صحيح مسلم
كتاب الصيام— روزوں کے احکام و مسائل
باب وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلاَلِ وَالْفِطْرِ لِرُؤْيَةِ الْهِلاَلِ وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلاَثِينَ يَوْمًا: باب: اس بیان میں کہ روزہ اور افطار چاند دیکھ کر کریں اور اگر بدلی ہو تو تیس تاریخ پوری کریں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ ، فَاقْدِرُوا لَهُ " .یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے مالک رحمہ اللہ کے سامنے قراءت کی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے رمضان کا ذکر کیا اور فرمایا: ”روزہ نہ رکھو حتیٰ کہ چاند دیکھ لو اور افطار (روزوں کا اختتام) نہ کرو حتیٰ کہ چاند دیکھ لو اور اگر تم پر مطلع ابر آلود کر دیا جائے تو اس (رمضان) کی مقدار (گنتی) پوری کرو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ ، فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ ، فَقَالَ : " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، ثُمَّ عَقَدَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ ، فَصُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ثَلَاثِينَ " ،حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا۔ پھر دونوں ہاتھوں کو کھول کر اشارہ کر کے بتایا اور فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے مہینہ ایسے ہے اور تیسری دفعہ انگوٹھا بند کر کے فرمایا: ایسے ہے۔ لہٰذا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے دیکھ کر روزہ رکھو اگر چاند تم سے مخفی ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کر لو۔‘‘
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : " فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا ثَلَاثِينَ " ، نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ ،ہم سے ابن نمیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں عبیداللہ نے اسی (مذکورہ بالا) سند کے ساتھ حدیث بیان کی، فرمایا: ”اگر تم پر بادل چھا جائیں تو اس کے تیس دن شمار کرو۔“ جس طرح ابواسامہ کی حدیث ہے۔
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، وَقَالَ : فَاقْدِرُوا لَهُ " ، وَلَمْ يَقُلْ ثَلَاثِينَ .یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کر کے فرمایا: ”مہینہ انتیس کا ہوتا ہے، (اشارے سے کہا:) مہینہ اس طرح، اس طرح اور اس طرح (تین دہائیاں ہوتا) ہے۔“ اور کہا: ”اس کی گنتی پوری کرو۔“ اور تیس کا لفظ نہیں بولا۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ " .حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس (29) کا بھی ہوتا ہےاس لیے چاند دیکھے بغیر روزہ نہ رکھو اور نہ دیکھے بغیر افطار کرو اگر آسمان ابر آلود ہو تو گنتی (تیس) پوری کر لو۔‘‘
وحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ " .سلمہ بن علقمہ نے نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے، جب چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو تو روزے ختم کرو، اگر تم پر بادل چھا جائیں تو اس کی گنتی پوری کرو۔“
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ " .سالم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب اس (چاند) کو دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو تو روزے ختم کرو اور اگر بادل چھا جائیں تو اس (مہینے) کی گنتی پوری کرو۔“
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً ، لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، إِلَّا أَنْ يُغَمَّ عَلَيْكُمْ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ " .عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے۔ چاند دیکھے بغیر روزہ نہ رکھو اور اسے دیکھے بغیر روزے ختم نہ کرو مگر یہ کہ تم پر بادل چھا جائیں۔ اگر تم پر بادل چھا جائیں تو اس (مہینے) کی گنتی پوری کرو۔“
