صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب بَيَانِ أَنَّ لِكُلِّ بَلَدٍ رُؤْيَتَهُمْ وَأَنَّهُمْ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ بِبَلَدٍ لاَ يَثْبُتُ حُكْمُهُ لِمَا بَعُدَ عَنْهُمْ: باب: ہر شہر کے لئے اس کی اپنی رؤیت معتبر ہے اور کسی شہر میں چاند دیکھنے سے دور والوں کے لیے رؤیت ثابت نہیں ہوتی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ ، قَالَ : فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا ، وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ ، فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ ، فَقَالَ : " مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ ؟ " ، فَقُلْتُ : " رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ " ، فَقَالَ : " أَنْتَ رَأَيْتَهُ ؟ " ، فَقُلْتُ : " نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ ، وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ " ، فَقَالَ : " لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ أَوْ نَرَاهُ " ، فَقُلْتُ : " أَوَ لَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ " ، فَقَالَ : " لَا هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَشَكَّ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى فِي نَكْتَفِي أَوْ تَكْتَفِي .یحییٰ بن یحییٰ، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، یحییٰ بن یحییٰ، اسماعیل، ابن جعفر، محمد، ابن حرملہ، حضرت کریب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف ملک شام بھیجا میں شام میں پہنچا تو میں نے حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا کا کام پورا کیا۔ اور وہیں پر رمضان المبارک کا چاند ظاہر ہو گیا۔ اور میں نے شام میں ہی جمعے کی رات چاند دیکھا پھر میں مہینے کے آخر میں مدینے آیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے چاند کا ذکر ہوا تو مجھے پوچھنے لگے کہ تم نے چاند کب دیکھا ہے؟ تو میں نے کہا کہ ہم نے جمعہ کی رات چاند دیکھا ہے۔ پھر فرمایا: تو نے خود دیکھا تھا؟ میں نے کہا ہاں! اور لوگوں نے بھی دیکھا ہے اور انہوں نے روزہ رکھا۔ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا چاند دیکھنا اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ یحییٰ بن یحییٰ کو شک ہے کہ ”ہم اکتفا نہیں کریں گے۔“ کے الفاظ تھے یا ”آپ اکتفا نہیں کریں گے۔“ کے۔
تشریح، فوائد و مسائل
رؤیت ہلال کے سلسلہ میں ائمہ میں اختلاف ہے کہ اگر ایک علاقہ میں چاند نظر آ جائے تو دوسرے علاقے کے لوگ کیا کریں؟ 1۔
امام اعظم یعنی امیر وحاکم رؤیت قبول کر لے تو سب کو روزہ رکھنا ہوگا وگرنہ جہاں نظر آیا ہے وہیں کے لوگ روزہ رکھیں گے۔
2۔
ہرعلاقے کے لیے اپنی اپنی رؤیت ہے۔
3۔
اگر ایک علاقے میں چاند نظر آ جائے تو ہرجگہ کے لوگوں کو اس کا اعتبار کرنا ہو گا۔
4۔
اختلاف مطلع کا لحاظ ہے، جن علاقوں کا مطلع ایک ہے، اگر ایک علاقہ میں نظر آ گیا ہے تو دوسرے میں بھی نظر آنا چاہیے تھا۔
کسی سبب یاعارضہ کی وجہ سے نظر نہیں آ سکا۔
اس طرح ایک مطلع والوں کے لیے آپس میں رؤیت بہتر ہے۔
عراقیوں اور امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کا مؤقف یہی ہے اور یہی بات درست ہے۔
اگر مطالع الگ الگ ہیں ایک جگہ نظر آنے سے دوسری جگہ نظر آنا ضروری نہیں ہے۔
تو پھر ایک جگہ کی رؤیت دوسری جگہ کے لیے معتبر نہیں ہے۔
5۔
ایک صوبہ یا ایک ملک کے سب علاقوں کا ایک حکم ہے۔
6۔
اوربقول نووی رحمۃ اللہ علیہ غزالی وغیرہما مسافت قصر کا لحاظ ہے مسافت قصر سے کم ہوتو حکم ایک ہے وگرنہ الگ الگ۔
2۔
