صحيح مسلم
كتاب الزكاة— زکاۃ کے احکام و مسائل
باب لَوْ أَنَّ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ لاَبْتَغَى ثَالِثًا: باب: اگر آدم کے بیٹے کے پاس دو وادیاں مال کی ہوں تو وہ تیسری چاہے گا۔
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَعَثَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ إِلَى قُرَّاءِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ثَلَاثُ مِائَةِ رَجُلٍ ، قَدْ قَرَءُوا الْقُرْآنَ ، فَقَالَ " أَنْتُمْ خِيَارُ أَهْلِ الْبَصْرَةِ وَقُرَّاؤُهُمْ فَاتْلُوهُ ، وَلَا يَطُولَنَّ عَلَيْكُمُ الْأَمَدُ ، فَتَقْسُوَ قُلُوبُكُمْ كَمَا قَسَتْ قُلُوبُ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَإِنَّا كُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً كُنَّا نُشَبِّهُهَا فِي الطُّولِ وَالشِّدَّةِ بِبَرَاءَةَ فَأُنْسِيتُهَا ، غَيْرَ أَنِّي قَدْ حَفِظْتُ مِنْهَا لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَكُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً كُنَّا نُشَبِّهُهَا بِإِحْدَى الْمُسَبِّحَاتِ فَأُنْسِيتُهَا ، غَيْرَ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْهَا يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لا تَفْعَلُونَ سورة الصف آية 2 فَتُكْتَبُ شَهَادَةً فِي أَعْنَاقِكُمْ فَتُسْأَلُونَ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل بصرہ کے قاریوں کو بلوایا تو ان کے پاس تین سو (300) آدمی آئے جو قرآن پڑھ چکے تھے تو انھوں نے کہا تم اہل بصرہ کے بہترین افراد اور ان کے قاری ہو قرآن پڑھتے رہا کرو کہیں طویل مدت گزرنے سے تمھارے دل سخت نہ ہو جائیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں کے دل سخت ہو گئے۔ اور ہم ایک سورۃ پڑھا کرتے تھے جسے ہم طوالت اور (وعیدوں) کی سختی میں سورۃ براۃ سے تشبیہ دیا کرتے۔ تو میں اسے بھول گیا ہاں اس کا یہ ٹکڑا مجھے یاد ہے اگر آدمی کے پاس مال کے دو میدان ہوں تو وہ تیسرا میدان چاہے گا اور آدمی کے پیٹ کو مٹی ہی بھرے گی اور ہم ایک سورۃ پڑھا کرتے تھے جس کو ہم مسبحات کی سورت سے تشیبہ دیا کرتے تھے اس کو بھی میں بھلا چکا ہوں ہاں اس سے مجھے یہ یاد ہے ”اے ایمان والو! ایسی بات کا دعوی کیوں کرتے ہو جو کرتے نہیں ہو وہ گواہی کے طور پر تمھاری گردنوں میں لکھ دی جائے گی اور قیامت کے دن تم سے اس کے بارے میں سوال ہو گا۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
مال ودولت کی حرص وہوس عام انسانوں کی گویا فطرت ہے اگر دولت سے ان کا گھر بھی بھرا ہو اور جنگل کے جنگل اور میدان کے میدان بھی بھرے پڑے ہوں تب بھی ان کا دل قانع نہیں ہو تا ہے اور وہ اس میں اور زیادتی اور اضافہ ہی چاہتے ہیں اور زندگی کی آخری سانس تک ان کی ہوس کا یہی حال رہتا ہے اور بس قبر میں ہی جا کر دولت کی اس بھوک اور ہوس سے ان کو چھٹکارا ملتا ہے آج کل کے جاگیر دار، سرمایہ دار و صنعت کار اور سول و فوجی بیورو کریٹس بلکہ ہر تاجر اور دکاندار اور ہر ملازم اس حرص و ہوس کی زندہ مثال بن چکا ہے البتہ جو بندے دنیا اور دنیا کی مال و دولت سے اپنا رخ اللہ کی طرف پھیر لیں اور اس ے اپنا تعلق جوڑ لیں ان پر اللہ کی خصوصی عنایت نازل ہوتی ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ اطمینان قلب غنائے نفس اور قناعت نصیب فرما دیتا ہے۔
(2)
قرآن مجید کی بعض سورتیں آغاز میں آخرت کی فکر اور دنیا سے زہد و بے رغبتی کے سلسلہ میں عارضی طور پر اتریں تھیں لیکن چونکہ ان کا قرآن کی حیثیت سے باقی رہنا منظور نہیں تھا اس لیے وہ رسول اور امت کے ذہن سے اتر گئیں۔
اس لیے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ذہن میں کچھ مفہوم تو محفوظ رہا لیکن ان کے صحیح الفاظ اور قرآنی اسلوب وبلاغت محفوظ نہ رہا اور اب وہ قرآن کا حصہ نہیں ہیں۔
اس لیے قرآن ہونے کی شروط بھی ان کے اندر مفقود ہیں اور مسبحات سے مراد وہ سورتیں ہیں جن کے شروع سبحان کا لفظ یا اس کے مشتقات: (سَبِّحِ، يسبح، سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ)
وغیرہ آئے ہیں۔