صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ: باب: مہینہ انتیس دنوں کا (بھی) ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْسَمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى أَزْوَاجِهِ شَهْرًا ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : لَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً أَعُدُّهُنَّ ، دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : بَدَأَ بِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّكَ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ ، فَقَالَ : " إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .معمر، حضرت زہری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک اپنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے زہری کہتے ہیں کہ مجھے عروہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب انتیس راتیں گزر گئیں میں ان راتوں کا شمار کرتی رہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: (باریوں کا) آغاز مجھ سے فرمایا میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ ہمارے پاس ایک ماہ تک نہ آئیں گے۔ اور آپ انتیس دن کے بعد تشریف لے آئے ہیں، میں گنتی رہی ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”بیشک مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“