صحيح مسلم
كتاب الزكاة— زکاۃ کے احکام و مسائل
باب إِعْطَاءِ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ عَلَى الإِسْلاَمِ وَتَصَبُّرِ مَنْ قَوِيَ إِيمَانُهُ: باب: قوی الایمان لوگوں کو صبر کی تلقین۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أُنَاسًا مِنْ الْأنْصَارِ قَالُوا يَوْمَ حُنَيْنٍ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ ، فَقَالُوا : يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا ، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : فَحُدِّثَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِهِمْ ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ ؟ " فَقَالَ لَهُ فُقَهَاءُ الْأَنْصَارِ : أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا ، وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ قَالُوا : يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ يُعْطِي قُرَيْشًا ، وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ ، أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ ، وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ ، فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ " ، فَقَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا ، قَالَ : " فَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ أَثَرَةً شَدِيدَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ " ، قَالُوا : سَنَصْبِرُ ،یونس نے ابن شہاب (زہری) سے خبر دی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حنین کے دن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور فے (قبیلہ) ہوازن کے وہ اموال عطا کیے جو عطا کیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے لوگوں کو سو سو اونٹ دینے شروع کیے تو انصار میں سے کچھ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف فرمائے! آپ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں، حالانکہ ہماری تلواریں (ابھی تک) ان کے خون کے قطرے ٹپکا رہی ہیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کی باتوں میں سے یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئیں تو آپ نے انصار کو بلوا بھیجا اور انہیں چمڑے کے ایک (بڑے) سائبان (کے سائے) میں جمع کیا، جب وہ سب اکٹھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”یہ کیا بات ہے جو مجھے تم لوگوں کی طرف سے پہنچی ہے؟“ انصار کے سمجھدار لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارے اہل رائے تو کچھ نہیں کہتے، البتہ ہم میں سے ان لوگوں نے، جو نو عمر ہیں، یہ بات کہی ہے کہ اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف فرمائے، وہ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں، حالانکہ ہماری تلواریں (ابھی تک) ان کے خون کے قطرے ٹپکا رہی ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان کو دے رہا ہوں جو کچھ عرصہ قبل تک کفر پر تھے، ایسے لوگوں کی تالیف قلب کرنا چاہتا ہوں، کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گھروں کی طرف لوٹو؟ اللہ کی قسم! جو کچھ تم لے کر واپس جا رہے ہو وہ اس سے بہت بہتر ہے جسے وہ لوگ لے کر لوٹ رہے ہیں۔“ تو (انصار) کہنے لگے: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ہم (بالکل) راضی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تم (اپنی نسبت دوسروں کو) بہت زیادہ ترجیح ملتی دیکھو گے تو تم (اس پر) صبر کرنا یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آملو۔ میں حوض پر ہوں گا (وہیں ملاقات ہو گی۔)