صحيح مسلم
كتاب الزكاة— زکاۃ کے احکام و مسائل
باب إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الإِسْلاَمِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ: باب: قوی الایمان لوگوں کو صبر کی تلقین۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَتَحَ حُنَيْنًا قَسَمَ الْغَنَائِمَ ، فَأَعْطَى الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ ، فَبَلَغَهُ أَنَّ الْأَنْصَارَ يُحِبُّونَ أَنْ يُصِيبُوا مَا أَصَابَ النَّاسُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَهُمْ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ بِي ، وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ بِي ، وَمُتَفَرِّقِينَ فَجَمَعَكُمُ اللَّهُ بِي ، وَيَقُولُونَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ ، فَقَالَ : أَلَا تُجِيبُونِي " ، فَقَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ شِئْتُمْ أَنْ تَقُولُوا كَذَا وَكَذَا ، وَكَانَ مِنَ الْأَمْرِ كَذَا وَكَذَا لِأَشْيَاءَ عَدَّدَهَا " زَعَمَ عَمْرٌ وَأَنْ لَا يَحْفَظُهَا ، فَقَالَ : " أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ وَالْإِبِلِ ، وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى رِحَالِكُمْ الْأَنْصَارُ شِعَارٌ ، وَالنَّاسُ دِثَارٌ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا ، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهُمْ ، إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ " .عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے عباد بن تمیم سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین فتح کیا، غنائم تقسیم کیے تو جن کی تالیف قلب مقصود تھی ان کو (بہت زیادہ) عطا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی کہ انصار بھی اتنا لینا چاہتے ہیں جتنا دوسرے لوگوں کو ملا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ان کو خطاب فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اے گروہ انصار! کیا میں نے تم کو گمراہ نہیں پایا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمہیں ہدایت نصیب فرمائی! اور تمہیں محتاج و ضرورت مند نہ پایا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمہیں غنی کر دیا! کیا تمہیں منتشر نہ پایا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمہیں متحد کر دیا!“ ان سب نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی بڑھ کر احسان فرمانے والے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے جواب نہیں دو گے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ احسان کرنے والے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھی، اگر چاہو تو کہہ سکتے ہو ایسا تھا ایسا تھا اور معاملہ ایسے ہوا، ایسے ہوا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی باتیں گنوائیں، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس حالت میں آئے کہ آپ کو جھٹلایا گیا تھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیا گیا تھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھکانہ مہیا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ذمہ داریوں کا بوجھ تھا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مواسات کی) عمرو (بن یحییٰ) کا خیال ہے وہ انہیں یاد نہیں رکھ سکے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی نہیں ہوتے کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے کر گھروں کو جاؤ؟ انصار قریب تر ہیں اور لوگ ان کے بعد ہیں (شعار وہ کپڑے جو سب سے پہلے جسم پر پہنے جاتے ہیں، دثار وہ کپڑے جو بعد میں اوڑھے جاتے ہیں) اور اگر ہجرت (کا فرق) نہ ہوتا تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا اور اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور ان کی گھاٹی میں چلوں گا، بلاشبہ تم میرے بعد (خود پر دوسروں کو) ترجیح ملتی پاؤ گے تو صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھے حوض پر آملو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
شعار: وہ کپڑا جو جسم پر لگتا ہے یعنی اندرونی کپڑا، مقصود یہ ہے انصار میرے خصوصی اور جگری، قابل اعتماد ساتھی ہیں۔
(2)
دثار: اوپر والا یعنی بیرونی کپڑا، عام لوگ دوسرے درجہ پر اور انصار کے بعد ہیں۔
فوائد ومسائل: 1۔