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إسحاق ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَقَبَضَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ " .عمرو بن دینار نے ہمیں حدیث سنائی کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مہینہ اس طرح، اس طرح، اور اس طرح ہوتا ہے۔“ اور تیسری دفعہ اپنا انگوٹھا بند کر لیا۔ (اشارے سے انتیس کی گنتی بتائی۔)
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔‘‘
وحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عنهما ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، عَشْرًا وَعَشْرًا وَتِسْعًا " .موسیٰ بن طلحہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ ایسا، ایسا، ایسا (یعنی) دس، دس اور نو کا ہوتا ہے۔“
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ كَذَا وَكَذَا وَكَذَا ، وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ بِكُلِّ أَصَابِعِهِمَا ، وَنَقَصَ فِي الصَّفْقَةِ الثَّالِثَةِ إِبْهَامَ الْيُمْنَى أَوِ الْيُسْرَى " .شعبہ، جبلہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ ہمیشہ اس طرح، اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ساتھ دونوں ہاتھوں کی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا اور تیسری مرتبہ آپ نے اپنے دائیں یا بائیں انگوٹھے کو بند فرما لیا۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ وَهُوَ ابْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " ، وَطَبَّقَ شُعْبَةُ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، وَكَسَرَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ ، قَالَ عُقْبَةُ : وَأَحْسِبُهُ قَالَ الشَّهْرُ ثَلَاثُونَ وَطَبَّقَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ .شعبہ نے ہمیں عقبہ بن حریث سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس کا ہوتا ہے۔“ شعبہ نے تین بار دونوں ہاتھوں کو (دکھا کر) ایک دوسرے سے جوڑا اور تیسری بار انگوٹھا کم کر لیا۔ عقبہ نے کہا: میرا خیال ہے (پھر) انہوں (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما) نے کہا: ”مہینہ تیس کا ہوتا ہے۔“ اور (ایک دفعہ) اپنی دونوں ہتھیلیاں تین بار ایک دوسرے کے ساتھ جوڑیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي تَمَامَ ثَلَاثِينَ " ،محمد بن المثنیٰ، ابن بشار، محمد جعفر، شعبہ، اسود بن قیس، سعید بن عمر بن سعید، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم امی امت کے لوگ ہیں نہ ہم لکھتے ہیں اور نہ ہم حساب کرتے ہیں مہینہ اس طرح ہوتا ہے اور اس طرح اور اس طرح۔“ اور تیسری مرتبہ انگوٹھے کو بند فرما لیا، اور ”مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے یعنی مکمل تیس (دنوں) کا۔“
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ لِلشَّهْرِ الثَّانِي ثَلَاثِينَ .سفیان نے اسود بن قیس سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور دوسرے مہینے کے تیس (دنوں) کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ : سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، رَجُلًا يَقُولُ : اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ النِّصْفِ ، فَقَالَ لَهُ : مَا يُدْرِيكَ أَنَّ اللَّيْلَةَ النِّصْفُ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ الْعَشْرِ مَرَّتَيْنِ ، وَهَكَذَا فِي الثَّالِثَةِ وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ كُلِّهَا ، وَحَبَسَ أَوْ خَنَسَ إِبْهَامَهُ " .سعد بن عبیدہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ آج رات نصف ماہ کی رات ہے تو انھوں نے اس سے کہا تمھیں کیسے پتہ چلا کہ آج رات آدھا ماہ گزر گیا؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مہینہ ایسا ایسا ہوتا ہے‘‘ دو دفعہ اپنی دس دس انگلیوں سے اشارہ کیا۔ ”اور ایسا ہے‘‘ (تیسری دفعہ اپنی سب انگلیوں سے اشارہ کیا اور اپنے انگوٹھے کو روک لیا یا ہٹا لیا۔ یعنی اپنے انگوٹھے کو بند کر لیا) ”حَبَسَ‘‘ روک لیا ”خَنَسَ‘‘ ہٹا لیا پیچھے کر لیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