“ انصار نے کہا: ہم (ہر صورت میں) صبر کریں گے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مَا أَفَاءَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ " ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : فَلَمْ نَصْبِرْ ، وَقَالَ : " فَأَمَّا أُنَاسٌ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ " ،صالح نے ابن شہاب (زہری) سے روایت کی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے کہا: جب اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو (قبیلہ) ہوازن کے اموال میں سے بطور فے عطا فرمایا جو عطا فرمایا۔۔۔ اور اس (پچھلی حدیث کے) مانند حدیث بیان کی، اس کے سوا کہ انہوں (صالح) نے کہا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے صبر نہ کیا۔ اور انہوں نے (اور ہم میں سے ان لوگوں نے جو نو عمر ہیں، کے بجائے) ”نو عمر لوگوں نے“ کہا۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بمثله ، إلا أَنَّهُ قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : قَالُوا : نَصْبِرُ ، كَرِوَايَةِ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ .امام صاحب ایک دوسرے استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں اس میں ”سنصبر‘‘ کی جگہ ”نَصبِرُ‘‘ ہے ہم صبر کریں گے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ ، فَقَالَ : " أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ ، فَقَالُوا : لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ ابْنَ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ، فَقَالَ : إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ ، وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا ، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى بُيُوتِكُمْ ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا ، وَسَلَكَ الْأَنْصَارُ شِعْبًا ، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ " .قتادہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو جمع فرمایا اور پوچھا: ”کیا تم میں تمہارے سوا کوئی اور بھی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: نہیں، ہمارے بھانجے کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کا بھانجا ان میں سے ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریش تھوڑے دن قبل جاہلیت اور (گمراہی) کی مصیبت میں تھے اور میں نے چاہا کہ ان کو (اسلام پر) پکا کروں اور ان کی دلجوئی کروں، کیا تم اس پر خوش نہیں ہو گے کہ لوگ دنیا واپس لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے گھروں کو لوٹو؟ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ ، قَسَمَ الْغَنَائِمَ فِي قُرَيْشٍ ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ : إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ ، وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ ، فَقَالَ : " مَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكُمْ ؟ " ، قَالُوا : هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ ، وَكَانُوا لَا يَكْذِبُونَ ، قَالَ : " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا إِلَى بُيُوتِهِمْ ، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى بُيُوتِكُمْ ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا ، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا ، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ ، أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ " .حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہو گیا اور (حنین کی) غنیمتیں قریش میں تقسیم کی گئی تو انصار نے کہا یہ کس قدر تعجب خیز بات ہے کہ ہماری تلواروں سے ان کے خون ٹپک رہے ہیں (اور ہماری غنیمتیں) ان کو دی جا رہی ہیں یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپﷺ نے ان کو جمع کیا۔ اور فرمایا: ”وہ کیا بات ہے جو تمھاری طرف سے مجھ تک پہنچی ہے؟‘‘ انھوں نے کہا۔ بات وہی ہے جو آپﷺ تک پہنچ چکی ہے۔ کیونکہ وہ لوگ جھوٹ نہیں بولتے تھے، آپﷺ نے فرمایا: ”کیا تم خوش نہیں ہو کہ لوگ اپنے گھروں کو دنیا لے کر لوٹیں اور تم اپنے گھروں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر لوٹو۔ اگر لوگ وادی یا درہ میں چلیں اور انصار دوسری وادی یا درہ میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا انصار کے درہ میں چلوں گا۔‘‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، يزيد أحدهما على الآخر الحرف بعد الحرف ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ ، أَقْبَلَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ وَغَيْرُهُمْ بِذَرَارِيِّهِمْ وَنَعَمِهِمْ ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ عَشَرَةُ آلَافٍ وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ ، فَأَدْبَرُوا عَنْهُ حَتَّى بَقِيَ وَحْدَهُ ، قَالَ : فَنَادَى يَوْمَئِذٍ نِدَاءَيْنِ لَمْ يَخْلِطْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ، قَالَ : فَالْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ ، قَالَ : ثُمَّ الْتَفَتَ عَنْ يَسَارِهِ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، قَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ ، قَالَ : وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ فَنَزَلَ ، فَقَالَ : أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ كَثِيرَةً ، فَقَسَمَ فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالطُّلَقَاءِ ، وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ : إِذَا كَانَتِ الشِّدَّةُ فَنَحْنُ نُدْعَى وَتُعْطَى الْغَنَائِمُ غَيْرَنَا ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ ؟ فَسَكَتُوا ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا ، وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ تَحُوزُونَهُ إِلَى بُيُوتِكُمْ ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ رَضِينَا ، قَالَ : فَقَالَ : لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا ، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا ، لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ " ، قَالَ هِشَامٌ : فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَنْتَ شَاهِدٌ ذَاكَ ؟ ، قَالَ : وَأَيْنَ أَغِيبُ عَنْهُ ،ہشام بن زید بن انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب حنین کی جنگ ہوئی تو حوازن اور غطفان اور دوسرے لوگ اپنے بیوی بچوں اور مویشیوں کو لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس روز دس ہزار (اپنے ساتھی) تھے اور وہ لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جنہیں (فتح مکہ کے موقع پر غلام بنانے کی بجائے) آزاد کیا گیا تھا۔ یہ آپ کو چھوڑ کر پیچھے بھاگ گئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے، کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن (مہاجرین کے بعد انصار کو) دو دفعہ پکارا، ان دونوں کو آپس میں زرہ برابر گڈ مڈ نہ کیا، آپ دائیں طرف متوجہ ہوئے اور آواز دی: ”اے جماعت انصار!“ انہوں نے کہا: لبیک، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو جائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے جماعت انصار!