حدیث نمبر: 1045
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ ، فَأَقُولُ : أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا ، فَقُلْتُ : أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْهُ وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ ، وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ " .

یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی مجھے عنایت فرماتے تھے تو میں عرض کرتا: کسی ایسے آدمی کو عنایت فرما دیجئے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو حتیٰ کہ ایک دفعہ آپ نے مجھے بہت سارا مال عطا کر دیا تو میں نے عرض کی: کسی ایسے فرد کو عطا کر دیجئے جو اس کا مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے لو اور ایسا جو مال تمہارے پاس اس طرح آئے کہ نہ تو تم اس کے خواہش مند ہو اور نہ ہی مانگنے والے ہو تو اس کو لے لو اور جو مال اس طرح نہ ملے اس کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ۔“

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يُعْطِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَطَاءَ ، فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ : أَعْطِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ " ، قَالَ سَالِمٌ : فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلَا يَرُدُّ شَيْئًا أُعْطِيَهُ ،

عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عطیہ دیتے تو عمر رضی اللہ عنہ عرض کرتے: اے اللہ کے رسول! یہ مجھ سے زیادہ ضرورت مند شخص کو دے دیجئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لے لو اور اپنا مال بنا لو یا اسے صدقہ کر دو اور اس مال میں سے جو تمہارے پاس اس طرح آئے کہ تم نہ اس کے خواہش مند ہو نہ مانگنے والے تو اس کو لے لو اور جو (مال) اس طرح نہ ملے تو اس کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ۔“ سالم نے کہا: اسی وجہ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی کسی سے کچھ نہیں مانگتے تھے اور جو چیز انہیں پیش کی جاتی تھی اس کو رد نہیں کرتے تھے۔

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ عَمْرٌو ، وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

سائب بن یزید نے عبداللہ بن سعدی سے، انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اسی کے مانند) حدیث بیان کی۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ ، أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ ، فَقُلْتُ : إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ ، فَقَالَ : خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِي ، فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِكَ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ فَكُلْ وَتَصَدَّقْ " ،

لیث نے بکیر سے، انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے ابن ساعدی مالکی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صدقے (کی وصولی) کے لئے عامل مقرر کیا، جب میں اس کام سے فارغ ہوا اور انہیں (وصول کردہ) مال لا کر ادا کر دیا، تو انہوں نے مجھے کام کی اجرت دینے کا حکم دیا۔ میں نے عرض کی: میں نے تو یہ کام محض اللہ کی (رضا کی) خاطر کیا ہے اور میرا اجر اللہ نے دینا ہے۔ تو انہوں نے کہا: جو تمہیں دیا جائے اسے لے لو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کام کیا تھا، آپ نے مجھے میرے کام کی مزدوری دی تو میں نے بھی تمہاری جیسی بات کہی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہیں تمہارے مانگے بغیر کوئی چیز دی جائے تو کھاؤ اور صدقہ کرو۔“

وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ السَّعْدِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ .

عمرو بن حارث نے بکیر بن اشج سے، انہوں نے بسر بن سعید سے اور انہوں نے ابن سعدی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صدقہ وصول کرنے کے لئے عامل بنایا۔۔۔ (آگے) لیث کی حدیث کی طرح (روایت بیان کی۔)

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزكاة / حدیث: 1045
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»