کا ترجمہ جمہور کے نزدیک یہ ہے مہینہ کے آغاز سے تیس دن گن لو، بعض حضرات نے معنیٰ کیا ہے کہ پھر منازل قمر کا حساب کر کے پتہ چلا لو، اور بعض نے معنیٰ کیا ہے پھر اس کے لیے تنگی پیدا کرو اور اسے بادلوں کے نیچے مان کر مہینہ انتیس (29)
کا بنا لو، لیکن یہ دونوں معانی۔
آگے آنے والی صحیح حدیث کے خلاف ہیں اسی طرح حنابلہ کا مطلع صاف ہو آسمان پر بادل یا گردوغبار نہ ہونے کی صورت میں تو نظر نہ آنے کی صورت میں مہینہ تیس کا ماننا اور بادل یا گردوغبار ہو تو پھر مہینہ انتیس کا ماننا۔
صحیح حدیث کے منافی ہے۔
اس لیے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اگر کوئی گردوغبار کی صورت میں رمضان فرض کر کے روزہ رکھ لے گا۔
تو وہ روزہ نہیں ہو گا۔
حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے جمہور کا مؤقف قبول کیا ہے۔
(1)
رمضان کے چاند کا اندازہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ اس کے تیس دن پورے کر لو۔
امام بخاری ؒ یہ حدیث اسی مقصد کے لیے لائے ہیں کہ لفظ رمضان لفظ "شهر" کے بغیر استعمال ہو سکتا ہے لیکن اس حدیث میں سرے سے لفظ رمضان استعمال ہی نہیں ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ امام بخاری ؒ نے عقیل اور یونس کے حوالے سے جو معلق روایت ذکر کی ہے اس میں ہلال رمضان کے الفاظ ہیں اور یہی ان کا محل استشہاد ہے۔
اس روایت کو علامہ اسماعیلی نے متصل سند سے بیان کیا ہے۔
زہری کی روایت کے علاوہ بھی ایک حدیث میں ہلال رمضان کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
(2)
بہرحال امام بخاری کا مقصد یہ ہے کہ رمضان یا شہر رمضان کہنے میں کوئی کراہت نہیں کیونکہ دونوں طرح سے احادیث منقول ہیں۔
بعض حضرات کا خیال ہے کہ اگر لفظ شہر پر کوئی قرینہ موجود ہو تو جائز ہے بصورت دیگر ناجائز لیکن یہ موقف مرجوح ہے۔
(فتح الباري: 146/4)
(لمعات)
یعنی جمہور علمائے سلف اور خلف کا اسی حدیث پر عمل ہے بعض لوگوں نے حدیث بالا میں لفظ فاقدروا سے حساب نجوم کا ضبط کرنا مرا د لیا ہے یہ قول درست نہیں ہے اور اہل نجوم کا قول اعتماد کے قابل نہیں ہے۔
آج کل تقویم میں جو تاریخ بتلائی جاتی ہے اگرچہ ان کے مرتب کرنے والے پوری کوشش کرتے ہیں مگر شرعی امور کے لیے محض ان کی تحریرات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا خاص طور پر رمضان اور عیدین کے لیے رویت ہلال یا دو معتبر گواہوں کی شہادت ضروری ہے۔
اسی طرح عید کا چاند بھی اگر29 تاریخ کو نظر نہ آئے یا بادل وغیرہ کی وجہ سے شک ہو جائے تو پورے تیس دن روزے رکھ کر عید منانی چاہئے۔
حجۃ الہند حضرت شاہ ولی اللہ مرحوم فرماتے ہیں چونکہ روزے کا زمانہ قمری مہینہ کے ساتھ رویت ہلال کے اعتبار سے منضبط تھا اور وہ کبھی تیس دن اور کبھی انتیس دن کا ہوتا ہے لہٰذا اشتباہ کی صور ت میں اس اصل کی طرف رجوع کرنا ہوا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی (لیکن انہیں نظر نہ آیا) اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے اسے دیکھا ہے، چنانچہ آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2342]
جب کسی مسلمان پر کوئی واضح جرح ثابت نہ ہو تو اسے عادل شمار کیا جائے گا۔
اور رمضان کا چاند ہونے کے سلسلے میں کئی فقہا ایک عادل مسلمان کی گواہی کو کافی سمجھتے ہیں۔
اس حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
مذکورہ دونوں حدیثین (2340-2341) سندا ضعیف ہیں۔