“ انہوں نے کہا: لبیک، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو جائیے، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ (اس وقت) سفید خچر پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے اور فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔“ چنانچہ مشرک شکست کھا گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت کے بہت سے اموال حاصل کیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (فتح مکہ سے زرا قبل) ہجرت کرنے والوں اور (فتح مکہ کے موقع پر) آزاد رکھے جانے والوں میں تقسیم کر دیا اور انصار کو کچھ نہ دیا، اس پر انصار نے کہا: جب سختی اور شدت کا موقع ہو تو ہمیں بلایا جاتا ہے۔ اور غنیمتیں دوسروں کو دی جاتی ہیں! یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی، اس پر آپ نے انہیں سائبان میں جمع کیا اور فرمایا: ”اے انصار کی جماعت! وہ کیا بات ہے جو مجھے تمہارے بارے میں پہنچی ہے؟“ وہ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انصار کی جماعت! کیا تم اس بات پر راضی نہ ہو گے کہ لوگ دنیا لے کر جائیں اور تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جمعیت میں شامل کر کے اپنے ساتھ گھروں کو لے جاؤ۔“ وہ کہہ اٹھے: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ہم (اس پر) راضی ہیں۔ کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں، تو میں انصار کی وادی کو اختیار کروں گا۔“ ہشام نے کہا میں نے پوچھا: ابوحمزہ ! (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت) آپ اس کے (عینی) شاہد تھے؟ انہوں نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر کہاں غائب ہو سکتا تھا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي السُّمَيْطُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : افْتَتَحْنَا مَكَّةَ ، ثُمَّ إِنَّا غَزَوْنَا حُنَيْنًا ، فَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ بِأَحْسَنِ صُفُوفٍ رَأَيْتُ ، قَالَ : فَصُفَّتِ الْخَيْلُ ، ثُمَّ صُفَّتِ الْمُقَاتِلَةُ ، ثُمَّ صُفَّتِ النِّسَاءُ مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ ، ثُمَّ صُفَّتِ الْغَنَمُ ، ثُمَّ صُفَّتِ النَّعَمُ ، قَالَ : وَنَحْنُ بَشَرٌ كَثِيرٌ قَدْ بَلَغْنَا سِتَّةَ آلَافٍ ، وَعَلَى مُجَنِّبَةِ خَيْلِنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : فَجَعَلَتْ خَيْلُنَا تَلْوِي خَلْفَ ظُهُورِنَا ، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنِ انْكَشَفَتْ خَيْلُنَا ، وَفَرَّتِ الْأَعْرَابُ وَمَنْ نَعْلَمُ مِنَ النَّاسِ ، قَالَ فَنَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا لَلْمُهَاجِرِينَ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا لَلْأَنْصَارِ يَا لَلْأَنْصَارِ " ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : هَذَا حَدِيثُ عِمِّيَّةٍ ، قَالَ : قُلْنَا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَايْمُ اللَّهِ مَا أَتَيْنَاهُمْ حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ " ، قَالَ : فَقَبَضْنَا ذَلِكَ الْمَالَ ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى الطَّائِفِ فَحَاصَرْنَاهُمْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَكَّةَ فَنَزَلْنَا ، قَالَ : فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ ، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ كَنَحْوِ حَدِيثِ قَتَادَةَ ، وَأَبِي التَّيَّاحِ ، وَهِشَامِ بْنِ زَيْدٍ .سمیط نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم نے مکہ فتح کر لیا، پھر ہم نے حنین میں جنگ کی، میرے مشاہدے کے مطابق مشرک بہترین صف بندی کر کے (مقابلہ میں) آئے۔ پہلے گھڑ سواروں کی صف بنائی گئی، پھر جنگجوؤں (لڑنے والوں) کی، پھر اس کے پیچھے عورتوں کی صف بنائی گئی، پھر بکریوں کی قطاریں کھڑی کی گئیں، پھر اونٹوں کی قطاریں۔ کہا: اور ہم (انصار) بہت لوگ تھے، ہماری تعداد چھ ہزار کو پہنچ گئی تھی اور ہمارے پہلو کے سواروں پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ ہمارے گھڑ سوار ہماری پشتوں کی طرف مڑنے لگے اور کچھ دیر نہ گزری تھی کہ ہمارے سوار بکھر گئے اور بدو بھی بھاگ گئے اور وہ لوگ بھی جن کو ہم جانتے ہیں (مکہ کے نو مسلم) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی: ”اے مہاجرین! اے مہاجرین!“ پھر فرمایا: ”اے انصار! اے انصار!“ کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ (میرے اپنے مشاہدے کے علاوہ جنگ میں شریک لوگوں کی) جماعت کی روایت ہے۔ کہا: ہم نے کہا: لبیک، اے اللہ کے رسول! اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، اور ہم اللہ کی قسم! ان تک پہنچے بھی نہ تھے کہ اللہ نے ان کو شکست سے دوچار کر دیا، اس پر ہم نے اس سارے مال پر قبضہ کر لیا، پھر ہم طائف کی طرف روانہ ہوئے اور چالیس دن تک ان کا محاصرہ کیا، پھر ہم مکہ واپس آئے اور وہاں پڑاؤ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سو اونٹ (کے حساب سے) دینے کا آغاز فرمایا۔۔۔ پھر حدیث کا باقی حصہ اسی طرح بیان کیا جس طرح (اوپر کی روایات میں) قتادہ، ابوتیاح اور ہشام بن زید کی روایت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
سُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ: عربی محاورہ ہے جس میں مبالغہ مطلوب ہوتا ہے۔
لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ہماری تلواریں ان کے خونوں سے ٹپک رہی ہیں مگر مقصود ہوتا ہے ان کے خون ہماری تلواروں سے رواں دواں ہیں ہماری تلواریں ان کے خونوں سے رنگین ہیں۔
ان کے پہلے جرائم پر ان سے کوئی گرفت نہیں کی جیسے ابو سفیان، ان کے بیٹے معاویہ، حکیم بن حزام رضي اللہ عنهم وغیرہ۔
ان لوگوں کو عام معافی دے دی گئی اور ان کو بہت نوازا بھی گیا۔
بعد میں یہ حضرات اسلام کے سچے جاں نثار مددگار ثابت ہوئے اور ﴿كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ﴾ کا نمونہ بن گئے۔
انصار کے لیے آپ نے جو شرف عطا فرمایا دنیا کا مال ودولت اس کے مقابلہ پر ایک بال برابر بھی وزن نہیں رکھتا تھا۔
چنانچہ انصار نے بھی اس کو سمجھا اور اس شرف کی قدر کی اور اول سے آخر تک آپ کے ساتھ پوری وفاداری کا برتاؤ کیا، رضي اللہ عنهم ورضوا عنه اسی کا نتیجہ تھا کہ وفات نبوی کے بعد جملہ انصار نے بخوشی ورغبت خلفائے قریش کی اطاعت کو قبول کیا اور اپنے لیے کوئی منصب نہیں چاہا۔
﴿صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ جنگ حنین میں حضرت ابو سفیان ؓ آنحضرت ﷺ کی سواری کی لگام تھامے ہوئے تھے۔
1۔
طلقاء، طليق کی جمع ہے۔
اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھیں فتح مکہ کے موقع پر آپ نے نہ قتل کیا اور نہ انھیں قیدی ہی بنایا لیکن ان پر احسان فرماتے ہوئے آزاد کردیا اور فرمایا: "آج تم پر کوئی ملامت نہیں تم آزاد ہو۔
" (عمدة القاري: 306/12)
ان حضرات پر سابقہ جرائم کے متعلق بھی کوئی گرفت نہ کی گئی بلکہ انھیں عام معافی سے نوازاگیا۔
انھیں گرانقدر عطیے دیے گئے۔
اس کا اثر یہ ہوا کہ اس کے بعد وہ جاں نثار مددگار ثابت ہوئے۔
2۔
انصار کو رسول اللہ ﷺ نے جو شرف عطا فرمایا اس کے مقابلے میں دنیا کا مال ایک بال برابربھی وزن نہیں رکھتا تھا۔
انصار نے بھی اس حقیقت کو سمجھا اور اس شرف کی قدر کی، پوری وفاداری کے ساتھ اس عہد کونبھایا۔
چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جملہ انصار نے خلفائے قریش کی اطاعت کو قبول کیا اور اپنے لیے کسی بھی منصب کا مطالبہ نہیں کیا۔
رضوان اللہ عنھم أجمعین۔
حکومت کے پاس اگر کچھ زمین فالتو ہو تو وہ پبلک میں کسی کو بھی اس کی ملی خدمات کے صلہ میں دے سکتی ہے۔
یہی مقصد باب ہے۔
مستقبل کے لیے آپ نے انصار کو ہدایت فرمائی کہ وہ فتنوں کے دور میں جب عام حق تلفی دیکھیں خاص طور پر اپنے بارے میں ناساز گار حالات ان کے سامنے آئیں تو ان کو چاہئے کہ صبر و شکر سے کام لیں۔