بعض دفعہ کوئی معاملہ یا رویہ ساتھیوں کے لیے غلط فہمی کا باعث بن جاتا ہے۔
جس کی وجہ سے ان کے جذبات مشتعل ہو جاتے ہیں۔
تو ایسے وقت میں اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ ان کے سامنے معاملے کی اصل حقیقت کھول کر بیان کی جائے تاکہ ان کی غلط فہمی دور کی جائے اور جذبات ٹھنڈے پڑ جائیں۔
اگر معاملہ پرفوری طور پر قابو نہ پایا جائے اور ساتھیوں کو مطمئن کرنے کی کوشش نہ کی جائے تو معاملہ آہستہ آہستہ سنگین ہو جاتا ہے۔
بدظنیاں بڑھتی رہتی ہیں اور کسی دن جذبات کا لاوا پھٹ جاتا ہے اور نئے نئے مسائل جنم لیتے ہیں جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے عام طور پر اصحاب اقتدار اپنے ساتھیوں کو اعتماد میں نہیں لیتے اور آہستہ آہستہ دلوں میں کدورت اور بغض پیدا ہوتا رہتا ہے جو کسی بھی ضرورت کے وقت خرابی کا باعث بن جاتا ہے۔
نیز اولین حیثیت دین وایمان اور عقیدہ کو حاصل ہے کیونکہ وہ اعتماد کی بنیاد ہے۔
اگراعتماد برقرار ہوتو ساتھیوں کوراضی اور مطمئن کرنا آسان ہے اوربد اعتمادی کی فضاء میں راضی کرنا آسان نہیں ہے۔
جبکہ آج کل اول و آخر حیثیت مالی مفادات کوحاصل ہے جن کو مالی مفادات نہیں ملتے وہ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔
اور مالی مفادات کی خاطر دشمن کو بھی دوست بنا لیتے ہیں۔
اس لیے تمام معاملات دگرگوں ہوگئے ہیں اور اتحاد ویگانت کا فقدان ہے۔
2۔
آپ نے واقعہ حنین میں جس ترجیح اور برتری سے انصار کو آگاہ فرمایا تھا وہ شیخین(ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
کے ادوار کے بعد ظاہر ہوگیا۔
حکومتی اور انتظامی ادوار میں انہیں نظر انداز کردیاگیا جس کے بُرے اثرات بھی نکلے۔
3۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انصار تم کہہ سکتے ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے آپ کی تکذیب کی اور ہم نے آپ کی تصدیق کی، انہوں نے آپ کو بے یارومددگار چھوڑدیا، ہم نے آپ کی نصرت وحمایت کی، انہوں نے آپ کو نکال دیا اور ہم نے آپ کو جگہ دی، ضرورت کے وقت ہم نے آپ کی ہمدردی اورغمگساری کی، لیکن انہوں نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان ہے۔
بہرحال آپ نے ہر اعتبار سے انصار کی دل جوئی فرمائی اور ان کو اپنے قریبی اور خصوصی ساتھی ہونے کا احساس دلوایا اور بتایا میرا مرنا، جینا تمہارے ہی ساتھ ہے۔
میرے دل میں تمہاری محبت احترام میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوئی اور دوسرے مجھے تم سے قریب اور عزیز نہیں ہوگئے ہیں۔
میں نےمحض ان کی تالیف قلبی کے لیے ان کو مال دیا ہے اور تمہیں تالیف قلبی کی ضرورت نہیں ہے۔
کہتے ہیں مسیلمہ کذاب کو انہوں نے ہی ماراتھا۔
یہ واقعہ حرہ سنہ63 ھ میں یزید کی فوج کے ہاتھ سے شہید ہوئے۔
روایت میں آنحضرت ﷺ کے مال کے تقسیم کر نے کا ذکر ہے۔
آپ نے یہ مال قریش کے ان لوگو ں کو دیا تھاجو نومسلم تھے، ابھی ان کا اسلام مضبوط نہیں ہوا تھا، جیسے ابوسفیان، سہیل، حویطب، حکیم بن حزام، ابو السنابل، صفوان بن امیہ، عبد الرحمن بن یربوع وغیرہ۔
شعار سے مراد استر میں سے نیچے کا کپڑا اور دثار سے ابرہ یعنی اوپر کا کپڑا مراد ہے۔
انصار کے لیے آپ نے یہ شرف عطا فرمایا کہ ان کو ہر وقت اپنے جسم مبارک سے لگے ہوئے کپڑے کے مثل قرار دیا۔
فی الواقع قیامت تک کے لیے یہ شرف انصار مدینہ کو حاصل ہے کہ آپ ان کے شہر میں آرام فرما رہے ہیں۔
(ﷺ)
1۔
فتح مکہ کے وقت کچھ لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے، ان کا اسلام کمزورتھا، ان کے دل جمانے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے انھیں بہت سا مال دیا، انھیں مؤلفۃ القلوب کہا جاتا ہے۔
مؤرخین نے چالیس سے کچھ زیادہ حضرات کے نام ذکر کیے ہیں۔
اس تقسیم پر انصار غمناک ہوئے تو آپ نے انھیں حقیقت حال سے خبردار کیا، پھر آپ نے انصار کی دل جوئی فرمائی جس سے یہ حضرات خوش ہوگئے۔
رسول اللہ ﷺ نے مزید تواضع اور انکسار کرتے ہوئے فرمایا: ’’اگرتم چاہو تو کہہ سکتے ہو کہ آپ ہمارے پاس آئے، لوگوں نے آپ کو جھوٹا کہا، لیکن ہم نے آپ کو سچا جانا۔
آپ کمزور تھے ہم نے آپ کی مدد کی۔
آپ تنہا تھے ہم نے آپ کو جگہ دی اورآپ کی ہرطرح سے موافقت کی۔
‘‘ یہ سب کچھ آپ نے بطور تواضع فرمایا تھا ورنہ نصرت ومواسات وغیرہ اللہ کی توفیق اور اس کی عنایات کا نتیجہ تھا۔
بہرحال رسول اللہ ﷺ نے انصار کو خبردار کیا کہ اللہ تعالیٰ کا تم پر بڑا احسان ہے، اس سے غفلت نہ کرو، دنیا فانی کے اسباب لے کر کیا کرو گے اور انھیں کب تک استعمال کرو گے۔
(فتح الباري: 64/8)