تاہم اس صحیح حدیث میں بھی یہی بات بیان کی گئی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مہینہ انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے لہٰذا چاند دیکھے بغیر نہ روزہ رکھو، اور نہ ہی دیکھے بغیر روزے چھوڑو، اگر آسمان پر بادل ہوں تو تیس دن پورے کرو۔“ راوی کا بیان ہے کہ جب شعبان کی انتیس تاریخ ہوتی تو ابن عمر رضی اللہ عنہما چاند دیکھتے اگر نظر آ جاتا تو ٹھیک اور اگر نظر نہ آتا اور بادل اور کوئی سیاہ ٹکڑا اس کے دیکھنے کی جگہ میں حائل نہ ہوتا تو دوسرے دن روزہ نہ رکھتے اور اگر بادل یا کوئی سیاہ ٹکڑا دیکھنے کی جگہ میں حائل ہو جاتا تو صائم ہو کر صبح کرتے۔ راوی کا یہ بھی بیان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2320]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بادل اور غبار وغیرہ جیسی رکاوٹ کے باعث چاند نظر نہ آنے پر روزہ رکھ لیا کرتے تھے ممکن ہے کہ اگلا دن رمضان کا ہو۔
اور وہ اس کو شک کا دن نہ سمجھتے تھے۔
وہ شدت احتیاط کے تحت ایسا کرتے اور اس میں وہ منفرد بھی ہیں، اس لیے راجح یہی ہے کہ ابر یا غبار کے باعث چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کئے جائیں گے۔
اس دن کا روزہ شک کا روزہ ہو گا جو کہ ممنوع ہے۔
علامہ البانی رحمة اللہ علیہ نے حضرت ابن عمر کا یہ عمل ضعیف لکھا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر ہی روزہ توڑا کرو، اور اگر چاند بادل کی وجہ سے مشتبہ ہو جائے تو تیس دن کی تعداد پوری کرو “ ۱؎۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما چاند نکلنے کے ایک روز پہلے سے ہی روزہ رکھنا شروع کر دیتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1654]
فوائد و مسائل:
(1)
چاند نظر آنے پرقمری مہینہ شروع ہوجاتا ہے۔
رات اپنے بعد والے دن کے ساتھ گنی جاتی ہے۔
(2)
چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کا مطلب رات ہی کو روزہ رکھنا نہیں کیونکہ روزے کا وقت صبح صادق سے شروع ہوتا ہے۔
(3)
چاند دیکھ کر روزہ چھوڑنے کامطلب یہ ہے کہ شوال کا چاند نظر آجائے تو وہ رات شوال کی پہلی رات ہوگی۔
رمضان کے احکام ختم ہوجایئں گے۔
اگر سورج غروب ہونے سے پہلے چاند نظر آ جائے۔
جیسے بعض اوقات تیس کا مہینہ ہونے کی صورت میں ہوجاتا ہے۔
تو سورج غروب ہونے سے پہلے روزہ افطار نہ کیا جائے۔
کیونکہ روزہ غروب آفتاب پر ختم ہوتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
﴿ ثُمَّ أَتِمُّوا۟ ٱلصِّيَامَ إِلَى ٱلَّيْلِ ۚ﴾ (البقرۃ: 187/2)
پھر رات تک روزہ پورا کرو
(4)
بادل ہونے کی صورت میں اندازہ کرنے کا مطلب تیس روزے پورا کرنا ہے۔
کیونکہ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ (فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاَثِيْن)
اگر بادل ہوجایئں تو تیس کی گنتی پوری کرلو (صحیح البخاري، الصوم، باب قول النبي إذا رایتم الھلال فصوموا واذا رایتموہ فافطروا حدیث 1907)
(5)
تیسواں روزہ رکھنے کو اندازہ اسی لئے کہا گیا ہے۔
کہ مذکورہ صورت میں چاند نہ ہونا یقینی نہیں لیکن چاند ہونے کا یقین نہ ہونے کی وجہ سے رمضان کے باقی رہنے کا حکم لگایا گیا ہے۔
اگر یقینی خبر سے چاند ہونا ثابت ہوجائے تو روزہ چھوڑ دیا جائے گا۔
(6)
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رمضان سے پہلےایک روزہ رکھا۔
ممکن ہے وہ ان کی عادت کے مطابق روزہ ہو جو اتفاقاً اسی روز واقع ہوگیا ہو۔
دیکھئے: (حدیث: 1650، فائدہ: 3)
یا ممکن ہے انھوں نے نہی کو فضیلت کے معنی میں لیا ہو۔
واللہ أعلم۔
بہرحال صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول وعمل پر رسول اللہ ﷺ کے ارشاد مبارک کو ترجیح دیتے ہوئے یہ روزہ نہ رکھنا ہی بہتر ہے۔
نیز شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس فعل کی بابت لکھتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ عمل صرف ابن ماجہ میں ہے۔
اور یہ اضافہ منکر ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (إرواء الغلیل: 10/4، رقم: 903)
«. . . 208- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر رمضان، فقال: ”لا تصوموا حتى تروا الهلال، ولا تفطروا حتى تروه، فإن غم عليكم فاقدروا له.“ . . .»
”. . . سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا: جب تک تم (رمضان کا) چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو اور جب تک تم (عید کا) چاند نہ دیکھ لو روزہ افطار (یعنی عید) نہ کرو اور اگر موسم ابر آلود ہو تو (تیس کی) گنتی پوری کرو . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 242]
[وأخرجه البخاري 1906، ومسلم 1080، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ ہر علاقے کے لوگ اپنا اپنا چاند دیکھیں گے۔ دُور کے علاقوں کی رویت کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
◈ کریب مولیٰ ابن عباس نے جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بتایا کہ (سیدنا) معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے ایک دن پہلے جمعہ کو چاند دیکھا تھا تو ابن عباس نے اس کا کوئی اعتبار نہیں کیا اور فرمایا: ہم نے تو ہفتہ کو چاند دیکھا تھا اور ہم اس کے مطابق روزے رکھتے رہیں گے حتیٰ کہ ہم چاند دیکھ لیں یا تیس دن پورے ہو جائیں۔ انہوں نے فرمایا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح حکم دیا تھا۔ [ديكهئے صحيح مسلم: 1087، ترقيم دارالسلام: 2528]
◈ یہ مرفوع حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ہر شہر اور اس کے قریبی علاقوں کے لوگ اپنا اپنا چاند دیکھیں گے اور یہ ضروری نہیں کہ ساری دنیا میں ایک ہی دن روزہ یا ایک ہی دن عید ہو۔
➋ حافظ ابن عبدالبر الاندلسی نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ خراسان کی رویت کا اندلس میں اور اندلس کی رویت کا خراسان میں کوئی اعتبار نہیں ہے۔ دیکھئے [الاستذكار 3/283 ح592]
➌ اگر آسمان پر انتیس تاریخ کو بادل چھائے ہوں تو پھر اس مہینے کے تیس دن پورے کر لینے چاہئیں
➍ اعتبار رویت کا ہے حساب کا نہیں۔
«. . . 282- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”الشهر تسع وعشرون، فلا تصوموا حتى تروا الهلال، ولا تفطروا حتى تروه، فإن غم عليكم فاقدروا له .“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس (29) دنوں کا ہوتا ہے لہٰذا جب تک چاند نہ دیکھو روزہ نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھ لو افطار (عید) نہ کرو۔ پھر اگر تم پر موسم ابر آلود ہو تو (تیس دن) پورے کر لو . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 243]
تفقه:
➊ ہر علاقے کے لوگوں کو اپنا اپنا چاند دیکھ کر رمضان کے روزے رکھنا اور عید کرنی چاہئے۔
➋ مزید فقہی فوائد وفقہ الحدیث کے لئے دیکھئے: ح 208
➌ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ ساری دنیا کے لوگ ایک ہی دن روزہ رکھیں اور ایک ہی دن عید کریں۔ جغرافیائی لحاظ سے یہ ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ مکہ و مدینہ میں جب دن ہوتا ہے تو امریکہ کے بعض علاقوں میں اس وقت رات ہوتی ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ” جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور (عید کے لیے) چاند دیکھ لو تو افطار کر دو۔ اگر مطلع ابر آلود ہو تو اس کے لیے اندازہ لگا لو۔ “ (متفق علیہ) مسلم کے الفاظ ہیں ” اگر مطلع ابر آلود ہو تو پھر اس کے لیے تیس دن کی گنتی کا اندازہ رکھو۔ “ اور بخاری کے الفاظ ہیں ” پھر تیس روز کی گنتی اور تعداد پوری کرو۔ “ اور بخاری میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے ” پھر تم شعبان کے تیس دن پورے کرو۔ “ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 529]
أِذَارَأَیتُمُوہُ جب تم دیکھ لو۔ اس سے مراد چاند ہے، یعنی جب چاند تمہیں نظر آ جائے۔
فَأِن غُمَّ غُمَّ میں ”غین“ ”پر ضمہ اور ”میم“ پر تشدید ہے۔ صیغۂ مجہول ہے۔ مطلب یہ ھیکہ جب چاند نظر نہ آئے مخفی اور پوشیدہ رہ جائے، ابر آلودگی کی وجہ سے یا کسی ایسی ہی دوسری وجہ سے نہ دیکھا جا سکے۔