ان کے رفع درجات کے لیے یہ بڑا بھاری ذریعہ ہوگا۔
(1)
کسی کو اس کی خدمات کے صلے میں حکومت کی طرف سے جاگیرداری جا سکتی ہے، لیکن دور حاضر میں سیاسی شعبدہ بازوں کو بہترین زمینیں اور قیمتی پلاٹ ملتے ہیں۔
ہمارے ہاں ملکی سیاست کا دارومدار اسی سیاسی رشوت پر ہے۔
بہرحال زمانۂ قدیم سے یہ عادت ہے کہ بادشاہ کی طرف سے خاص لوگوں کو غیر آباد زمینیں دی جاتی تھیں جنہیں وہ محنت کر کے آباد کر لیتے اور وہ ان کے مالک قرار پاتے، بطور ملکیت ان سے فائدہ اٹھاتے۔
(2)
واضح رہے کہ بحرین سے مراد آج کل والا بحرین نہیں بلکہ عہد نبوی کے بحرین میں سعودی عرب کا مشرقی صوبہ شامل تھا جس میں الخبر، الدمام اور ظہران وغیرہ کے علاقے ہیں۔
بہرحال حاکم وقت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی کو اس کی خدمات کے صلے میں کوئی جاگیر دے دے۔
اہل مکہ یعنی قریش فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے۔
ان کی تالیف قلب کے لیے آپ نے انھیں عطیات دیے۔
اس سے معلوم ہوا کہ مال غنیمت اور خمس امام وقت کی صوابدید پر موقوف ہے وہ جہاں مناسب خیال کرے تقسیم کرنے کا مجاز ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ کوعطیات دیتے وقت اپنے اختیارات استعمال کیے تھے۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ انصار میں سے سمجھ دار لوگوں نے رسول اللہ ﷺسے بایں الفاظ میں معذرت کی کہ ہمارے سرداروں نے تو یہ بات نہیں کی البتہ کچھ نوجوان اور کم عقل لوگوں نے ایسی باتیں ضرور کی ہیں پھر انھوں نے بالا تفاق اپنے جذبات کا اظہار کیا کہ ہم اس اعزاز اور فضیلت پر دل کی گہرائیوں سے خوش ہیں۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4331)
2۔
میدان یا گھاٹی میں چلنے کا مطلب یہ ہے کہ میں سفر و حضر اور موت و حیات میں تمھارے ساتھ رہوں گا۔
کیا یہ اعزاز انصار کے لیے کافی نہیں؟ چنانچہ انھوں نے اس پر اپنی رضا مندی کا اظہار کیا۔
اس سے ان کی پیروی کرنا مقصود نہیں کیونکہ آپ ہی واجب اطاعت ہیں ہر مرد و عورت پر آپ کی پیروی فرض ہے۔
واللہ اعلم۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "انصار میرے لیے استر ہیں اور دوسرے لوگ ابرہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
" پھر آپ نے انصار کے لیے دعا فرمائی: "اے اللہ!انصار، ان کے بیٹوں اور پوتوں پر رحمت نازل فرما۔
" اس پر انصاربہت خوش ہوئے۔
یہ خطاب سن کو وہ خوشی سے اس قدر روئے کہ ان کی داڑھیاں ترہوگئیں اور کہنے لگے: ہم راضی ہیں کہ ہمارے حصے اور نصیب میں رسول اللہ ﷺ ہوں۔
(مسند أحمد: 77/3، وفتح الباري: 65/8)
ان کی آ واز بلند تھی۔
انہوں نے پکارا اے شجرہ رضوان والو! تم کہاں چلے گئے ہو، ان کی پکار سنتے ہی یہ لوگ ایسے لپکے جیسے گائیں شفقت سے اپنے بچوں کی طرف دوڑتی ہیں۔
سب کہنے لگے ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں۔
1۔
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اے عباس ؓ!اصحاب شجرہ کو آواز دو۔
" آپ بہت بلند آواز تھے۔
انھوں نے اونچی آواز سے کہا: اصحاب ِشجرہ کہاں ہیں؟ ان کی آواز سنتے ہی بیعت کرنے والے ایسے لپکے جیسے گائیں اپنے بچوں کی طرف دوڑتی ہیں۔
سب کہنے لگے: ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں۔
پھر گھمسان کا رن پڑا تو رسول اللہ ﷺ نے کنکریاں مٹھی میں لے کر کافروں کے منہ پر دے ماریں اور فرمایا: ’’مجھے محمدﷺ کے رب کی قسم! کافرشکست کھا گئے ہیں۔
‘‘ اس کے بعد کفار کو شکست سے دوچارہونا پڑا۔
(صحیح مسلم، الجھاد، حدیث: 4612(1775)
2۔
اس غزوے میں رسول اللہ ﷺ اکیلے نہیں بلکہ آپ کے ساتھ آدمی تھے۔
آپ کا ارادہ ہوا کہ دشمن پرٹوٹ پڑیں، اس لیے آپ اکیلے بڑھے مگر ابوسفیان بن حارث آپ کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھے۔
انھوں نے آپ کو آگے نہ جانے دیا، حضرت عباس ؓ بھی آپ کے ہمراہ تھے۔
