حدیث نمبر: 1049
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ مِلْءَ وَادٍ مَالًا ، لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ مِثْلُهُ ، وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ " ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا ، وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ .

مجھے زہیر بن حرب اور ہارون بن عبداللہ نے حدیث سنائی دونوں نے کہا: ہمیں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے عطاء سے سنا کہہ رہے تھے میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہہ رہے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال سے بھری ہوئی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس اس جیسی اور وادی بھی ہو آدمی کے دل کو مٹی کے سوا کچھ اور نہیں بھر سکتا اور اللہ اس پر توجہ فرماتا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہو۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا مجھے معلوم نہیں یہ قرآن میں سے ہے یا نہیں اور زہیر کی روایت میں ہے انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں یہ بات قرآن میں سے ہے (یا نہیں) انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 1049
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6436 | صحيح البخاري: 6437 | معجم صغير للطبراني: 1000

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6437 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6437. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’اگر ابن آدم کے پاس مال کی بھری ہوئی وادی ہو تو وہ خواہش کرے گا کہ اتنا ہی مال اس کے پاس مزید ہو۔ انسان کی آنکھ مٹی کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ اور جو اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔‘‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں کہ یہ ارشادات قرآن سے ہیں یا نہیں۔ انھوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ ارشادات منبر پر کہتے سنا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6437]
حدیث حاشیہ: سورۃ تکاثر کے نزول سے پہلے اس عبارت کو قرآن کی طرح تلاوت کیا جاتا رہا۔
پھر سورۃ تکاثر کے نزول کے بعد اس کی تلاوت منسوخ ہوگئی۔
مضمون ایک ہی ہے انسان کے حرص اور طمع کا بیان ہے۔
احادیث ذیل میں مزید وضاحت موجود ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6437 سے ماخوذ ہے۔