موجودہ دور میں رؤیت ہلال کمیٹی کے اعلان کا اعتبار ہے وہ شرعی اصولوں کے مطابق گواہی لے کر اعلان کر دے تو وہ معتبر ہو گا۔
3۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام احمد لیث بن سعد رحمۃ اللہ علیہ اور بعض شوافع رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک بیان کیا جاتا ہے کہ: (صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته)
چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے دیکھ کر روزے ختم کرو، کا حکم عام ہے سب مسلمان اس کے مخاطب ہیں۔
تو اس کا معنی یہ ہوا کہ تمام مسلمان ممالک میں روزے کا آغاز اور اختتام یکساں ہونا چاہیے اور چاند کی تاریخ تقریباً یکساں ہونی چاہیے حالانکہ واقعہ یہ ممکن نہیں ہے۔
دوسری طرف اس بات پر سب کا اتفاق ہے اگر وہ جگہوں کا فاصلہ غیر معمول ہو جیسے حجاز اور اندلس تو ان کاحکم الگ الگ ہے۔
(بدایۃ المجتھد ج1)
۔
4۔
رمضان کے چاند کے لیے ایک آدمی کی شہادت اکثرعلماء کے نزدیک کافی ہے۔
اور شوال کے چاند کے لیے ائمہ اربعہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک دو آدمیوں کی شہادت معتبر ہے۔
لیکن قاضی شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابوثور رحمۃ اللہ علیہ کے مؤقف کی تائید کی ہے کہ شوال کے لیے بھی رمضان کی طرح ایک گواہی کافی ہے۔
کریب مولیٰ ابن عباس کہتے ہیں: ام فضل رضی اللہ عنہا نے انہیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا، تو میں شام آیا، اور میں نے ان کی ضرورت پوری کی، اور میں شام (ہی) میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا، میں نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا، پھر میں مہینہ کے آخری (ایام) میں مدینہ آ گیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے (حال چال) پوچھا، پھر پہلی تاریخ کے چاند کا ذکر کیا، (اور مجھ سے) پوچھا: تم لوگوں نے چاند کب د۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2113]
(2) مدینہ منورہ اور دمشق کے درمیان ویسے تو کافی فاصلہ ہے مگر طول بلد کے لحاظ سے صرف چھ درجے کا فرق ہے۔ گویا طلوع اور غروب میں 24 منٹ کا فرق ہے، اتنے فرق سے چاند کی رؤیت میں فرق نہیں پڑتا۔ دونوں جگہ ایک ہی دن چاند ہونا چاہیے، مگر اس دور میں پیغام رسانی کے تیز ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے اتنے فاصلے سے بروقت خبر پہنچنا ناممکن تھا، لہٰذا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کے لیے شام (یعنی دمشق جو اس وقت دارالخلافہ تھا) کی رؤیت کو کافی نہ سمجھا۔
کریب کہتے ہیں کہ ام الفضل بنت حارث نے انہیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا، میں نے (وہاں پہنچ کر) ان کی ضرورت پوری کی، میں ابھی شام ہی میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا، ہم نے جمعہ کی رات میں چاند دیکھا، پھر مہینے کے آخر میں مدینہ آ گیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے چاند کے متعلق پوچھا کہ تم نے چاند کب دیکھا؟ میں نے جواب دیا کہ جمعہ کی رات میں، فرمایا: تم نے خود دیکھا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، اور لوگوں نے بھی دیکھا ہے، اور روزہ رکھا ہے، معاویہ نے بھی روزہ رکھا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: لیک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2332]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ ہے کہ ہر علاقے والوں کے لیے ان کی اپنی رؤیت کا اعتبار ہے۔
امام شافعی رحمة اللہ علیہ اس میں مزید یوں فرماتے ہیں کہ اگر مختلف علاقوں کا مطلع ایک ہو تو ایک دوسرے کی رؤیت ان کے لیے معتبر ہو گی ورنہ نہیں۔
امام ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ کا بھی یہی مذہب ہے۔