ان لوگوں کے نام یہ تھے۔
ابوسفیان، معاویہ بن ابی سفیان، حکیم بن حزام، حارث بن حارث، حارث بن ہشام، سہل بن عمرو، حویطب بن عبدالعزی، علاءبن حارثہ ثقفی، عیینہ بن حصین، صفوان بن امیہ، اقرع بن حابس، مالک بن عوف، ان حضرات کو رسول کریم ﷺ نے جو بھی کچھ دیا اس کا ذکر صرف تاریخ میں باقی رہ گیا، مگرانصار کو آپ نے اپنی ذات گرامی سے جو شرف بخشا وہ رہتی دنیا تک کے لیے درخشاں و تاباں ہے۔
جس شرف کی برکت سے مدینۃ المنورہ کو وہ خاص شرف حاصل ہے جو دنیا میں کسی بھی شہر کو نصیب نہیں۔
اموال ہوازن کے متعلق جو غنیمت میں حاصل ہوا، صاحب ''لمعات '' لکھتے ہیں۔
ما أفاءاللہ في هذا الإبهام تفخیم و تکثیر لما أفاء فإن الفيئ الحاصل منهم کان عظیماً کثیراً مما لایعد ولایحصی و جاء في الروایات سنة آلاف من السبي وأربع و عشرون ألفا من الإبل وأربعۃ آلاف أوقیة من الفضة وأکثر أربعین ألف شاة الخ (حاشیۃ بخاری، کراتشی ج: 1، ص: 445)
یعنی اموال ہوازن اس قدر حاصل ہوا جس کا شمار کرنا بھی مشکل ہے۔
روایات میں قیدیوں کی تعداد چھ ہزار، اور چوبیس ہزار اونٹ اور چار ہزار اوقیہ چاندی اور چالیس ہزار سے زیادہ بکریاں مذکور ہوئی ہیں۔
1۔
جن لوگوں کو رسول اللہ ﷺنے عطا کیا تھا وہ قریش کے سردار اور رئیس تھے جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کی دلجوئی کے پیش نظر انھیں بہت سامال دیا۔
ان کے دلوں کو اسلام کی طرف مزید مائل کرنا مقصود تھا تاکہ وہ اسلام پر ثابت قدم رہیں۔
ایسے حالات میں انھیں زکاۃ دینا بھی جائز تھا جیسا کہ قرآن کریم نے بیان کیا ہے ان حضرات کو جو کچھ دیا گیا اس کا ذکر صرف تاریخ میں با قی رہ گیا مگر انصار کو آپ نے اپنی ذات گرامی سے جو شرف بخشا وہ رہتی دنیا تک کے لیے درخشاں و تاباں ہے۔
اس شرف کی برکت سے مدینہ طیبہ کو وہ اعزاز ملا جو دنیا میں کسی بھی شہر کو نصیب نہیں ہو سکا۔
2۔
رسول اللہ ﷺ کو غزوہ حنین کےموقع پر اس قدر مال غنیمت ملا جس کا شمار مشکل ہے روایات میں قیدیوں کی تعداد چھ ہزارچوبیس ہزار اونٹ، چارہزار اوقیے چاندی اور چالیس ہزار سے زیادہ بکریوں کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ ﷺنے اپنے صوابدیدی اختیارات کے مطابق مال غنیمت مؤلفہ القلوب میں تقسیم کیا اور جن لوگوں نے اس پر اعتراض کیا وہ کامل الایمان نہیں تھے۔
تقریباً دس ہزار احا دیث ان سے مروی ہیں۔
بغداد میں ان کی مجلس درس میں شرکاء درس کی تعداد چالیس ہزار ہوتی تھی۔
سنہ140ھ میں پیدا ہوئے اور سنہ158ھ تک طلب حدیث میں سر گرداں رہے۔
انیس سال حماد بن زید نامی استاد کی خد مت میں گذارے۔
سنہ224ھ میں ان کا انتقال ہوا۔
حضرت امام بخاری ؒ کے بزرگ ترین استاذ ہیں، رحمهم اللہ أجمعین۔
1۔
اس غنیمت سے مراد ہوازن کے مال ہیں کیونکہ فتح مکہ میں کوئی غنیمت نہیں تھی جسے تقسیم کیا جاتا۔
2۔
واقدی نے لکھاہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کو بلاکرکہا: ’’آؤ میں تمھیں بحرین کا علاقہ لکھ دیتا ہوں جو تمہارے لیے خاص ہوگا، اس میں اور کسی کا عمل دخل نہیں ہوگا۔
‘‘ اور یہ علاقہ بھی بہترین، زرخیز اور شاداب تھا لیکن انصار نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور عرض کی: اللہ کے رسول ﷺ! ہمیں آپ ہی کافی ہیں، دنیا کے مال ومتاع کی ہمیں ضرورت نہیں۔
(فتح الباري: 64/8)
اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے بھی انصار کے جوار (پڑوس)
کوپسند فرمایا۔
رضي اللہ عنهم ورضو اعنه۔
سند میں حضرت ہشام بن عروہ کا نام آیا ہے۔
یہ مدینہ کے مشہور تابعین میں سے ہیں جن کا شمار اکابر علماء میں ہوتا ہے۔
سنہ61ھ میں پیدا ہوئے اور سنہ146ھ میں بمقام بغداد انتقال ہوا۔
امام زہری بھی مدینہ کے مشہور جلیل القدر تابعی ہیں۔
زہری بن کلاب کی طرف منسوب ہیں کنیت ابو بکر نام محمد بن عبد اللہ بن شہاب ہے، وقت کے بہت بڑے عالم باللہ تھے۔
