَكَذَا ، حَتَّى يَسْتَطِيرَ هَكَذَا " ، وَحَكَاهُ حَمَّادٌ بِيَدَيْهِ ، قَالَ : يَعْنِي مُعْتَرِضًا .

حماد، ابن زید، عبداللہ بن سوادہ قشیری، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سے اپنی سحری سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی افق کی لمبی سفیدی سے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے۔“ حماد نے اپنے دونوں ہاتھوں (کے اشارے) سے بیان کیا کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد چوڑائی میں پھیلنے والی (سفیدی) سے تھی۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَوَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَخْطُبُ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ ، وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ ، حَتَّى يَبْدُوَ الْفَجْرُ ، أَوَ قَالَ : حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ " ،

عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، سوادہ، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ خطبہ دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ اس سفیدی سے یہاں تک کہ فجر ظاہر ہو جائے۔“

وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ حَنْظَلَةَ الْقُشَيْرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ هَذَا .

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مذکورہ روایت بیان کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الصيام / حدیث: 1094
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2173 | صحيح مسلم: 1094 | سنن ترمذي: 706 | سنن ابي داود: 2346

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ’’تم میں سے کسی کو بلال کی ندا سحری سے دھوکا میں مبتلا نہ کرے اور نہ یہ سفید ی حتی کہ چوڑائی میں پھیل جائے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2544]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
سَحور: سحری کے لیے تیار کردہ کھانا۔
سُحور: سحری کا کھانا، کھانا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1094 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2173 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´فجر کیسے ہوتی ہے؟`
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کی اذان تمہیں ہرگز دھوکہ میں نہ ڈالے، اور نہ یہ سفیدی یہاں تک کہ فجر کی روشنی اس طرح اور اس طرح ، یعنی چوڑائی میں پھوٹ پڑے۔ ابوداؤد (طیالسی) کہتے ہیں: (شعبہ) نے اپنے دونوں ہاتھ دائیں بائیں بڑھا کر پھیلائے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2173]
اردو حاشہ: حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان نہ تو تہجد کے لیے تھی کیونکہ نفل نماز کے لیے اذان نہیں اور نہ سحری کے لیے کیونکہ اذان نماز کے لیے ہوتی ہے، کھانے پینے کے لیے نہیں، بلکہ فجر کی نماز کے لیے ہی ہوتی ہے لیکن وقت سے کچھ پہلے، البتہ اس اذان سے کوئی شخص تہجد یا سحری کا فائدہ اٹھا سکتا ہے، جیسے مغرب کی اذان سے افطاری کا فائدہ اٹھا لیا جاتا ہے۔ رسول اللہﷺ کے دور میں اگرچہ ان دو اذانوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہ ہوتا تھا مگر چونکہ یہ فاصلہ مقرر نہیں، لہٰذا یہ زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2173 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2346 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سحری کھانے کے وقت کا بیان۔`
سوادہ قشیری کہتے ہیں کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں سحری کھانے سے بلال کی اذان ہرگز نہ روکے اور نہ آسمان کے کنارے کی سفیدی (صبح کاذب) ہی باز رکھے، جو اس طرح (لمبائی میں) ظاہر ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2346]
فوائد ومسائل:
فجر کی دو قسمیں ہیں: فجر کاذب اور فجر صادق۔
فجر کاذب میں سحری کھائی جاتی ہے اور فجر صادق شروع ہوتے ہی سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ فجر کاذب میں لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے اذان دیا کرتے تھے۔
فجر کاذب میں پہلے سفیدی (روشنی) سیدھی آسمان کو اٹھتی ہے، پھر جلد ہی دوبارہ سفیدی نکل کر اِطراف افق میں پھیل جاتی ہے اور یہی فجر صادق ہوتی ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2346 سے ماخوذ ہے۔