صحيح مسلم
كتاب الزكاة— زکاۃ کے احکام و مسائل
باب إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الإِسْلاَمِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ: باب: قوی الایمان لوگوں کو صبر کی تلقین۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ ، وَصَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ ، وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ ، وَالْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ ، كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ، وَأَعْطَى عَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ دُونَ ذَلِكَ ، فَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ : أنجْعَلُ نَهْبِي وَنَهْبَ الْعُبَيْدِ بَيْنَ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعِ فَمَا كَانَ بَدْرٌ وَلَا حَابِسٌ يَفُوقَانِ مِرْدَاسَ فِي الْمَجْمَعِ وَمَا كُنْتُ دُونَ امْرِئٍ مِنْهُمَا وَمَنْ تَخْفِضْ الْيَوْمَ لَا يُرْفَعِ ، قَالَ : فَأَتَمَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً ،محمد بن ابی عمر مکی نے کہا: سفیان (بن عینیہ) نے ہمیں عمر بن سعید بن مسروق سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (سعید بن مسروق) سے، انہوں نے عبایہ بن رفاعہ سے اور انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان بن حرب، صفوان بن امیہ، عینیہ بن حصین اور اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ میں سے ہر ایک کو سو سو اونٹ دیے اور عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ کو اس سے کم دیے تو عباس بن مرداس نے (اشعار میں) کہا: کیا آپ میری اور میرے گھوڑے عبید کی غنیمت عینیہ (بن حصین بن حذیفہ بن بدر سید بن غطفان) اور اقرع (بن حابس رئیس تمیم) کے درمیان قرار دیتے ہیں، حالانکہ (عینیہ کے پردادا) بدر اور (اقرع کے والد) حابس کسی (بڑوں کے) مجمع میں (میرے والد) سے فوقیت نہیں رکھتے تھے اور میں ان دونوں میں سے کسی سے کم نہیں ہوں اور جس کو پست قرار دیا جائے گا اس کو بلند نہیں کیا جا سکے گا۔ کہا: اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھی سو پورے کر دیے۔
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ ، فَأَعْطَى أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ وَأَعْطَى عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ مِائَةً ،مصنف اسی سند سے اپنے دوسرے استاد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے حنین کی غنیمتیں تقسیم کیں ابو سفیان بن حرب کو سو اونٹ دیے، آگے اوپر والی روایت بیان کی اور اتنا اضافہ کیا اور آپﷺ نے علقمہ بن علاثہ کو سو اونٹ دیے۔
وحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ ، وَلَا صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ ، وَلَمْ يَذْكُرِ الشِّعْرَ فِي حَدِيثِهِ .مصنف نے مذکورہ سند سے اپنے دوسرے استاد سے روایت بیان کرتے ہیں لیکن اس میں علقمہ بن علاثہ اور صفوان بن امیہ کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی شعروں کا تذکرہ ہے۔