ماہ رمضان سنہ124ھ میں وفات پائی۔
1۔
رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ ہوازن کے مال میں سے ابوسفیان بن حرب کو سواونٹ دیے، اسی طرح صفوان بن امیہ، عیینہ بن حصن، مالک بن عوف، اقرع بن حابس، علقمہ بن علاثہ اور عباس بن مرداس کو سو، سواونٹ دیے، اس پر انصار کے کچھ لوگ غمزدہ ہوئے اور انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے متعلق قریش نوازی کی باتیں کیں۔
حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے یہ باتیں رسول اللہ ﷺ کوپہنچائیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ان کے متعلق تیرے جذبات کیاہیں؟‘‘ عرض کی: میں بھی تو اس قوم سے تعلق رکھتا ہوں۔
پھر رسول اللہ ﷺ نے انھیں حکم دیا: ’’تمام انصار کو اس چمڑے کے خیمے میں جمع کرو۔
‘‘ آپ نے انھیں وعظ فرمایا اور کہا: ’’تم میرے لیے اس کپڑے کی طرح ہوجو ہروقت جسم سے لگارہتا ہے۔
‘‘ واقعی یہ شرف قیامت تک کے لیے انصار کو حاصل ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کےشہر میں آرام فرما رہے ہیں۔
(فتح الباري: 69/8)
2۔
حدیث کے آخر میں حضرت انس ؓ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کی تلقین کے باوجود انصار نے صبر نہیں کیا۔
شاید ان کا اشارہ کچھ انصار کے اس موقف کی طرف ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت کہا گیا تھا کہ ایک امیر تمہارا اور ایک امیر ہماراہوگا۔
مگر جمہور نے انصار نے اس موقف کو مسترد کردیا اور اس کی موافقت کےبجائے قریش کو تسلیم کرلیا۔
واللہ اعلم۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (فتح مکہ کے وقت) انصار کے کچھ لوگوں کو اکٹھا کیا ۱؎ اور فرمایا: ” کیا تمہارے علاوہ تم میں کوئی اور ہے؟ “ لوگوں نے عرض کیا: نہیں سوائے ہمارے بھانجے کے، تو آپ نے فرمایا: ” قوم کا بھانجا تو قوم ہی میں داخل ہوتا ہے “، پھر آپ نے فرمایا: ” قریش اپنی جاہلیت اور (کفر کی) مصیبت سے نکل کر ابھی نئے نئے اسلام لائے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ کچھ ان کی دلجوئی کروں اور انہیں مانوس کروں، (اسی لیے مال غنیمت میں سے انہیں دیا ہے) کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور تم اللہ کے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3901]
وضاحت:
1؎:
یہ غزوہ حنین کے بعد کا واقعہ ہے، جس کے اندر آپﷺ نے قریش کے نئے مسلمانوں کو مال غنیمت میں سے بطورتالیف قلب عطا فرمایا تو بعض نوجوان انصاری حضرات کی طرف سے کچھ ناپسندیدہ رنجیدگی کا اظہار کیا گیا تھا، اسی پر آپﷺ نے انصار کو جمع کر کے یہ اردشاد فرمایا۔
اس حدیث میں ﴿يُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ ” اور وہ اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت بھی ہو “ (الحشر: 9) کی عملی تفسیر ہے، سبحان اللہ۔
نیز اس حدیث مبارکہ میں یہ بھی ہے کہ حق والے پر دوسرے کو ترجیح دینا غلط ہے، تاریخ بھری پڑی ہے کہ لوگ کس قدر نا انصافیوں سے کام لیتے ہیں، موجودہ دور بھی فتنوں سے لبریز ہے، اور ہر کوئی نااہل کو اہل پر ترجیح دیتا ہے (الا مـن رحـــم ربـی) کیونکہ قرآن و حدیث کے مطابق فیصلے نہیں کیے جاتے، بلکہ اپنے مفاد کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ ایسی ہر صورت حال میں صبر کا دامن نہیں چھوڑ نا چاہیے، بس اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کی اصلاح فرمائے، آمین۔
اس حدیث میں انصار کی فضیلت کا بیان ہے، اور محسن کے احسان کو یاد رکھنا چاہیے، انصار صحابہ رضی اللہ عنہم کی قربانیاں اسلام کی خاطر کس قدر زیادہ ہیں، اگر ان کا احاطہ کیا جائے تو ایک مستقل تاریخ مرتب ہوسکتی ہے، نیز اس حدیث میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہنے سے روکا گیا ہے، اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی گئی ہے۔