فَاقدُرُو لَہُ قدر سے امر کا صیغہ ہے۔
فَاقدُرُو لَہُ میں ”دال“ پر ضمہ اور کسرہ دونوں جائز ہیں۔ معنی یہ ہوئے کہ تیسواں روزہ بھی رکھ کر مکمل مہینے کی گنتی اور تعداد پوری کر لو۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے چاند دیکھنا شروع کیا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور حاکم اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 530]
تَرَاءَی النَّاسُ الھِلَالَ لوگ چاند دیکھنے کے لیے اکٹھے ہوے اور چاند دیکھنے کی کوشش کرنے لگے۔ یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ماہِ رمضان کا چاند دیکھنے کے لیے خبرِواحد، یعنی صرف ایک آدمی کی شھادت بھی مقبول ہے اور یہ جمھور کا مذہب ہے۔
فوائد و مسائل 530:
ان احادیث سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ روزے کا آغاز اور اختتام دونوں چاند کے نظرآنے پر منحصر ہیں۔ چاند نظر آ جائے تو روزہ رکھا جائے اور چاند دیکھ کر ہی روزہ رکھنا بند کیا جائے۔ 2۔ اگر انتیس شعبان کو چاند نظرنہ آئے تو اس ماہ کے تیس دن پورے کیے جائیں اور اسی طرح اگر انتیس رمضان کو چاند نظرنہ آئے تو تیس روزے پورے کیے جائیں۔ 3۔ اگر گردوغبار اور ابر آلودگی کیوجہ سے ایک مقام پر چاند نظرنہ آئے مگر دوسری جگہ مطلع صاف ہونے کی بنا پر نظر آ جائے تو روزہ سارے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں رکھا جائے گا۔ اسی طرح عید بھی منائی جائیگی بشرطیکہ ان جگہوں کا مطلع ایک ہو۔ 4۔ اگر فاصلہ اسقدر ہو کہ مطلع ہی تبدیل ہو جائے تو پھر وہاں کی رؤیت قابلِ قبول نہ ہو گی جیسا کہ جمھور علماے کرام نے کہا ہے۔ آج کل ہمارے ہاں بھی بعض لوگ روزے، عیدین اور دیگر عبادات جو چاند سے متعلق ہیں سعودی عرب کی رؤیت ہلال کے مطابق ادا کرتے ہیں اور اسی رؤیت کو اپنے لیے قابلِ عمل قرار دیتے ہیں۔ اس مسئلے کی بابت سعودی علماء اور مفتیان سے بھی استفسار کیا گیا، چنانچہ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ ابن باز رحمہ اللہ اس کی بابت لکھتے ہیں: ”یہ مسئلہ سعودی عرب کے کبار علماء کی مجلس میں بھی پیش کیا گیا تو ان علماء کی راے یہ تھی کہ اس مسئلے میں راجح بات یہ ھیکہ اس میں کافی گنجائش ہے۔ اپنے ملک کے علماء کی راے کے مطابق عمل کر لیا جائے تو یہ جائز ہے۔ شیخ ابنِ باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک یہ ایک معتدل راے ہے اور اس سے اہلِ علم کے مختلف اقوال ودلائل میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے۔ آگے چل کر انہوں نے علماء کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ اہلِ علم پر واجب ھیکہ ماہ کے آغاز و اختتام کے موقع پر اس مسئلے کیطرف خصوصی توجہ مبذول کریں اور ایک بات پر متفق ہو جائیں جو ان کے اجتہاد کے مطابق حق کے زیادہ قریب ہو، پھر اسی کے مطابق عمل کریں اور لوگوں تک بھی اپنی بات پہنچادیں۔ ان کے حکمرانوں اور عام مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ اس سلسلے میں اپنے علماء کی پیروی کریں اور اس مسئلے میں اختلاف نہ کریں کیونکہ اس سے لوگ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے اور کثرت سے قیل و قال ہونے لگے گی۔“ دیکھیے: (فتاویٰ اسلامیہ (اُردو) 158/2، 159، مطبوعہ دارالسلام)۔ 5۔ سعودی مفتیان کے فتاویٰ اور دیگر دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ ہر ملک اپنی رؤیت اور اپنے علماء کے متفقہ فیصلے کے مطابق ہی روزے، عیدین اور دیگر عبادات بجالاے، ان شاء اللہ اسی میں خیر ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ 6۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ روزہ رکھنے کے لیے ایک معتبر و مقبول آدمی کی شہادت کافی ہے۔ جمھور علماء کا یہی مذہب ہے مگر ہلالِ عید کے لیے دو شہادتوں کا ہونا ضروری ہے۔ اس میں کسی کا اختلاف نہیں، سب متفق ہیں۔